Saturday , August 19 2017
Home / دنیا / افغانستان میں 2015میں 11ہزار شہری ہلاک

افغانستان میں 2015میں 11ہزار شہری ہلاک

اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ 2015میں انکشاف ‘ 2009کے بعد ہلاکتوں کی اعظم ترین تعداد
کابل۔14فبروری( سیاست ڈاٹ کام ) افغانستان میں 2015ء میںہلا ک یا زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد 2009سے اب تک کی اعظم ترین تعداد ہے ۔ اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے بموجب خاص طور پر بچوں کو خانہ جنگی کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے ۔ 2015ء میں 11002شہری متاثر ہوئے جن میں 3545 ہلاکتیں بھی شامل ہیں ۔ اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ کے بموجب مسلح جنگ میں 2014ء کی بہ نسبت چار فیصد اضافہ ہوا ۔ شہریوں کو جو نقصان پہنچا وہ ناقابل قبول ہے ۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان نکولس ہیسم کے بموجب جو لوگ افغانستان میں ٹھوس کارروائی کے نتیجہ سے مصائب کا شکار ہوئے اُن میں سے بیشتر شہریوں کو بچانے اور ہلاکتوں کے انسداد اور لوگوں کو جسمانی معذور بنادینے سے روکنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہوئے ۔ لڑائی اور جھڑپوں سے جو رہائشی علاقوں میںہوئی اور بڑے شہروں میںہوئی ‘ 2015ء میں شہریوں کی ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ ہے اس سے طالبان عسکریت پسندوں کے شہری مراکز میں اثر و رسوخ کا ثبوت ملتا ہے ۔ غالب امکان ہے کہ شہریوں کو جو نقصان پہنچا وہ طالبان کو روکنے کی کوششوں کے درمیان پہنچا ۔

اقوام متحدہ نے 2009ء سے افغانستان کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ مرتب کرنا شروع کیا ہے جن حملوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی اقوام متحدہ کے سفارت خانہ برائے افغانستان کو ذمہ داری دی گئی تھی کہ ہلاکتوں اور مہلوک شہریوں کی تعداد معلوم کی جائے ۔ رپورٹ کے بموجب 2015ء میں مہلوکین کی جملہ تعداد کا 62فیصد شہری تھے جو حکومت مخالف عناصر کے ہاتھوں ہلاک ہوئے  لیکن رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ حکومت حامی افواج کی وجہ سے ہوا ہے ۔ جن میں افغانستان کی فوج اور بین الاقوامی فوجی دونوں شامل ہیں ۔ جملہ ہلاکتوں کا 17فیصد 2015ء میں ان فوجیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ‘ 2014ء کی بہ بسبت 28فیصد اضافہ ہے ۔ رپورٹ کے بموجب یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ کس فریق کی وجہ سے باقی 21فیصد ہلاکتیں واقع ہوئیں ۔ رپورٹ میں خاص طور پر افغان فوج پر تنقید کی گئی ہے کیونکہ وہ رہائشی علاقوں میں دھماکو مادے استعمال کرتی تھی ۔رپورٹ میں سوال کیا گیا ہے کہ انہوں نے راکٹ کیوں فائر کئے تھے ‘ کیا یہ ضروری تھا ۔ صوبہ وردک کے ایک دیہات میں ڈسمبر میں ایک شخص کا باپ شل باری کے نتیجہ میںہلاک ہوگیا ۔ 9افراد حملہ میں ہلاک ہوئے ۔ خبر میں زمینی جنگ میں ملوث ہونے کے خطرات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ چار ہلاکتوں میں سے ایک بچہ تھا ۔ رپورٹ کے بموجب بچوں کی ہلاکتوں میں ایک سال کی مدت میں 14فیصد اضافہ ہوا ۔ آپ اس بیٹے کی مصیبتوں کا تصور کرسکتے ہیں جو خود اپنے خون میں نہایا ہواتھا اور اپنے باپ کی موت پر رو رہا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT