Saturday , September 23 2017
Home / دنیا / افغانستان سے امریکی فوج کے تخلیہ کا کوئی وقت متعین نہیں : امریکہ

افغانستان سے امریکی فوج کے تخلیہ کا کوئی وقت متعین نہیں : امریکہ

ہم فاتح بن کر نکلیں گے
16 سال کی جنگ کا کچھ تو مثبت نتیجہ سامنے آنا چاہئے
سابقہ حکومت کی غلطیاں دہرانا نہیں چاہتے
واشنگٹن ۔ 24 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : امریکہ نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے تخلیہ کا کوئی وقت متعین نہیں ہے جب کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ جنگ زدہ افغانستان میں 16 سال سے جاری جنگ کے مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد ہی افغانستان سے اپنی فوجوں کا تخلیہ کروائے گا ۔ امریکی فوج باوقار انداز میں افغانستان سے وداع لے گی ۔ یاد رہے کہ جس وقت ٹرمپ نے افغانستان اور جنوبی ایشیا پر اپنی نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا اس وقت انہوں نے یہ واضح کردیا تھا کہ امریکی افواج عاجلانہ طور پر افغانستان چھوڑنے والی نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ تک کہا کہ امریکہ اپنی تمام خارجہ پالیسیوں پر فیصلہ کرنے سے قبل امریکیوں کے تحفظ کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتا ہے ۔ انہوں نے ویٹرنس کے ایک اجتماع سے نواڈا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے امریکی فوجیوں نے افغانستان میں جو قربانیاں دی ہیں انہیں ہم رائیگاں ہونے نہیں دیں گے لہذا افغانستان میں جاری جنگ فیصلہ کن ہونی چاہئے تاکہ ہمیں بھی محسوس ہو کہ ہم نے اپنے مرد اور خاتون فوجیوں پر اُس اعتماد کا اظہار کیا ہے جس کی وہ توقع کرتے ہیں یعنی جنگ میں سرخرو ہونے کی ، جیت حاصل کرنے کی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ صرف کچھ روز قبل ہی ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ افغانستان اور جنوبی ایشیا میں امریکہ کی پالیسی میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہوں گی اور امریکی افواج اب ’ جیت ‘ کے لیے یہ لڑائی جاری رکھے گی ۔ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار ملک کے کمانڈرانچیف کی حیثیت سے پرائم ٹائم ٹی وی خطاب کے دوران اپنے ایک امریکی قائد کی جانب سے پاکستان کو دئیے جانے والے انتباہ کا بھی تذکرہ کیا جو پاکستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنانے کے پس منظر میں دیا گیا تھا اور ہندوستان سے خواہش کی گئی تھی کہ جنگ زدہ افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے وہ ( ہندوستان ) بھی کلیدی رول ادا کرے ۔

اسی دوران وائیٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری سارہ سینڈرس نے بھی اخباری نمائندوں کو بتایا کہ امریکی فوج کے افغانستان سے تخلیہ کا کوئی وقت متعین نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا جیسا کہ صدر موصوف کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ افغانستان سے امریکی فوج کے تخلیہ کے لیے کوئی ٹائم ٹیبل مقرر نہیں ہے ۔ ٹرمپ سابق امریکی انتظامیہ کی طرح غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہتے اور فی الحال اپنے فوجی جنرلس پر انحصار کرنا چاہتے ہیں ۔ جو بحری ، بری اور فضائی فوج کا حصہ ہیں ۔ ٹرمپ ان حالات کا بھی جائزہ لیں گے جن کے تحت اگر حالات سازگار ہوئے تو صرف اسی وقت امریکی فوج کو افغانستان سے واپس بلالیا جائے گا ۔ سارہ سینڈرس نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی اور یہ بھی بتایا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کے تعلق سے بھی کوئی اعلان صرف ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس کی جانب سے کیا جائے گا ۔ سینڈرس نے بتایا کہ اس تعلق سے ڈپارٹمنٹ آف جسٹس سے بات ہوئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں پیشرفت ہورہی ہے ۔ البتہ سلیکان ویلی سے ہندوستانی نژاد امریکی کانگریس مین روکھنہ نے افغانستان سے امریکی افواج کے تخلیہ کی وکالت کی ۔ انہوں نے کہا کہ 16 سال کی طویل جنگ کے بعد بھی امریکی حکومت کوئی جامع بیان دینے سے گریز کررہی ہے اور عوام تذبذب کا شکار ہیں ۔ عوام اپنے منتخبہ نمائندوں سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ کوئی بھی فیصلہ کریں لیکن فیصلہ ٹھوس نوعیت کا ہونا چاہئے ۔ اس میں اگر مگر ، لیکن ، جیسا کہ ، تقریباً ، حالانکہ ، چونکہ جیسے الفاظ کا استعمال نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ یہی وہ الفاظ ہیں جو الجھن اور کنفیوژن پیدا کرتے ہیں۔ اسی دوران دیگر کانگریس مین آڈم کنگ زنگر نے کہا کہ افغانستان کی جنگ امریکہ کی ان جنگوں سے قدرے مختلف ہے جن میں قبل ازیں امریکہ ملوث رہا ہے کیوں کہ افغانستان کی جنگ دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف ہے ۔

TOPPOPULARRECENT