Thursday , September 21 2017
Home / دنیا / افغانستان سے امریکی فوج کا عجلت میں تخلیہ خارج ازبحث

افغانستان سے امریکی فوج کا عجلت میں تخلیہ خارج ازبحث

دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی کیخلاف پاکستان کو انتباہ، ہندوستانی رول میں اضافہ پر زور: ٹرمپ
واشنگٹن 22 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان سے اپنی فوج کی جلد بازی یا عجلت میں واپسی کے کسی امکان کو آج مسترد کرتے ہوئے پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے خلاف سخت ترین وارننگ دی اور جنگ زدہ ملک میں بحالی امن کی کوششوں میں ہندوستان کے رول میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر ٹرمپ نے بحیثیت کمانڈر اِن چیف کی حیثیت سے پہلی مرتبہ امریکیوں سے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے جنوبی ایشیاء کے لئے اپنی پالیسی کا اعلان کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان کے ساتھ امریکی حکمت عملی کی ساجھیداری کو مزید فروغ دینا اُن کی نئی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ’ایک جامع جائزہ‘ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ افغانستان اور جنوبی ایشیاء میں امریکی حکمت عملی میں ڈرامائی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں 16 سال سے جاری جنگ میں فتح کے لئے امریکی سپاہی لڑتے رہیں گے۔ اُنھوں نے اپنی نئی افغان پالیسی میں کہاکہ ’’آج کی تاریخ سے فتح کی ایک واضح تشریح ہوگی، وہ یہ ہے کہ ہمارے دشمنوں پر حملہ کیا جائے۔ آئی ایس آئی ایس کا صفایا کیا جائے، القاعدہ کو کچل دیا جائے، طالبان کو اِس ملک پر قبضہ کرنے سے روکا جائے اور امریکیوں کے خلاف کسی دہشت گرد حملے کو رونما ہونے سے پہلے ہی ناکام بنادیا جائے‘‘۔ٹرمپ نے کہاکہ افغانستان سے تخلیہ کیلئے اُن کا ارادہ تھا لیکن کئی ماہ تک تبادلہ خیال کے بعد وہ اِس نتیجے پر پہونچے کہ جلد بازی میں تخلیہ کے نتائج قابل قیاس اور ناقابل قبول ہوسکتے ہیں اور اس سے جو خلاء پیدا ہوگا وہ دہشت گرد گروپ پُر کرسکتے تھے۔

TOPPOPULARRECENT