Sunday , September 24 2017
Home / دنیا / افغانستان میں ہندوستان کے ترقیاتی کام پاکستان کیلئے راست خطرہ نہیں : امریکہ

افغانستان میں ہندوستان کے ترقیاتی کام پاکستان کیلئے راست خطرہ نہیں : امریکہ

پاکستان نے بھی دہشت گردی کے قلع قمع کیلئے
قربانیاں دی ہیں
ہندوستان سے بھی افغانستان میں قیام امن کیلئے
کلیدی رول ادا کرنے کا اعادہ
وائیٹ ہاؤس عہدیدار سے تفصیلی بات چیت
واشنگٹن ۔ 25 اگست (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے ایک سینئر عہدیدار نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ہندوستان کی راست معاشی سرگرمیوں سے پاکستان کیلئے کوئی خطرہ نہیں ہے جبکہ پاکستان کو اپنے عدم تعاون کے رویہ کو ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی پاکستان کو اپنی سرزمین پر پائے جانے والے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ یاد رہیکہ کچھ ہی دن قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان سے خواہش کی تھی کہ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کیلئے وہ ایک کلیدی رول ادا کرسکتا ہے اور یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ عجلت میں اپنی فوجوں کا افغانستان سے تخلیہ نہیں کروائے گا۔ وائیٹ ہاؤس کے عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ایک طرف تو ہم افغانستان میں ہندوستان کے رول کی ستائش کرتے ہیں کیونکہ خیرسگالی کے جذبہ کے ساتھ ہندوستانی وہاں ترقیاتی کاموں میں مصروف ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہندوستان نے افغانستان کو 3 بلین امریکی ڈالرس کا عطیہ بھی دیا ہے جس کی امریکہ ستائش کرتا ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہندوستان کے اس جذبہ خیرسگالی سے پاکستان کو کوئی خطرہ ہے۔ وائیٹ ہاؤس کے ایک دیگر عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ فی الحال پاکستان کے ساتھ امریکہ کیا اقدامات کرنے والا ہے اس کے بارے میں وہ کوئی تفصیلات بتانے سے قاصر ہیں۔ یہ بات انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی جہاں ان سے پوچھا گیا تھا کہ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان اور جنوبی ایشیاء کے بارے میں نئی پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان کی جانب سے تشویشناک بیانات سامنے آرہے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہیکہ پاکستان فی الحال کچھ بوکھلاہٹ کا شکار ہے لیکن ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اس وقت کئی متبادل موجود ہیں جن میں سے ایک یہ ہیکہ وہ امریکہ کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور اپنے عدم تعاون کے رویہ کو ترک کردے کیونکہ ایسا کرنا ہی پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔ امریکہ سخت اقدامات کرتے ہوئے پاکستانی حکومت اور عوام کو مزید مشکلات میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ پاکستان میں نواز شریف کے سیاسی منظر سے غائب ہونے کے بعد نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی کچھ سنبھلنے کا موقع ملنا چاہئے ورنہ وہ امریکہ کے بارے میں کہیں غلط رائے قائم نہ کرلیں اور یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ ’’سر منڈاتے ہی اولے پڑے‘‘۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان میں دیرپا امن قائم ہوجائے جس سے یقینی طور پر پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا۔

امریکہ پاکستان سے صرف اس بات کا خواہاں ہیکہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں شدت پیدا کرے۔ جنوبی ایشیاء میں پاکستان اہم ترین ملک ہے جسے دنیا کا ہر بڑا ملک اہم شراکت دار تصور کرتا ہے لہٰذا یہ ایک فطری بات ہیکہ پاکستان کو بھی دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ خود صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ شراکت داری خود پاکستان کے مفاد میں ہے اور اگر دہشت گرد گروپس کے خلاف پاکستان کارروائی نہیں کرے گا تو اس کا سب سے بڑا نقصان ہے۔ آج امریکہ اور پاکستان کے کئی مشترکہ مفاد ہیں جن کی تکمیل پاکستان کے تعاون سے ہی ہوسکتی ہے۔ ہندوستان کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان بھی ایک باوقار اور بارسوخ شراکت دار ہے اور ہندوستان کے ساتھ امریکہ کا مفاد محض جنوبی ایشیاء تک محدود نہیں۔ پاکستان نے بھی دہشت گردی کے قلع قمع کیلئے کافی قربانیاں دی ہیں جن کی امریکہ تردید نہیں کرتا لیکن پاکستان کو امریکہ کو یہ تیقن دینا ہوگا کہ خطہ میں دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کیلئے وہ امریکہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے درکار نشانہ کو حاصل کرے گا۔ ہندوستان نے افغانستان کی ترقی میں اہم رول ادا کیا ہے جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور ہم جب بھی افغانستان میں ہندوستان کے ترقیاتی کاموںکی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس خطہ میں پاکستان کی اہمیت کو کم کررہے ہیں اور یہ بھی سوچتے ہیں کہ پاکستان کو افغانستان میں ہندوستان کی موجودگی سے تشویش میں مبتلاء ہونے کی ضرورت نہیں۔

TOPPOPULARRECENT