Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / ’’اظہار خیال کی آزادی ، ملک کو تباہ کرنے کا حق نہیں دیتی ‘‘

’’اظہار خیال کی آزادی ، ملک کو تباہ کرنے کا حق نہیں دیتی ‘‘

قوم پرستی و آزادی اظہار خیال کا بقائے باہم لازمی ، بھارت ماتا کی جئے نعرہ کا تنازعہ ختم شد : بی جے پی

نئی دہلی ۔ /20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں قوم پرستی پر جاری بحث کے درمیان بی جے پی نے آج کہا کہ اظہار خیال کی آزادی کسی کو ملک تباہ کرنے کا حق نہیں دیتی اور اس موضوع کو بی جے پی کے قومی اجلاس میں ایک اہم مقام حاصل ہوا جب اس مسئلہ پر آج یہاں ایک قرارداد منظور کی گئی ۔ بی جے پی کی قومی عاملہ کے اجلاس میں قوم پرستی کے موضوع بدستور مرکزی مقام حاصل رہا ۔ اس پارٹی کے صدر امیت شاہ نے گزشتہ روز اپنے افتتاحی خطاب کے دوران یہ کہتے ہوئے اجلاس کا لب و لہجہ طئے کردیا تھا کہ قوم کے خلاف کسی حملے کو بی جے پی برداشت نہیں کرے گی ۔ بعد ازاں وزیر فینانس ارون جیٹلی نے اخباری نمائندوں کو اجلاس کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ’’قوم پرستی اور اظہار خیال کی آزادی کا بقائے باہم ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں ‘‘ انہوں نے کہا کہ دستور اگرچہ ناراضگی اور عدم اتفاق کے اظہار کی آزادی دیتا ہے لیکن ملک کی تباہی و بربادی کی اجازت نہیں دیتا ۔ جے این یو کے حالیہ واقعات پر کانگریس کو حاصل ہونے والی تقویت کو گھٹانے کی کوشش کے تناظر میں بی جے پی کی قومی عاملہ کے اجلاس میں قوم پرستی کے موضوع کو غلبہ حاصل رہا اور بی جے پی کے سرکردہ قائدین کا موڈ اور لب و لہجہ بھی اس انداز کی جھلک پیش کررہا تھا ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے ایک دلت اسکالر روہت ویمولہ کی خودکشی بعد ازاں جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کے علاوہ دیگر طلبہ عمر خالد اور انیربن بھٹاچاریہ کی گرفتاریوں سے بی جے پی اور اس کی حکومت کو ہونے والی پشیمانی سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے ’ بھارت ماتا کی جئے ‘ کا نعرہ چھیڑا گیا ۔ جس پر ایک رکن پارلیمنٹ کے مبینہ غیر ضروری تبصرہ اور اس پر تلخ مباحث نے سنگھ پریوار کا کام آسان کردیا

جس کے نتیجہ میں بی جے پی کو جے این یو تنازعہ پر ہونے والی پشیمانی سے عوامی توجہ ہٹانے میں مدد ملی ہے ۔ چنانچہ بی جے پی نے اب ’ بھارت ماتا کی جئے ‘ کے نعرہ پر پیدا شدہ تنازعہ کو بھی ختم کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا بھارت ماتا کی جئے کے نعرے سے پیدا شدہ تنازعہ پر بھی بی جے پی قومی عاملہ کے اجلاس میں بحث کی گئی ؟ ارون جیٹلی نے جواب دیا کہ ان کی پارٹی ( بی جے پی)  اب اس مسئلہ کو ’ ختم شد ‘ تصور کرتی ہے جس پر مزید کوئی بحث نہیں کی جانی چاہئیے ۔ جیٹلی نے اپنی دلیل کے ثبوت میں کہا کہ ’’اس نعرہ سے عوام کو کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ گزشتہ روز کولکتہ (میچ) میں ہم یہ دیکھ چکے ہیں ۔ وہ دراصل گزشتہ روز پاکستان کے خلاف ایک کرکٹ میچ میں ہندوستان کی کامیابی کے موقع پر شایقین کی طرف سے رچائے گئے نعروں کا حوالہ دے رہے تھے ۔ جیٹلی نے جو اس ضمن میں اپنی پارٹی کی حکمت عملی مرتب کرنے میں کلیدی رول ادا کئے ہیں کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اصل اپوزیشن پارٹی ( کانگریس) اپنا رتبہ گھٹا چکی ہے اور وہ بہار ، مغربی بنگال اور ٹاملناڈو میں ریاستوں میں چھوٹی حلیف جماعت کی حیثیت سے مفاہمت پر اکتفا کیلئے مجبور ہوگئی ہے ۔

عشرت جہاں مقدمہ میں کانگریس کا دوہرا رول
عشرت جہاں مقدمہ کا حوالہ دیتے ہوئے سیاسی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جو نئے حقائق منظر عام پر آئے ان سے کانگریس کا دوہرا رول بے نقاب ہوگیا ہے اور اس نے محض سیاسی مفادات کی خاطر قومی سلامتی پر سمجھوتہ کرلیا ہے ۔ کانگریس پارٹی نے ان سب کے باوجود اپنے محاسبہ کو ضروری نہیں سمجھا اور پارٹی کے قائدین اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کررہے ہیں ۔ قرارداد میں مغربی بنگال میں کانگریس اور بائیں بازو انتخابی اتحاد پر بھی تنقید کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT