Wednesday , September 20 2017
Home / دنیا / افغانستان کے یوم آزادی کے موقع پر وسیع تر سکیوریٹی ‘ سخت چوکسی

افغانستان کے یوم آزادی کے موقع پر وسیع تر سکیوریٹی ‘ سخت چوکسی

کابل 19 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) افغان سکیوریٹی فورسیس کو آج سخت چوکس کردیا گیا ہے کیونکہ جنگ زدہ اس ملک میں جو کئی خطرناک حملوں کا شکار ہو رہا ہے ‘ یوم آزادی تقاریب کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ ویسے ان تقاریب میں زیادہ جوش و خروش دکھائی نہیں دیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ دارالحکومت کابل میں پولیس کی تعیناتی میں اضافہ کردیا گیا ہے جہاں پاپ اسٹار اریانا سعید کا ایک کنسرٹ منعقد ہوگا ۔ اس کے علاوہ صدر افغانستان اشرف غنی اہم افغان شہریوں کیلئے ایک خانگی تقریب منعقد کرنے والے ہیں۔ کابل پولیس کے ترجمان عبدالبشیر مجاہد نے بتایا کہ ہماری تمام پولیس یونٹوں کو انتہائی چوکس کردیا گیا ہے اور شہر میں کئی مقامات پر انہیں متعین کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پولیس چیک پوائنٹس کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے اور سفارتی کوارٹرس کے قریب مزیدچوکسی برتی جا رہی ہے ۔ یہ اندیشے لاحق ہے کہ یوم آزادی کے موقع پر طالبان کی جانب سے کوئی بڑا حملہ بھی کیا جاسکتا ہے ۔ 19 اگسٹ کو 1919 میں راولپنڈی میں معاہدہ پر دستخط ہوئے تھے جس کے تحت افغانستان کو برطانیہ سے مکمل آزادی فراہم کی گئی تھی حالانکہ تین ہلاک خیز جنگوں کے باوجود افغانستان کبھی برطانوی حکومت کا حصہ نہیں رہا تھا ۔ حالانکہ افغانستان کا سرخ ‘ سیاہ اور سبز رنگ کا ترنگا پرچم کابل میں کئی مقامات پر لہرایا گیا ہے لیکن 19 اگسٹ کو کوئی خاص تقریب منعقد نہیں ہوئی کیونکہ یہاں عام شہری سکیوریٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے الجھن کا شکار ہیں اور وہ اس بات سے بھی خوش نہیں ہیں کہ امریکہ کی زیر قیادت اتحادی افواج بھی یہاں حالات کو بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔ حالیہ عرصہ میں یوم آزادی کے موقع پر افغانستان میں کوئی خاص تقریب منعقد نہیں کی گئی ہے ۔ صدر افغانستان اشرف غنی صدارتی محل میں افغان شہریوں اور اعلی عہدیداروں کو مدعو کرینگے ۔ وہ اس موقع پر خطاب کرنے کے علاوہ آزادی مینار پر پھول بھی چڑھائیں گے جو وزارت دفاع کے کمپاونڈ میں واقع ہے ۔ وزارت دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے یہ بات بتائی ۔
شام میں کار بم دھماکہ‘ دو افراد ہلاک
بیروت 19 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) حقوق انسانی کارکنوں کے بموجب شام کے ساحلی شہر لطاقیہ میں ایک کار بم دھماکہ میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ شہر صدر شام بشار الاسد کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ موافق حکومت لطاقیہ نیوز نیٹ ورک کے فیس بک پیج پر کہا گیا ہے کہ یہ کار ایک چیک پوائنٹ پر دھماکہ کا شکار ہوگئی تھی ۔ برطانیہ سے کام کرنے والے حقوق انسانی گروپ نے بھی اس حملہ کی توثیق کی ہے ۔ حکومت شام کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک میں حالات کو بتدریج معمول پر لایا جائے اور ہلاکت خیز حملوں کا سلسلہ روکا جاسکے جبکہ یہاں جنگ شروع ہوئے چھ سال ہوگئے ہیں۔ دارالحکومت دمشق میں حکومت نے پہلی مرتبہ ایک تجارتی میلہ بھی منعقد کیا تھا ۔ اس کے باوجود کئی علاقوں میں لڑائی ہنوز جاری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT