Saturday , June 24 2017
Home / Top Stories / افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر جھڑپیں‘50فوجی ہلاک

افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر جھڑپیں‘50فوجی ہلاک

طالبان کا اہم شمالی ضلع پر قبضہ‘ افغان خاندان فرار ‘وزیر دفاع پاکستان خواجہ آصف کا فوری موثر جوابی کارروائی کا انتباہ

اسلام آباد ۔7مئی ( سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی فوج نے آج کہا کہ اس نے افغانستان کے 50فوجیوں کے دونوں ممالک کی سرحد پر ہلاک کردیا ہے جب کہ دونوں فوجوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد جاریہ ہفتہ کے اوائل میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ۔ افغانستان نے 10 پاکستانی شہریوں کو ہلاک کردیا ۔ میجر جنرل ندیم احمد نے کہا کہ 100 افغان فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں ۔ صوبہ بلوچستان میں جمعہ کے دن افغان فوج نے فائرنگ کی تھی ‘ تاہم جنرل نے پریس کانفرنس میں اس واقعہ پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے کہا کہ افغان بھی مسلمان ہیں اور ہمارے بھائی ہیں ۔ افغانستان اور پاکستانی کی فوجیں جمعہ کے دن سے جھڑپ میں مصروف ہیں ۔ فائرنگ کی زد میں آکر 10پاکستانی شہری ہلاک  اور 40سے زیادہ افراد زخمی ہوچکے ہیں ۔بلوچستان کے سرحدی اضلاع پر افغان فوج نے فائرنگ کی تھی ۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور سرحد پار ایک دوسرے کی سرزمین پر حملوں کا الزام عائد کیا ۔ دونوں ممالک نے الزامات کی تردید کی ہے ۔ علحدہ طور پر جنوبی کمان کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض نے کہا کہ پاکستانی فوج نے پانچ افغان چوکیوں کو تباہ کردیا ۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جو بھی پاکستان کو دہشت گرد سرزمین بنانے کی کوشش کرتا ہے اُسے اسی طرح کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ باب دوستی کو بند کردینے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جنرل ریاض نے کہا کہ یہ دروازہ اس علاقہ میں صورتحال بہتر ہونے تک بند رہے گا ‘ جب تک افغانستان اپنا رویہ تبدیل نہیں کرلیتا ہم یہ دروازہ بند رکھیں گے ۔ باب دوستی افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر داخلہ کا دروازہ ہے ۔ وزیر دفاع پاکستان خواجہ آصف نے کہا کہ ان کا ملک فوری اور موثر جوابی کارروائی کرے گا ۔ افغان فوج نے مردم شماری کرنے والوں کی ٹیم کو حملہ کا نشانہ بنایا ہے ۔ دریں اثناء قندوز سے موصولہ اطلاع کے بموجب افغانستان کے سینکڑوں خاندان طالبان اور افغان فوج کے درمیان جنگ کی وجہ سے اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہورہے ہیں ‘ کیونکہ طالبان نے دفاعی اہمیت کے ایک ضلع پر قبضہ کرلیا ہے ۔ قبل ازیں طالبان نے موسم بہار کی اپنی جارحیت کا آغاز کیا تھا ۔ حکومت کی فوجوں اور طالبان کے درمیان جنگ کی وجہ سے عوام صوبائی دارالحکومت قندوز کی جانب نقل مقام کررہے ہیں ۔ ناروے کے پناہ گزین کونسل جس کا ایک دفتر قندوز میں بھی ہے اپنے ایک بیان میں کہا کہ افغان خاندان کھلے میدان میں سورہے تھے جب کہ یہ حملہ ہوا اور وہ اپنے رشتہ داروں کے مکان میں پناہ لینے پرمجبور ہوگئے ۔ ڈھائی بجے شب طالبان جنگجو ان کی قیامگاہوں پر آئے اور انہیں تخلیہ کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ وہ شور نہ مچائیں ‘ تمام افراد خوفزدہ تھے ۔ چنانچہ اپنے خاندانوں کیساتھ دارالحکومت قندوز کی جانب فرار ہوگئے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT