Friday , October 20 2017
Home / ادبی ڈائری / افروز سعیدہ حیدرآباد کی حساس افسانہ نگار

افروز سعیدہ حیدرآباد کی حساس افسانہ نگار

ڈاکٹر سید حسام الدین
افروز سعیدہ حیدرآباد کی خاتون افسانہ نگاروں کی چوتھی پشت سے تعلق رکھتی ہیں ۔ ان کا تعلق ایک قدامت پسند گھرانے سے ہے ۔ انہوں نے سماجی تبدیلیوں خصوصاً حیدرآبادی تہذیب میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو قریب سے دیکھا ہے ۔ موجودہ صورت حال کو جب وہ گزشتہ ادوار کے پس منظر میں دیکھتی ہیں تو محو حیرت ہوجاتی ہیں کہ دنیا کیا سے کیا ہوگئی ۔ انہیں شریفانہ اقدار کی پامالی کا بے حد افسوس رہا ۔ افروز ان تبدیلیوں کو دیکھ کر یوں ہی نہیں گزر جاتیں ۔ وہ کھلی آنکھ سے دیکھتیں اور بیدار ذہن سے سوچتیں اور معاشرہ کی اصلاح کی کوشش کرتی ہیں ۔
افروز سعیدہ حیدرآباد کی ایک سینئر اور  پختہ کار افسانہ نگار ہیں ۔ ان کا افسانوی مجموعہ ’’کرچیاں‘‘ سے قبل ان کے افسانوں کے تین مجموعے شائع ہوچکے ہیں ۔ ’’نایاب‘‘ ، ’’بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے‘‘ اور ’’سائبان‘‘ ۔ یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ فنکار کے فن میں زمانہ کے ساتھ ساتھ تبدیلی کا آنا ضروری ہے ورنہ اس کا فن ٹھٹھر جائے گا ۔ افروز کے افسانوں کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ان کی کہانیوں میں بتدریج تبدیلیاں آتی جارہی ہیں ۔ ان کی فکر اور فن جامد نہیں ۔ یہی رجحان امید افزا ہے جو انہیں اور ان کے فن کو زندہ رکھے گا ۔ وہ معاشرہ کے زوال پذیر اقدار کی بڑی بے باکی سے نشاندہی کرتی ہیں اور ان کے تدارک کے لئے رائے اور مشورہ بھی دیتی ہیں ۔ وہ سماج کے کسی ایک پہلو کو لے کر اس کے گرد کہانی بنتی ہیں ان کی کہانیاں مختصر اور سہل ہیں ۔ ان کے ہاں کرداروں کی بہتات نہیں ، صرف چند کرداروں کے قافلے کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں ۔

افروز سعیدہ ایک گمبھیر سماجی مسئلہ ’طلاق‘ کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتیں اس خصوص میں وہ روایتی انداز میں سوچتی ہیں ۔ ’’یہ طلاق شدہ بے وقوف عورتیں نہ کسی کی ہو رہتی ہیں نہ کسی کو اپناسکتی ہیں ۔ اپنے عیش و طرب کو اولیت دینے والی مردہ ضمیر ، ناعاقبت اندیش معاشرہ کی فضا کو مسموم کرتی رہتی ہیں‘‘ (خارزار احساس) ۔ افروز سعیدہ نے اس افسانہ میں نسوانیت کو عصمت کے مترادف کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ نسوانیت سے مراد شاید عصمت ہے ۔ افسانہ کا ایک کردار ثمن کے ذریعہ وہ کہتی ہیں ’’اس کا مطلب یہ نہیں کہ مردوں کے شانہ بہ شانہ چلنے کی کوشش میں عورت اپنی نسوانیت کھودے ۔
افروز سعیدہ این آر آئیز کے مسائل سے بھی غافل نہیں ۔ شادی کے بعد شوہر ، بیوی بچوں کو چھوڑ چھاڑ کرکمانے کے لئے بیرون ملک چلے جاتے ہیں ۔ برسوں پلٹ کر خاندان کی خبر نہیں لیتے ۔ اسی دوران ان کی جوان بیوی اور معصوم بچوں پر کیا گزڑتی ہے اس کا انہیں احساس نہیں ہوتا ۔ لہذا شریف خواتین راہ راست سے بھٹک جاتی ہیں ۔ جہاں وہ عورت کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں وہیں عورتوں کو شوہر سے بندھے رہنے کی ترغیب دیتی ہیں ۔ ’’نگینہ ! شوہر تو عورت کی ذات کا ایک حصہ ہوتا ہے اس حصہ کو الگ کردیا جائے تو عورت مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے ۔ اس کی زندگی میں ایک خلاء سا پیدا ہوجاتا ہے‘‘ (خون تمنا) ۔
افروز صاحبہ کے افسانوں کے مطالعہ سے ان کے دو رویوں کی نشاندہی ہوتی ہے ایک مذہبی دوسرا مصلحانہ ۔ مذہبی رجحان کی عکاسی افسانہ ’’صرف ایک بار‘‘ میں ملاحظہ ہو ’’تم دنیا میں اپنی خوشبو چھوڑ جانا چاہتے ہو تو مالک حقیقی کے آگے سجدہ کرتے رہو کہ اس نے اتنی خوبصورت دنیا تمہارے لئے بنائی ہے اور ہر چیز پر تمہیں اختیار دے دیا ، سمندر جھاڑ ، پہاڑ ، چرند اور پرند سب کو تمہارے لئے مسخر کردیا‘‘ ۔ دوسری مثال افسانہ ’’درد اور درماں‘‘ کا ایک کردار ویان میں بیٹھے ہوئے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سورہ رحمان کی آیتوں کو اپنے اندر جذب کررہی تھی ۔ ان کا مصلحانہ انداز دیکھنا ہو تو ’’لہو رنگ نظارے‘‘ ملاحظہ ہو جس میں انہوں نے یتیم خانہ میں مولوی کا بچوں پر ظلم ، فاحشہ گری ، پیسہ کی خاطر لڑکیوں کی شادی عمر رسیدہ شیخوں سے ، بے جوڑ شادیوں سے بحث کی گئی ہے ۔

