Tuesday , June 27 2017
Home / Top Stories / افضل گرو کی چوتھی برسی

افضل گرو کی چوتھی برسی

کشمیر میں مکمل ہڑتال اور پابندیاں، ریل سروس معطل
سری نگر، 9فروری (سیاست ڈاٹ کام) دسمبر 2011 ء میں پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے مبینہ مجرم محمد افضل گرو جنہیں 9 فروری 2013 ء کو دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی، کی چوتھی برسی کے موقع پر جمعرات کو وادی کشمیر میں علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔افضل گرو کو تہاڑ جیل میں تختہ دار پر لٹکانے کے بعد وہیں دفن کیا گیا تھا۔ علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کے علاوہ دیگر متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں نے محمد افضل گرو کو پھانسی دیے جانے کے چار برس مکمل ہونے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے 9فروری کو مکمل ہڑتال اور دعائیہ مجالس منعقد کرنے کی اپیل کی تھی۔کشمیر انتظامیہ نے علیحدگی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کو کسی بھی احتجاجی جلوس یا ریلی کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے تھانہ یا خانہ نظربند کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں حساس مانے جانے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور جو کہ افضل گرو کا آبائی قصبہ ہے ، میں بھی کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر وادی بھر میں ریل سروس معطل کردی گئی ہے ۔ ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے  بتایاکہ جی ہاں، ہم نے ریل سروس کو سیکورٹی وجوہات کی بناء پر معطل کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان جمعرات کو کوئی بھی ریل گاڑی نہیں چلے گی۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا ‘ریل سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ ریاستی پولیس کی جانب سے اس حوالے سے ہدایات ملنے کے بعد لیا گیا ہے ‘۔ علیحدگی پسند رہنماؤں کی جانب سے بلائی گئی ہڑتال کے نتیجے میں سری نگر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے۔
جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔سری نگر کے پائین شہر اور سیول لائنز کے کچھ علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں جن کی وجہ سے وہاں تمام طرح کی سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ پولیس نے بتایا کہ پائین شہر اور سیول لائنز کے کچھ علاقوں میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ تاہم ایسے علاقوں میں زمینی صورتحال پولیس کے دعوؤں کے برخلا نظر آئی کیونکہ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا جارہا تھا کہ علاقہ میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے ۔ پابندی والے بیشتر علاقوں میں سڑکوں کو خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا ہے ۔پائین شہر کے سبھی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ہے ۔ پائین شہر کے نوہٹہ علاقہ میں واقع تاریخی جامع مسجد جہاں حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ ہر جمعہ کو اپنا معمول کا خطبہ دیتے ہیں، کے باب الداخلوں کو ایک بار پھر مقفل کیا گیا ہے ۔ اس تاریخی مسجد کے باہر سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے ۔ اخباری نمائندوں نے پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ نالہ مار روڑ کو خانیار سے پارمپورہ تک سیل کردیا گیا ہے ۔ اس روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر شہریوں نے الزام لگایا کہ سیکورٹی فورسز نے دودھ اور سبزی فروشوں کو اُن کے علاقوں میں داخل نہیں ہونے دیا۔ اس کے علاوہ بلبل لانکر، نواح کدل، کاوڈارہ اور راجوری کدل علاقوں کی بنیادی سڑکیں بھی بند کردی گئی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT