Friday , September 22 2017
Home / کھیل کی خبریں / اظہرعلی اور محمد حفیظ کے خلاف کارروائی کا امکان

اظہرعلی اور محمد حفیظ کے خلاف کارروائی کا امکان

کراچی۔25 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے چیرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ محمد عامر تربیتی کیمپ میں شمولیت کے مخالف محمد حفیظ اور اظہر علی کو سمجھانے کی کوشش کریں گے لیکن اگر وہ نہ مانے تو پھر ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ دورۂ نیوزی لینڈ کے لئے تربیتی کیمپ کا اعلان کیا گیا  تو 26 کھلاڑیوں کی فہرست میں اسپاٹ فکسنگ کے سزاء یافتہ  محمد عامر کا نام بھی شامل کیا گیا۔تاہم  کرکٹ کے ایوانوں میں اس وقت ہلچل پیدا ہوئی جب محمد حفیظ اور اظہر علی نے کیمپ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے محمد عامر کے ساتھ تربیت میں شریک ہونے سے انکار کردیا۔ محمد حفیظ صبح فٹنس ٹسٹ کیلئے نیشنل کرکٹ اکیڈمی پہنچے لیکن وہ کیمپ میں شریک ہوئے بغیر ہی واپس چلے گئے جبکہ اظہر علی نے بھی ابھی تک کیمپ میں شرکت نہیں کی۔ دونوں کھلاڑی کیمپ میں محمد عامر کی شمولیت پر برہم ہیں اور اطلاع دیے بغیر ہی کیمپ سے واپس چلے گئے اور اس حوالے سے ٹیم انتظامیہ کو آگاہ کردیا ہے۔اس حوالے سے ٹیم کے میڈیا منیجر آغا اکبر نے کہا کہ دونوں کھلاڑیوں نے صبح کیمپ میں شرکت کی

لیکن دوبارہ رپورٹ نہیں کیا۔ اظہر علی نے اس معاملے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ محمد عامر کا کیمپ میں ہونا قبول نہیں، جب تک محمد عامر کیمپ میں موجود ہیں ہم شریک نہیں ہوں گے اور اس معاملے پرچیئرمین پی سی بی سے بات کرنے کو تیار ہیں۔ اس نئے بحران کے حوالے سے سوال سے چیئرمین پی سی بی نے موقف اختیار کیا کہ وہ اس مسئلے پر پہلے بھی بات کر چکے ہیں اور اب دوبارہ کریں گے لیکن کھلاڑیوں کے نہ ماننے کی صورت میں دیکھا جائے گا کہ ڈسپلن کے تحت ان کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ گزشتہ ہفتے کیمپ کیلئے کھلاڑیوں کے ناموں کے اعلان کے ساتھ ہی یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے عامر کی  ٹیم میں شمولیت کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اور اس بات پر مہر اس وقت ثبت ہوئی جب گزشتہ روز پی سی بی نے عامر کے حق میں پریس ریلیز جاری کی۔ بورڈ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں عامر کی ٹیم میں واپسی کے مخالف کرکٹرز اور مبصرین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فاسٹ بولر کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے درگزر سے کام لیں۔ لیکن اس پیشرفت نے پی سی بی کو یقیناً پریشان کردیا ہے کیونکہ موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں ٹیم میں بغاوت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ عامر کی مخالفت میں کوئی سخت موقف سامنے آیا ہو بلکہ اس سے قبل معروف مبصرین اور کھلاڑی عامر کی ٹیم میں شمولیت کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT