Friday , July 21 2017
Home / مضامین / اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کیلئے خطرہ کی گھنٹی

اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کیلئے خطرہ کی گھنٹی

 

ظفر آغا

 

 

 

یہ مت سمجھئے کہ اس ملک ہندوستان میں صرف اور صرف اس وقت ہندوتوا کا ہی پرچم بلند ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دنوں ہندوتوا کا پرچم سب سے زیادہ بلند ہے اور ملک میں اسی کی گونج سب سے زیادہ بلند ہے۔ لیکن یاد ہوگا کہ گجرات فسادات کے وقت نریندر مودی نے کہا تھا کہ ’’ ہر عمل کا ردِ عمل ہوتا ہے‘‘ مودی کی یہ بات اتنی ہی حقیقت پر مبنی ہے جتنی کہ سائنسداں نیوٹن کا وہ فارمولا تھا جس کا ذکر مودی نے گجرات فسادات کے وقت کہا تھا، ہندوتوا ایک عمل ہے ظاہر ہے کہ اس عمل کا ردِ عمل ہونا چاہیئے۔
اس سے قبل کہ ردعمل کا ذکر ہو یہ ضروری ہے کہ ہندوتوا کے عمل پر روشنی ڈالی جائے۔ ہندوتوا دراصل آریا ورٹ کا جدید روپ ہے۔ آخر یہ آریہ ورٹ کیا ہے، تاریخی نکتہ نگاہ سے آرین ایک قوم ہے جو ہزاروں سال قبل یورپ سے نکل کر وسطی ایشیا اور ایران کے راستے سے ہندوستان آکر بس گئی۔ جیسا کہ اس دور کا رواج تھا، آریاؤں نے پہلے سے مقیم دراوڑ ہندوستانیوں کو اپنا غلام بنالیا۔ اس دور میں یہ عام رواج تھا کہ جو قوم کسی دوسری قوم کو جنگ میں شکست دیتی تھی وہ اس کو اپنا غلام بھی بنالیتی تھی۔ مثلاً فرانسیسوں نے مصر میں یہودیوں کو غلام بنارکھا تھا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ غلام قوم کو اپنا مذہب ترک کرکے حاکم قوم کا منصب بھی اختیار کرنا پڑتا تھا۔ چنانچہ آریاؤں نے بھی اس ملک کے اصل باشندوں ( جو کالے تھے اور دراوڑ کہلاتے تھے ) کو نہ صرف اپنا غلام بنایا بلکہ آہستہ آہستہ ان پر ہندو مذہب بھی لاددیا۔
لیکن آریاؤں نے ہندوستان کے کالے اور اصل باشندوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنا غلام بنائے رکھنے کیلئے مذہب کی آڑ میں ایک ایسی سازش رچی جو آج بھی چل رہی ہے جس کے سبب اصل ہندوستانی باشندے آج بھی آریاؤں کے غلام ہیں۔ وہ سازش ذات پات کے نظام پر مبنی ہے۔ یہ ذات پات کا نظام ایک ایسا مایا جال ہے کہ جس کو توڑنا ممکن نظر نہیں آتا، اس نظام کے تحت ہندو سماج ورن نظام یعنی ذات پر مبنی ہے اور ہندو عقائد کے مطابق اس سماج میں چار ذاتیں ہیں جو برہمن، چھتری، بنیا اور اچھوت پر مبنی ہیں۔ یعنی برہمن، چھتری اور بنیا اعلیٰ ذاتیں ہیں جو دراصل آرین تھے، اور باقی سب اچھوت یعنی نچلی ذات کے ہندو ہیں جو اصل ہندوستانی تھے۔ ہندو عقائد کے مطابق اچھوت وہ ہے جس نے پچھلے جنم میں پاپ کیا تھا اور اب موجودہ جنم میں نچلی ذات یعنی اچھوت پیدا ہوکر وہ پچھلے جنم کے گناہوں کا خسارہ بھررہا ہے تاکہ اس کو اگلے جنم میں نچلی ذات سے رہائی مل جائے۔

آریاؤں کے اس مایا جال نے غلامی کو عقیدے کی بیڑی میں باندھ دیا جس میں بندھی زیاد تر پسماندہ اور دلت ذاتیں آج بھی سماجی اور مذہبی بناء پر اچھوت یعنی غلامی کی زندگی جی رہی ہیں۔ ہندوتوا اسی نظریہ کا جدید روپ ہے جس کا مقصد اس ملک کے اقتدار، سماج برادری کلچر یعنی تہذیب پر آریاؤں کا قبضہ بنائے رکھنا ہے تاکہ مذہب کے نشہ میں اچھوت آریاؤں کو اپنا آقا سمجھتے رہیں۔ آج کے جدید دور میں یہ کام آسان نہیں ہے تو اس کام کو آسان بنانے کیلئے سنگھ اور بی جے پی نے ہندوؤں کے ذہنوں میں مسلم منافرت اور مسلم دشمنی کا زہر گھولنا شروع کیا ہے تاکہ اچھوت ہندو یا نچلی ذات کا ہندو اپنی غلامی کے بارے میں فکر نہ کرکے ایک بے وجہ دشمن کو اپنا دشمن سمجھ کر اس کی مخالفت کرتا رہے اور اس طرح وہ آریاؤں کے جال میں پھنسا رہے۔اس طویل تاریخی تمہید کے بعد پھر مودی جی کا وہ بیان یاد فرمایئے جو انہوں نے گجرات فسادات کے وقت دیا تھا یعنی ’’ ہر عمل کا ردِ عمل ہوتا ہے‘‘ ۔2014 میں پہلی بار اقتدار میں اپنے دم خم پر بی جے پی کے قبضہ جمانے کے بعد سنگھ نے ہندوتوا پر مبنی آریا ورٹ نظام کو لاگو کرنے کا ’’ عمل ‘‘ شروع کیا تو کچھ عرصہ بعد اس کا رد عمل بھی شروع ہوگیا۔ وہ کیسے، پہلے تو ہندوتوا طاقتوں نے غیر آریاؤں کو مذہب کے نشہ میں رکھنے کے لئے مسلم دشمنی کا پرچم بلند کیا، کبھی لوجہاد تو کبھی گو رکھشا جیسے پروگرام کا مقصد پسماندہ اور دلت ذاتوں کو مسلم دشمنی میں پھانس کر ان کو ذات پات کے مایا جال کے ذریعہ آریاؤں کا غلام بنائے رکھنا تھا تاکہ اس ملک میں کوئی دوسرا لالو پرساد یادو یا دوسری مایاوتی پیدا نہ ہو۔

آریا ورٹ میں نچلی ذاتوں پر ظلم ہوتا ہی تھا، نتیجہ یہ ہوا کہ اس ملک میں جگہ جگہ ہزاروں اونا اور سہارنپور جیسے واقعات ہونا شروع ہوگئے۔ یعنی جیسے اونا، گجرات اور سہارنپور اتر پردیش میں دلتوں کو اعلیٰ ذات نے مارا اسی طرح ملک میں آئے دن درجنوں ویسے ہی واقعات رونما ہونے لگے یعنی آریاؤں نے ’’ عمل ‘‘ کیا۔ لیکن جلد ہی اس کا ردعمل بھی ہوا۔ ردعمل یہ ہوا کہ گجرات کے ہزاروں دلتوں نے احمد آباد سے اونا تک مارچ نکالا اور وہاں میوانی نام کا ایک بڑا دلت لیڈر پیدا ہوگیا جو آج بھی ایک دلتوں کی تنظیم بناکر ہندوتوا یعنی نئے آریا ورٹ کے خلاف لڑرہا ہے۔ اسی طرح یو پی میں چندر شیکھر کی قیادت میں دلت سینا نام کی تنظیم بن گئی ہے جو ہندوتوا کے خلاف لڑرہی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ پچھلے ایک برس میں سینکڑوں دلت گھرانوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر بدھ مذہب اختیار کرلیا ہے۔

مودی جی سائنس کے قوانین کے مطابق یہ بھی ’’ عمل کا ردِ عمل ‘ ہے لیکن اس ردعمل میں محض ہندوتوا ہی نہیں بلکہ صدیوں پرانے آریاورٹ کو بھی خطرہ ہے۔میں یہ بات یوں ہی ہوا میں نہیں کہہ رہا ہوں ۔ اس مضمون کے لکھے جاتے وقت گجرات کے شہر احمدآباد میں دلتوں کا ایک اہم جلسہ جاری تھا اور یہ جلسہ ’’دلت شکتی کیندر ‘‘ کے پرچم تلے ہوا جس میں سینکڑوں دلتوں نے شرکت کی اور اس جلسہ میں یہ اعلان ہوا کہ دلت اور دوسری ذاتوں کے افراد ہندوستان کی آزادی کے سو سال بعد یعنی 2047 تک ہندوستان کو چھوت چھات سے مبراء کرنا ہوگا۔ اس سلسلہ میں ہزاروں دلتوں نے ایک ’’ مشن 2047 : ہندوستان کو چھوت چھات سے نجات دلاؤ‘‘ کا اعلان کیا جس کے لئے وہ تمام مظلوموں کو اکٹھا کرنے کی جدوجہد شروع کرنے جارہے ہیں۔ بس یہ ہندوتوا کے خاتمہ اور آریا ورٹ کے خاتمے کا اعلان ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دلتوں کی اس جدوجہد میں تمام اقلیتیں بالخصوص مسلمان بھی پوری قوت کے ساتھ شامل ہوجائیں کیونکہ اسی طرح ملک سے چھوت چھات اور مسلم منافرت دونوں پر مشتمل ہندوتوا سیاست کا خاتمہ ممکن ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT