Wednesday , August 23 2017
Home / دنیا / افغانستان سے دہشت گرد گروپس سے مقابلہ کی خواہش

افغانستان سے دہشت گرد گروپس سے مقابلہ کی خواہش

طالبان ‘ القاعدہ اور دولت اسلامیہ سے ملک کے استحکام کو خطرہ ‘ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بیان
اقوام متحدہ ۔ 19مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی ایک قرارداد میں افغانستان سے خواہش کی ہے کہ وہ طالبان ‘ القاعدہ ‘ دولت اسلامیہ سے ملحق تنظیموں اور دیگر دہشت گرد گروپس سے لاحق ’’ خطرے ‘‘ کا مقابلہ کرے ۔ یہ قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں متفقہ طور پر منظور کی گئی اور اس میں اقوام متحدہ کے سفارت خانہ برائے افغانستان کو 17 مارچ 2018ء تک برقرار رکھنے اور افغانستان کو اس مقابلہ میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ قرارداد میں گہری فکرمندی ظاہر کی گئی کہ افغانستان میں دولت اسلامیہ سے ملحق تنظیموں کی موجودگی اور ان کے فروغ میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ 15رکنی سلامتی کونسل نے حکومت افغانستان کی مدد کی پابند ہونے کا اعادہ کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ افغانستان کی قومی دفاعی اور صیانتی افواج کی ہر ممکن مدد کی پابند ہے ۔ تاکہ افغانستان دہشت گردی اور پُرتشدد انتہا پسندی سے مقابلہ کرنے کے قابل بن سکے ۔

سلامتی کونسل نے حکومت افغانستان سے خواہش کی کہ بین الاقوامی امداد کے ساتھ جو طالبان ‘ القاعدہ ‘ دولت اسلامیہ سے ملحق گروپس اور دیگر دہشت گرد گروپس سے لاحق خطرہ سے نمٹنے کیلئے جاری رکھی جائے گی ۔اقوام متحدہ نے کہا کہ اس کا سفارت خانہ برائے افغانستان‘ افغان زیرقیادت اور افغان امن کارروائی میں تائید کا اپنا کردار ادا کرتا رہے گا ۔ اقوام متحدہ نے ملک کی جاریہ کوششوں کا خیرمقدم کیا جن سے علاقائی ربط اور معاشی تعاون افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک میں دن بہ دن فروغ پذیر ہے ۔ سلامتی کونسل نے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ترکمانستان ۔ افغانستان ۔ پاکستان ۔ ہندوستان ( تاپی)  گیس پائپ لائن پراجکٹ اور چاہ بہار بندرگاہ پراجکٹ افغانستان  ‘ ہندوستان اور ایران کے درمیان جاری ہے ۔  تاپی پراجکٹ کی لاگت کا تخمینہ ابتداء میں 10ارب امریکی ڈالر کیا گیا ہے ۔ اس پائپ لائن کے ذریعہ 33ارب مکعب میٹر قدرتی گیس سالانہ منتقل کی جاسکے گی ۔ 1800کلومیٹر پائپ لائن ترکمانستان سے ہندوستان تک براہ پاکستان اور افغانستان نصب کی جائے گی ۔

چاہ بہار بندرگاہ جنوب مشرقی ایران کی خلیج عمان میں واقع ہے ۔ یہ واحد ایرانی بندرگاہ ہے جس کے راستہ سے سمندر تک رسائی ممکن ہے ۔ ہندوستان ‘ ایران اور افغانستان نے سہ فریقی معاہدہ پر دستخط کردیئے ہیں  تاکہ تین ممالک سے گذرنے والی ٹرانسپورٹ راہداری قائم کی جاسکیں ۔سلامتی کونسل نے علاقائی ربط ‘ تجارت اور حمل ونقل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے  کہا کہ علاقائی ترقی کے اقدامات جیسے شاہراہ ریشم معاشی پٹی اور بحری شاہراہ ریشم قابل ستائش اقدامات ہیں ۔ قرارداد میں باہمی حمل ون قل اور تجارت کے معاہدوں کی تکمیل پر زور دیا گیا ہے تاکہ باہمی تعاون اور سفر کی سہولتوں میں اضافہ کیا جاسکے ‘ جس سے پائیدار معاشی فروغ اور اس علاقہ میں بشمول افغانستان ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کا موقع ہے ۔ انسانی حقوق کے بارے میں سلامتی کونسل نے بچوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مسلح جھڑپوں کے دوران بچوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے ‘ ایک شفاف نظام انصاف قائم کیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT