Saturday , October 21 2017
Home / دنیا / افغان پولیس ملازم کا امریکی مشیروں کو ہلاک کرنے کا اعتراف

افغان پولیس ملازم کا امریکی مشیروں کو ہلاک کرنے کا اعتراف

کا بل۔ 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) افغان پولیس کے سابق ملازم نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے 2012 میں کابل میں واقع وزارت داخلہ کی عمارت میں دو امریکی مشیروں کو ہلاک کیا تھا۔عبدالصبور کو رواں ہفتے کابل کے مشرق میں سالانگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ان کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ان کو اپنے کیے پر پچھتاوا نہیں بلکہ فخر ہے۔’مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں اپنے کیے کے نتیجے میں مر جاؤں۔سابق اہلکار نے کہا کہ انھوں نے دو امریکی مشیروں کو اپنی سرکاری پستول سے قریب سے گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔عبدالصبور نے کہا کہ اس وقت ان کو ان رپورٹوں پر غصہ تھا کہ امریکی فوجیوں نے قرآن کی بیحرمتی کی ہے۔’میں نے جب سنا کہ انھوں نے قرآن کو آگ لگائی تو میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا۔‘عبدالصبور نے کہا ’جب سے اتحادی فوجیں میرے ملک آئی ہیں انھوں نے ہماری بھلائی کے لیے کیا کیا ہے۔ کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں؟2012 میں عبدالصبور وزارت داخلہ میں سی سی ٹی وی کے کنٹرول سینٹر میں ملازم تھے۔دو امریکی مشیروں کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے بعد وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔بی بی سی کی جانب سے اس واقعہ کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سکیورٹی کے حوالے سے غلطیوں کے باعث یہ واقعہ پیش آیا۔اس واقعہ کے بعد اتحادی فوج اور افغان سکیورٹی فورسز اور فوجی حکام کے درمیان اعتماد کو ٹھیس پہنچی۔وزارت داخلہ کے دستاویزات کے مطابق عبدالصبور کو پولیس سے دو بار برطرف کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود تیسری بار بھی اس کو پولیس نے ملازمت پر بحال کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT