Wednesday , August 23 2017
Home / دنیا / افغان حکومت کا عسکری گروپ حزب اسلامی سے امن معاہدہ

افغان حکومت کا عسکری گروپ حزب اسلامی سے امن معاہدہ

آج قطعیت کا امکان ۔ اشرف غنی کی منظوری کا انتظار ۔ گلبدین حکمت یار کی کابل آمد متوقع
کابل 14 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت افغانستان ‘ امکان ہے کہ اندرون چند دن ملک میں سرگرم انتہائی خطرناک عسکری تخریب کار گروپس کے ساتھ ایک امن معاملت کو قطعیت دیگی ۔ یہ معاہدہ در اصل ملک میں گذشتہ 15 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں میں پیشرفت کے مترادف ہوگا ۔ ایک عہدیدار اور گروپ کے ایک نمائندے نے یہ بات بتائی ۔ کابل کی اعلی پیس کونسل کے نائب سربراہ عطا الرحمن سلیم نے بتایا کہ حزب اسلامی کی مسلح ونگ کے ساتھ یہ معاملت کل تک مکمل ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں گذشتہ دو سال سے مشاورت کا سلسلہ جاری تھا ۔ حزب اسلامی کے ایک سینئر نمائندے امین کریم نے بھی بتایا کہ انہیں امید ہے کہ صدر اشرف غنی معاہدہ کے قطعی مسودہ کو کل تک منظوری دینگے ۔ یہ معاہدہ صدر اشرف غنی کیلئے تخریب کار گروپس کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں میں راحت ثابت ہوسکتا ہے ۔ یہ گروپس کابل انتظامیہ کو بیدخل کرنے کیلئے مسلسل جدوجہد کر رہے تھے ۔ اشرف غنی نے طالبان کے ساتھ بات چیت کیلئے بھی کوششیں کی تھیں اور اس کیلئے پاکستانی حکومت کی مدد حاصل کی جا رہی تھی لیکن یہ کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ہی طالبان کی مدد کی جا رہی ہے ۔ حالانکہ حزب اسلامی حالیہ عرصہ میں ایک ساکت طاقت بن گئی ہے اور اس کا افغانستان میں کوئی سیاسی اثر بھی نہیں ہے لیکن یہ معاملت حکومت افغانستان کیلئے مستقبل میں طالبان کے ساتھ کسی مفاہمت کی راہ ہموار کرسکتی ہے ۔ حزب اسلامی گلبدین حکمت یار کی قیادت میں کام کرتی ہے جو 1992 – 96 کی خانہ جنگی کے دوران کابل میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ گلبدین حکمت یار پاکستان میں روپوش ہیں لیکن امین کریم کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان میں کسی نامعلوم مقام پر مقیم ہیں ۔ کہا گیا یہ کہ اگر اس معاہدہ کو قطعیت دی جاتی ہے تو وہ اس پر دستخط کیلئے جلدی ہی کابل آسکتے ہیں اور یہیں قیام کرسکتے ہیں۔ گلبدین حکمت یار کو امریکہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا ہے اور انہیں اقوام متحدہ نے اسامہ بن لادن کے ساتھ بلیک لسٹ بھی کیا تھا ۔ اگر مذکورہ بالا معاہدہ کو قطعیت دی جاتی ہے تو پھر حکومت افغانستان ان پر عائد امتناع کو ختم کرنے کیلئے کوششیں کرسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT