Friday , September 22 2017
Home / جرائم و حادثات / اغواء اور قتل میں ملوث ملزم کی شناخت

اغواء اور قتل میں ملوث ملزم کی شناخت

حوالہ کاروبار سے مربوط رقم کا تنازعہ ، قتل کا سبب ہونے کا شبہ
حیدرآباد ۔ /18 مارچ (سیاست نیوز) شاہ عنایت گنج سے اغواء کرنے کے بعد 15 سالہ ابھئے موڈانی کو قتل کردینے والے اغواء کنندہ کی پولیس نے شناخت کرلی ہے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی مدد سے حاصل کی گئی تصاویر کی بنیاد پر خاطی کی شناخت مشرقی گوداوری کے سائی کی حیثیت سے کی ہے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ابھئے کا اغواء اور قتل کا تعلق حوالہ کے کاروبار سے جڑے ہوئے روپیوں کا بھی ہوسکتا ہے ۔ اغواء کنندوں نے سائی کا استعمال کیا ہے اور ابھئے کے قریبی رشتہ دار کی جانب سے حوالے کے کاروبار سے جڑے ہونے پر بڑے پیمانے پر اغواء کے بعد تاوان کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا ۔ کمشنر ٹاسک فورس نے خاطیوں کو راجمندری میں حراست میں لے لیا ہے اور انہیں تفتیش کیلئے شہر منتقل کیا جارہا ہے ۔  پولیس کی ابتدائی تحقیقات سے یہ پتہ لگا ہے کہ سائی نے ابھئے کا اغواء کرنے کے بعد کچھ ہی دیر میں اس کا گلا گھونٹ کا قتل کردیا لیکن پولیس کی چنگل سے بچنے اور شہر سے راہ فرار اختیار کرنے کیلئے خاطی مقتول لڑکے کے باپ راجکمار سے مسلسل فون پر تاوان کا مطالبہ کرتے رہے تاکہ اسے فون پر مصروف رکھا جاسکے ۔ پولیس تحقیقات میں یہ بھی پتہ لگا ہے کہ سائی اپنے تین ساتھیوں کی مدد سے ایک گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔ تاہم پولیس نے لڑکے کو اغواء کرنے میں استعمال کی گئی گاڑی کو آغا پورہ علاقہ سے ضبط کرلیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ سائی کا تعلق مشرقی گوداوری سے ہے اور وہ آندھراپردیش کے ایلورو مقام سے تعلق رکھتا ہے اور روزگار کی تلاش میں وہ شہر منتقل ہوا تھا ۔ سائی نے حیدرآباد میں قیام کے دوران وہ اوم کالونی میں کئی نوجوانوں سے دوستی کی اور وہ ان کے ساتھ کرکٹ بھی کھیلا کرتا تھا ۔ سائی نے یہ پتہ لگایا تھا کہ ابھئے کا باپ راجکمار کا بڑے پیمانے پر پلاسٹک اور اسکراپ کا کاروبار ہے اور اس کو اغواء کرنے سے اسے معقول روپئے حاصل ہوسکتے ہیں ۔ سائی نے اغواء اور قتل سے دس دن قبل دوبارہ شہر منتقل ہوا تھا اور اپنے تینوں ساتھیوں کی مدد سے ابھئے کی نقل و حرکت پر نظر رکھا ہوا تھا اور وہ ابھئے کے اسکول کا بھی پتہ لگالیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT