Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / اطمینانِ قلب حاصل کرنے کا طریقہ

اطمینانِ قلب حاصل کرنے کا طریقہ

ہاجرہ منظور

اطمینان قلب ایک ایسا عمل ہے، جس کی قرآن و حدیث میں متعدد جگہ اہمیت و فضیلت بیان کی گئی ہے۔ وہ عمل جس کا حکم قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر دیا ہے۔ وہ عمل جس کو مؤمنین کا وصف قرار دیا گیا ہے۔ وہ عمل جو حصول ثواب اور نجات کا ذریعہ ہے۔ وہ عمل جس میں فائدہ ہی فائدہ ہے، نقصان کا شائبہ بھی نہیں۔ وہ عمل جو مشقت و تکلیف سے خالی ہے۔ وہ عمل جس کے لئے نہ قبلہ کی شرط، نہ وضو، نہ خاص جگہ، نہ خاص مقدار، نہ خاص ہیئت کی قید۔ وہ عمل جس میں فرشتے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں، وہ عمل جس کے عاملین کے لئے اللہ رب العزت نے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ آج کے مادہ پرست دور میں رہنے والے بے چین دلوں کے چین و سکون کے لئے وہ مہتم بالشان عمل ہے، جس کے نسخۂ کیمیاء ہونے کی گواہی خود اللہ پاک نے دی اور فرمایا کہ ’’جان لو کہ اللہ کے ذکر سے اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے‘‘۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو‘‘ اور اس کا حکم متعدد مقامات پر الگ الگ پیرائے میں دیا گیا ہے، جس سے اس کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کہیں فرمایا گیا کہ ’’اپنے رب کے نام کا ذکر کرو‘‘ کہیں فرمایا گیا کہ ’’اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو‘‘ کہیں حکم دیا گیا کہ ’’مجھ کو یاد کرو‘‘ کہیں فرمایا: ’’اپنے رب کی تسبیح بیان کرو‘‘ کسی مقام پر فرمایا: ’’اپنے رب کو یاد کرو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ‘‘ کہیں اس عمل کو فلاح کا ضامن بتاتے ہوئے فرمایا کہ ’’اور اپنے رب کا کثرت سے ذکر کرو شاید کہ تم کامیاب ہو جاؤ‘‘ اور آخر میں یہ فیصلہ فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑا ہے‘‘۔
حضور نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا: ’’کیا میں تمھیں ایک ایسے متعلق نہ بتاؤں جو سب سے بہتر ہے، تمہارے مالک کے نزدیک زیادہ پاکیزہ ہے اور تمہارے درجات کو زیادہ بلند کرنے والا ہے اور تمہارے لئے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے اور تمہارے لئے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم دشمن سے مقابلہ کرو، تم ان کی گردنیں کاٹو اور وہ تمہاری گردنیں کاٹیں‘‘۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! ضرور فرمائیے‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی کا ذکر‘‘۔ (ترمذی)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو کوئی قوم اللہ کے ذکر کے لئے بیٹھتی ہے تو فرشتے انھیں گھیر لیتے ہیں اور رحمت انھیں ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکون نازل ہوتا ہے اور اللہ ان کے درمیان ان کا ذکر کرتا ہے جو اس کے پاس ہے (یعنی فرشتوں کے درمیان)‘‘ (مسلم) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا آپﷺ کا معمول بتاتے ہوئے فرماتی ہیں کہ ’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت ذکر میں مشغول رہا کرتے تھے‘‘۔ (مسلم)

علماء نے ذکر کے تین درجات بیان کئے ہیں: (۱) ذکر قلبی و لسانی، یعنی انسان کی زبان ذکر الہی سے تر ہو اور قلب بھی اس سے غافل نہ ہو (۲) ذکر قلبی، یعنی انسان صرف دل میں اللہ کا ذکر کرے (۳) ذکر لسانی، یعنی انسان صرف اپنی زبان سے اللہ کا ذکر کرے۔ ان میں اعلیٰ و افضل پہلا درجہ ہے اور مقصود بھی یہی ہے کہ قلب کی توجہ بھی اللہ کی طرف ہو، اس لئے کہ راحت اور سکون کے لئے توجہ الی اللہ اصل ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’افضل ترین ذکر لَاالہ الّااللّٰہ ہے اور یہ نامۂ اعمال میں سب سے زیادہ وزنی ہوگا‘‘ (ترمذی) ’’سبحان اللّٰہ والحمد للّٰہ ولَاالہ الّااللّٰہ واللّٰہ اکبر‘‘ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے، جس پر سورج طلوع ہوتا ہے‘‘۔ (مسلم)
جو شخص ’’لَاالہ الّااللّٰہ وحدہٗ لاشریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شی ء قدیر‘‘ ایک دن میں سو مرتبہ پڑھے، اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور اس کے نامہ اعمال میں سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے سو گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور یہ کلمات اس دن شام تک شیطان سے اس کی حفاظت کریں گے (بخاری و مسلم) اسی طرح تسبیح ’’سبحان اللّٰہ‘‘ اور تکبیر ’’اللّٰہ اکبر‘‘ اور تحمید ’’الحمد للّٰہ‘‘ کہنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو فرض نماز کے بعد ان کو پڑھے گا، وہ کبھی نامراد نہیں ہوگا‘‘ (مسلم) اسی طرح ’’لَاحول ولاقوۃ الّا باللّٰہ‘‘ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے‘‘ (متفق علیہ) اسی طرح ’’سبحان اللّٰہ وبحمدہٖ‘‘ کے فرمایا کہ ’’اس کے پڑھنے والے کے لئے جنت میں ایک درخت لگایا جائے گا‘‘۔ (ترمذی)
ایک حدیث شریف میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دو کلمے ایسے ہیں، جو زبان پر ہلکے ہیں اور میزان میں وزنی ہیں اور رحمن کے نزدیک محبوب ہیں اور وہ سبحان اللّٰہ وبحمدہٖ سبحان اللّٰہ العظیم ہیں‘‘۔ (متفق علیہ)
ذکر الہٰی میں مصروف رہنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان رات دن جو بھی عمل کرتا ہے، اس میں حکم خداوندی اور اتباع سنت کو پیش نظر رکھے اور مختلف کاموں کے موقع پر قرآن و سنت نے جو دعائیں بتائی ہیں، وہ پڑھا کرے۔ مثلاً کھانا کھاتے وقت، پانی پیتے وقت، کپڑا پہنتے وقت، مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعائیں اور صبح و شام کے اذکار وغیرہ، اس طرح ذکر کثیر بھی ہو جائے گا اور اعمال عبادت کے درجہ میں بھی ہو جائیں گے اور اللہ کے یہاں مقبول بھی۔ علاوہ ازیں مختلف فارغ اوقات میں مذکورہ ذکر و اذکار سے اپنی زبان کو تر رکھ سکتے ہیں، خواہ بیٹھ کر ہو یا ٹھہرکر یا لیٹ کر۔

علماء نے ذکر اللہ کے ستر سے زائد فوائد لکھے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں: (۱) ذکر، شیطان کو دفع کرتا ہے (۲) دل اور چہرے کو منور کرتا ہے (۳) دل کے زنگ کو دُور کرتا ہے (۴) اس کی برکت سے زبان غیبت، جھوٹ اور بدگوئی جیسی برائیوں سے محفوظ رہتی ہے (۵) ذاکرین پر اللہ تعالیٰ کی رحمت برستی ہے (۶) ذاکرین کے لئے فرشتے استغفار کرتے ہیں (۷) ذکر کی وجہ سے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے (۸) ذکر غم کو دور کرتا ہے (۹) ذکر سے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا دروازہ کھلتا ہے۔
ذاکرین کے لئے اخروی ثمرات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا کہ ’’اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والے مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے‘‘۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بعض قوموں کو اس طرح اٹھائے گا کہ ان کے چہرے نور سے چمک رہے ہوں گے، وہ موتیوں کے منبروں پر ہوں گے، لوگ ان پر رشک کر رہے ہوں گے اور وہ انبیاء و شہداء نہیں ہوں گے‘‘۔ کسی نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! ان کا حال ہم سے بیان کردیجئے، تاکہ ہم ان کو پہچان لیں‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ وہ لوگ ہوں گے، جو اللہ کی محبت میں مختلف جگہوں اور مختلف خاندانوں سے آکر ایک جگہ جمع ہوتے تھے اور اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT