Monday , August 21 2017
Home / دنیا / افغانستان و طالبان کے مابین راست بات چیت پر زور

افغانستان و طالبان کے مابین راست بات چیت پر زور

چار ممالک پر مشتمل گروپ کے تیسرے اجلاس کا انعقاد ۔ کابل میں آئندہ اجلاس ہوگا
اسلام آباد 6 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) افغانستان میں گذشتہ 15 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے چار ممالک کے مابین تیسرے راونڈ کی بات چیت اس اپیل کے ساتھ ختم ہوگئی کہ افغان حکومت اور جنگجو طالبان کے مابین راست بات چیت ہونی چاہئے ۔ ان ممالک نے دونوں فریقین کے مابین جاریہ ماہ کے ختم تک بات چیت پر زور دیا ہے ۔ چار قومی کانفرنس کے اختتام کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت کو آگے بڑھانے کے ایک منصوبہ عمل کو قطعیت دیدی گئی ہے تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔ اس بات چیت میں پاکستان ‘ افغانستان ‘ چین اور امریکہ کے وفود نے حصہ لیا ۔ چار قومی رابطہ گروپ میں شامل ممالک نے اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ حکومت افغانستان اور طالبان گروپس کے مابین راست بات چیت کی تواریخ کو قطعیت دینے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے ۔ اس گروپ نے امید کا اظہار کیا ہے کہ راست بات چیت فبروری 2016 کے ختم تک منعقد ہوگی ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی دو ادوار کی بات چیت میں پیشرفت کو دیکھتے ہوئے تیسرے اجلاس میں ان ممالک نے افغان حکومت اور طالبان گروپس کے مابین راست بات چیت کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ۔ اس سلسلہ میں گروپ نے ایک منصوبہ عمل کو بھی منظوری دی ہے جس میں بات چیت کیلئے کوششوں اور مراحل کو تیز رفتار بنانے سے اتفاق کیا گیا ہے ۔ چار قومی گروپ نے طالبان سے کہا کہ وہ بات چیت کا حصہ بن جائیں۔ طالبان آج کے اجلاس میںشریک نہیں تھے ۔ اس گروپ نے چوتھے راونڈ کی بات چیت 23 فبروری کو کابل میں منعقد کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ گروپ نے کہا کہ مصالحتی کوشششوں کا نتیجہ ایک سیاسی حل ہونا چاہئے جو تشدد کے خاتمہ کے ذریعہ دریافت کیا جائے اور اس کے نتیجہ میں افغانستان میں دیرپا امن قائم ہوسکے ۔ پاکستان کے معتمد خارجہ اعزاز احمد چودھری نے یہ اجلاس منعقد کیا تھا جس میں افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل قرزئی نے بھی شرکت کی ۔

TOPPOPULARRECENT