افروز سعیدہ نے اپنے افسانوں میں فلیش بیک ٹکنیک کا بھی استعمال کیا ہے ۔ اس کی مثال ان کا افسانہ ’’درد اور درماں‘‘ ہے ۔ افسانہ ’’خون تمنا‘‘ میں بیانیہ اسلوب اپنایا ہے ۔ اسی افسانے میں مکالماتی ٹکنیک سے بھی کام لیا ہے  ۔ اکثر افسانوں کو اشعار کے ذریعہ دلچسپ بنایا ہے  ۔ اردو ناولوں اور افسانوں میں مصنفوں نے خطوط کے ذریعہ کہانیوں کو آگے بڑھایا ہے ۔ افروز نے بھی افسانہ ’’بیس سال بعد‘‘ میں اسی ٹکنیک سے کام لیا ہے ۔ اسی افسانہ میں باپ (اعجاز) اپنے بچوں کے نام خط لکھتا ہے ۔
اکثر افسانوں میں انہوں نے ’تحیر‘ پیدا کرکے افسانہ کو دلچسپ بنادیا ہے ۔ اس کی اچھی مثال افسانہ ’واپسی‘ ہے ۔ ان کا اسلوب بڑا ہی نکھرا ہوا ہے ۔ کہیں بھی ترسیل کا مسئلہ نہیں ۔ افروز سعیدہ کی ’’کرچیاں‘‘ کی نثر بڑی ہی خوبصورت اور جاندار ہے ، جو ان کے ایک اچھے ادیب ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔ انہوں نے چھوٹے چھوٹے خوبصورت جملوں سے اپنی نثر کو سجایا ہے جیسے ’’آج عورت مرد کے لئے ایک ضرورت ہے ۔ کبھی ماں ، کبھی بہن اور کبھی بیوی کے روپ میں‘‘ (بے آواز چیخ) … ’’وہ ایک بھنورا تھا جس کا کام من پسند پھولوں کا رس چوسنا اور اڑ جانا تھا‘‘ ۔(بے آواز چیخ)
مختصر افسانہ میں پلاٹ ، کردار نگاری ، واقعات کا اتار چڑھاؤ ، ماحول ، مکالمہ اور اسلوب اہمیت کا حامل ہوتا ہے  ۔ افروز سعیدہ کے افسانوں میں یہ تمام جزئیات ملتی ہیں ۔ اس طرح انہیں ایک کامیاب افسانہ نگار کہا جاسکتا ہے ۔ سماجی مسائل سے ان کی گہری وابستگی جس کا اظہار ان کے افسانوں کے مجموعہ ’’کرچیاں‘‘ میں ہوتا ہے انہیں کامیابی کی راہ پر گامزن کردے گا ۔ افروز سعیدہ اپنی کاوش ’’کرچیاں‘‘ پر مبارکباد کی مستحق ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT