Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولس سے غریب اقلیتی خاندان میں تعلیم کا ماحول

اقامتی اسکولس سے غریب اقلیتی خاندان میں تعلیم کا ماحول

آئندہ تعلیمی سال میں اسکولس میں مزید اضافہ ، محمد محمود علی کا عہدیداروں کے جائزہ اجلاس سے خطاب
حیدرآباد۔13 جنوری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ آئندہ تعلیمی سال سے ریاست میں اقلیتوں کے لیے مزید 129 اقامتی اسکولس کا آغاز ہوگا۔ فی الوقت 71 اقامتی اسکولس گزشتہ تعلیمی سال سے کام کررہے ہیں اور نئے اسکولوں کے قیام کے بعد ریاست بھر میں اسکولس کی تعداد بڑھ کر 200 ہوجائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اقامتی اسکولس کے مسئلہ پر عوامی نمائندوں اور عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں موجودہ اسکولوں کی کارکردگی اور مجوزہ نئے اسکولوں کے قیام کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ اسکولوں میں معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے بی ایڈ اور ڈگری ہولڈر امیدواروں کو اساتذہ کی حیثیت سے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ اقامتی اسکولس کے اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی بھرتی کی جائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کی ہدایت پر عوامی نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے اقلیتی آبادی والے علاقوں میں اسکولوں کے قیام کے لیے تجاویز حاصل کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات کے سلسلہ میں پبلک سرویس کمیشن سے جلد ہی کارروائی کا آغاز ہوگا اور اس وقت تک بی ایڈ اور ڈگری ہولڈر امیدواروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اقامتی اسکولس میں انگلش میڈیم کے ساتھ کارپوریٹ تعلیمی اداروں کی طرز پر تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی سے نہ صرف طلبہ بلکہ ان کے سرپرست بھی مطمئن ہیں اور اقامتی اسکولس میں غریب اقلیتی خاندانوں میں تعلیم کا ماحول پیدا کیا ہے۔ جائزہ اجلاس میں ریاستی وزراء این نرسمہا ریڈی، کے پدما رائو کے علاوہ شہر سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں، حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خان، سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل اور اقلیتی اداروں کی سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ نے شرکت کی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ایسے اسمبلی حلقے جہاں مسلمانوں کی آبادی 25 تا 30 ہزار ہے، وہاں دو اقامتی اسکولس قائم کئے جائیں گے۔ 30 تا 50 ہزار مسلم آبادی والے حلقوں میں چار اسکولس، 50 ہزار تا ایک لاکھ مسلم آبادی والے حلقوں میں چھ نئے اقامتی اسکولس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان غربت کے باعث انتہائی چھوٹے اور دو تین کمروں پر مشتمل مکانات میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ان حالات میں بچوں کے لیے تعلیمی ماحول کا امکان کم پایا جاتا ہے۔ حکومت نے ایسے غریب بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے اقامتی اسکولس کی اسکیم شروع کی ہے۔ اقامتی اسکولس میں شریک کیئے گئے طلبہ تعلیم اور وہاں دی جارہی سہولتوں سے مطمئن ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ ہندوستان میں کسی بھی ریاست نے اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے لیے اس طرح کی اسکیمات کا آغاز نہیں کیا جس قدر تلنگانہ میں شروع کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 57 سال میں صرف 12 اقامتی اسکولس اقلیتوں کے لیے قائم کئے گئے تھے جبکہ ٹی آر ایس حکومت نے تین سال میں 200 اقامتی اسکولس کے قیام کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکمرانوں نے اقلیتوں کی ترقی کو ہمیشہ فراموش کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 40 اقامتی اسکولس کے قیام کی تجویز ہے جن میں سے 9 اسکول کام کررہے ہیں۔ انہوں نے اسکولوں کی کامیابی کے لیے عوامی نمائندوں اور پارٹی قائدین سے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کام کرنے کی اپیل کی۔ محمود علی نے کہا کہ جس وقت کے سی آر مرکزی وزیر تھے انہوں نے مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لینے سچر کمیٹی کے قیام کی کوشش کی۔ کمیٹی کی رپورٹ پر عمل آوری کے سلسلہ میں بھی انہوں نے مرکزی حکومت پر دبائو بنایا تھا۔ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ مسلمان دلتوں سے زیادہ پسماندہ ہیں اور چیف منسٹر ان کی ترقی میں سنجیدہ ہیں۔ نظام دور حکومت کے بعد سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب 22 فیصد سے گھٹ کر صرف ایک فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ 60 برسوں میں متحدہ آندھرا کے حکمرانوں نے اقلیتوں کی ترقی پر توجہ نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ صرف ٹی آر ایس حکومت ہی اقلیتوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بناسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT