Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / افغانستان: زلزلہ متاثرین کی مدد کیلئے طالبان بھی سرگرم

افغانستان: زلزلہ متاثرین کی مدد کیلئے طالبان بھی سرگرم

کابل ، 27 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)افغانستان میں تباہ کن زلزلے کے بعد آج طالبان باغیوں نے متاثرہ علاقوں میں عسکریت پسندوں کی ’مکمل مدد‘ کیلئے اپنے جنگجوؤں کو بھی سرگرم ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ پیر کو ہندوکش کے علاقے میں آنے والے اس طاقتور زلزلے کے نتیجے میں وہاں ہلاکتوں کی تعداد 76 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے کیونکہ اس ہولناک زلزلے کی لائی ہوئی تباہیوں کا مکمل تخمینہ ابھی نہیں لگایا گیا ہے۔ افغانستان میں شورش کا باعث تصور کئے جانے والے طالبان کی طرف سے خیراتی اداروں اور امدادی تنظیموں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ افغانستان میں زلزلہ متاثرین کو امداد فراہم کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں۔ گزشتہ روز کے زلزلے کی شدت امریکی جیولوجیکل سروے نے 7.7 بتائی تھی لیکن بعد میں اسے 7.5 بتائی گئی ہے۔ امدادی کارکنوں کیلئے اپنے کام کی انجام دہی میں بہت دشواریوں کا سامنا ہے۔

افغانستان کے متعدد صوبے متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم ان صوبوں کے زیادہ تر علاقے طالبان عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ صورتحال حکام کیلئے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ طالبان نے کل ایک بیان میں وعدہ کیا تھا کہ وہ امدادی کارکنوں اور تنظیموں کو متاثرین کی مدد کیلئے رسائی فراہم کریں گے۔ ’اسلامک امارات طالبان‘ نامی گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک پیغام میں خیراتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ زلزلہ متاثرین کو شیلٹر، کھانے پینے کی اشیاء اور طبی امداد فراہم کرنے میں پس و پیش نہ کریں۔ اس پیغام میں مزید کہا گیا،

’’اسی طرح اسلامک امارات گروپ اپنے مجاہدین کو متاثرہ علاقوں میں ہر ممکن امداد فراہم کرنے اور خیراتی اداروں اور امدادی کارکنوں کو زلزلہ زدگان تک رسائی فراہم کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ فوری امداد کے طلبگاروں تک امداد بہم پہنچائی جاسکے۔‘‘ اُدھر افغانستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے خصوصی ادارہ کے حکام نے کہا ہے کہ افغانستان میں زلزلے کے مرکز دورافتادہ افغان صوبہ بدخشاں اور دیگر ہمسایہ صوبوں تخار اور کنڑ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ افغان صدر چیف ایگزیکیٹیو عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 4 ہزارمکانات تباہ ہوئے ہیں۔ ان کے بقول، ’’اس زلزلے میں 76 افراد لقمہ اجل بنے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ کم از کم 268 افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘‘ عبداللہ عبداللہ نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے اندیشے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اس زلزلے نے افغانستان، پاکستان اور ہندوستان کے کچھ علاقوں کی عمارتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

TOPPOPULARRECENT