Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولس میں آن لائن داخلہ کے لیے مایوس کن ردعمل

اقامتی اسکولس میں آن لائن داخلہ کے لیے مایوس کن ردعمل

مسلم اقلیتی طلبہ کی تعداد میں کمی ، غیر مسلم طلبہ کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ
حیدرآباد۔ 18۔ مئی  ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں آئندہ ماہ جون سے شروع ہونے والے 71 اقلیتی اقامتی اسکولس کیلئے آن لائین درخواستوں کی تعداد 20 ہزار تک پہنچ چکی ہے لیکن جن طبقات کیلئے یہ اسکولس قائم کئے جارہے ہیں، ان کی درخواستوں کی تعداد مایوس کن ہیں۔ آج شام تک 10 اضلاع میں 19,277 درخواستیں داخل کی گئیں جن میں مسلم اقلیت کے امیدواروں کی تعداد 7717 ہے جبکہ اکثریتی طبقہ کے امیدواروں کی تعداد 13000 پہنچ چکی ہے۔ اس طرح اقامتی اسکولس کے آغاز کے سلسلہ میں حکام کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ نہ صرف مسلم اقلیت کی درخواستیں کم داخل ہوئیں، ان میں طالبات کی درخواستیں اور بھی کم ہے۔ 7717 درخواستوں میں 4979 لڑکے اور 2740 لڑکیوں نے درخواستیں داخل کیں۔ کم درخواستوں کے حصول کیلئے اقلیتوں میں اسکولوں سے متعلق شعور بیداری کی کمی ذمہ دار ہے۔ حکومت نے اسکولوں کے قیام اور انہیں چلانے کیلئے علحدہ سوسائٹی قائم کردی لیکن سوسائٹی میں عہدیداروں کا تقرر نہیں کیا گیا جس کے باعث غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ اسکولوں کے قیام کا کام چل رہا ہے اور وہ تشہیری مہم کے سلسلہ میں کوئی خاص تجربہ نہیں رکھتے۔ بتایا جاتا ہے کہ بڑی تعداد میں این جی اوز سے تعلق رکھنے والے افراد کو سوسائٹی سے وابستہ کردیا گیا ہے  اور ان میں آپس میں تال میل کی کمی ہے۔ اسکولوں کے سلسلہ میں جس انداز کی تشہیری مہم کا اعلان کیا گیا تھا ، ایسی مہم کسی بھی ضلع میں دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ سوسائٹی نے تشہیری مہم کے سلسلہ میں 10 خصوصی گاڑیاں تیاری کی تھیں جو ہر ضلع میں ہر موضع پہنچ کر اسکولوں کے بارے میں عوام کو واقف کرائیں گی لیکن ان گاڑیوں کے بارے میں عہدیدار لاعلم ہے۔ ہر ضلع کیلئے ایک گاڑی الاٹ کی گئی

 

لیکن حیدرآباد میں بعض سیاسی قائدین دو تشہیری گاڑیاں حاصل کرتے ہوئے ایک ہی مقام پر راہگیروں میں اسکول کے پمفلٹس تقسیم کر رہے ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ یہ گاڑیاں ہر محلے میں گشت کریں اور ان کے ساتھ موجود  افراد عوام کو اسکولوں کی افادیت سے واقف کرائیں گے۔ سوسائٹی میں تجربہ کار افراد کی کمی کا احساس سوسائٹی کے عہدیداروں کو ہے لیکن وہ زیادہ تر غیر سرکاری اداروں پر انحصار کئے ہوئے ہیں ۔ پبلسٹی میٹریل ابھی تک کئی علاقوں میں تقسیم نہیں کیا گیا۔ اگر یہی صورتحال رہی تو اسکولوں کے آغاز تک بھی 75 فیصد مسلم اقلیت کے امیدواروں کی درخواستیں وصول نہیں ہوں گی۔ ابھی تک موصولہ درخواستوں میں سب سے زیادہ 3707 درخواستیں محبوب نگر سے داخل کی گئیں اور سب سے کم 560 نظام آباد سے ہوئی ہے ۔ حیدرآباد سے 1085 ، رنگا ریڈی 1363 ، میدک 1996 ، عادل آباد 2032 ، کریم نگر 19696 ء  ورنگل 2408 ، کھمم 1369 اور نلگنڈہ سے 3061 درخواستیں داخل ہوئی ہیں۔ غیر اقلیت طبقہ میں ایس سی طبقہ سے 4171 ، ایس ٹی 2402 ، او سی 306 ، بی سی 4453 درخواستیں داخل کی گئیں۔ کرسچین طبقہ سے 216 ، سکھ طبقہ سے 10 اور بدھسٹ طبقہ کے دو امیدواروں نے درخواستیں داخل کیں۔

TOPPOPULARRECENT