Sunday , June 25 2017
Home / Top Stories / افغان فوجی ہاسپٹل پر بندوق برداروں کی یلغار، 30 ہلاک

افغان فوجی ہاسپٹل پر بندوق برداروں کی یلغار، 30 ہلاک

اے کے 47 سے لیس ڈاکٹروں کے بھیس میں تباہی مچانے والے دہشت گرد مارے گئے

کابل ۔ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام)وزارت صحت کے ترجمان اسمعیل کاواسی نے کہا کہ تین سویلئنس کی نعشوں اور 60 زخمی افراد کو قریبی دواخانوں سے رجوع کیا گیا ہے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ مہلوکین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ دولت وزیری نے کہا کہ افغان فورسیس ان حملہ آوروں سے دواخانہ کی عمارت میں منزل بہ منزل لرائی میں مصروف ہیں۔ کامپلکس کی چھٹویں اور آٹھویں منزلوں سے حملہ آوروں کو نکالنے کی مہم جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک خودکش بمبار اپنے ہی دھماکہ میں اڑ گیا۔ دوسرے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ سیکوریٹی فورسیس کا ایک اہلکار اس کارروائی میں ہلاک اور دیگر تین زخمی ہوئے ہیں۔ افغان ہیلی کاپٹروں نے اس علاقہ کا محاصرہ کرلیا ہے۔ اس ہاسپٹل کے ایک ورکر عبدالقادر جس نے یہ حملہ دیکھا ہے کہا کہ سفید کوٹ میں ملوس ایک حملہ آور نے اس پر اور اس کے ساتھیوں پر فائرنگ کی تھی۔ عبدالقادر نے کہا کہ حملہ کے وقت ایک آپریشن تھیٹر میں جہاں وہ کام کرتا ہے تقریباً سات مریضوں کے آپریشن کی تیاری کی جارہی تھی۔ افغان صدر اشرف غنی نے جو اس حملہ کے وقت ’’عالمی یوم خواتین‘‘ کے ضمن میں پہلے سے مقررہ پروگرام کے مطابق خطاب میں مصروف تھے، کہا کہ یہ تمام افغان عوام پر حملہ ہے۔ افغانستان کے سب سے بڑے فوجی دواخانہ میں کئی بندوق بردار آج ڈاکٹروں کے بھیس میں گھس پڑے اور چھ گھنٹوں تک اس دواخانہ کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں کم سے کم 30 افراد ہلاک اور دیگر 66 زخمی ہوگئے۔ اسلامک اسٹیٹ (داعش) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ یہ جہادی تنظیم اس جنگ زدہ ملک میں حالیہ عرصہ کے دوران تیزی سے وسعت اختیار کر گئی ہے۔ حکام نے کہا ہیکہ دھماکوں اور بندوق چلنے کی گھن گرج سے کابل کا یہ سفارتی علاقہ دہل گیا ہے اور آسمان پر سیاہ دھویں کے گھنے بادل دیکھے گئے۔ کابل سردار محمد داؤد خاں فوجی ہاسپٹل پر دہشت گرد حملے کے دوران اس کے ارکان عملہ تہہ خانوں میں روپوشی کیلئے مجبور ہوگئے اور مدد کیلئے سوشیل میڈیا پر دردمندانہ پیغامات جاری کرنے لگے۔ مقامی ٹیلیویژن چینلوں نے اپنے فوٹیج میں بتایا کہ چند ارکان عملہ دواخانہ میں سب سے اوپر کی منزل پر کھڑکیوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ ہاسپٹل اسٹاف کے ایک رکن نے فیس بک پر لکھا کہ ’’حملہ آور دواخانہ کے اندر ہیں۔ ہمارے لئے دعا کیجئے‘‘۔ اس دواخانہ کے ایک ملازم نے کہاکہ ایک خودکش بمبار داخل ہوا اور عقبی دروازہ کے قریب باب الداخلہ پر خود کو اڑا لیا۔ دواخانہ کے ایک ملازم عبدالقدیر نے کہا کہ ’’میں نے دیکھا کہ حملہ آور جو ڈاکٹروں کے بھیس میں تھے اور اے کے 47 رائفلوں سے لیس تھے، دواخانہ کی تیسری منزل پر مریضوں اور گارڈس پر اندھادھند فائرنگ کررہے تھے۔ اس دوران وزارت داخلہ کے ترجمان صدیقہ صدیقی نے ایک مختصر بیان دیتے ہوئے اے ایف پی سے کہا کہ ’’تمام حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ اب ہم نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں‘‘۔ افغانستان کے چیف ایگزیکیٹیو عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ’’یہ ایک مجرمانہ حرکت ہے۔ دواخانہ پر حملہ کو حق بجانب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہم ان حملہ آوروں کو کبھی معاف نہیں کریں گے‘‘۔ اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں نے ایک توثیق شدہ ٹیلی گرام اکاؤنٹ کے ذریعہ جاری کردہ پیام میں اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم طاقتور عسکری تنظیم طالبان نے کہا کہ وہ اس حملہ میں ملوث نہیں ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT