Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولس میں بچوں کو داخلہ دلوانے کا مشورہ

اقامتی اسکولس میں بچوں کو داخلہ دلوانے کا مشورہ

آج آخری تاریخ، ٹی آر ایس ایم ایل سی محمد فاروق حسین کی سرپرستوں سے اپیل
حیدرآباد ۔ 27 مئی (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر محمد فاروق حسین نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے اپیل کی ہیکہ وہ حکومت کے اقلیتی اقامتی اسکولس میں اپنے بچوں کا داخلہ کراتے ہوئے ان کے مستقبل کو روشن بنائیں اور حکومت کی اس سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے مسابقتی امتحانات میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کا اہل بنائیں۔ مسٹر محمد فاروق حسین نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر تلنگانہ تہذیب و تمدن کے علمبردار ہیں۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کو سنہرے تلنگانہ میں تبدیل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر عملی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سرکاری اقلیتی اقامتی اسکولس کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے پہلے مرحلہ میں 39 اسکولس لڑکے اور 31 اسکولس لڑکیوں اس طرح جملہ 71 اسکولس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تعلیمیافتہ سماج کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔ ان اسکولس میں داخلے کیلئے 28 مئی آخری تاریخ رکھی گئی ہے۔ حکومت کی اس اسکیم پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا زبردست ردعمل دیکھا جارہا ہے جو قابل ستائش ہے۔ مسٹر محمد فاروق حسین نے شہر حیدرآباد میں کم داخلوں کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام شہریوں، رضاکارانہ تنظیموں کی ذمہ داری ہیکہ وہ عوام میں شعور بیدار کرتے ہوئے اقلیتی اقامتی اسکولس میں بچوں کے داخلوں کو یقینی بنانے میں حکومت سے تعاون کریں۔ ٹی آر ایس کے قائد نے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے یہ اسکولس نہ صرف معاون و مددگار ثابت ہوں گے بلکہ ہر مسابقتی امتحانات میں شریک ہونے کے طلبہ اہل ہوں گے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اقلیتوں کیلئے تعلیم کی منفرد اسکیم کا اعلان کیا ہے جس میں زیرتعلیم طلبہ کیلئے مفت قیام طعام ، ڈریس اور کتابوں کی سربراہی عمل میں آئے گی۔ فی طالب علم پر سالانہ 80 ہزا روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ ارد وکی ترقی کو ملحوظ رکھتے ہوئے انگریزی میڈیم کے اسکولس ہونے کے باوجود اردو کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ خاص بات یہ ہیکہ لڑکیوں کیلئے پوری طرح محفوظ اور صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جارہا ہے۔ لڑکے اور لڑکیوں کے علحدہ اسکولس ہوں گے۔ ان اسکولس میں تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی جنرل نالج میں اضافہ کرنے کے علاوہ جسمانی نشوونما کیلئے کھیل کود کے بھی تمام سہولتیں مہیا کی جارہی ہیں۔ لہٰذا وہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کا مستقبل روشن بنانے کیلئے ان اسکولس میں داخلہ کرائیں جہاں تعلیم یافتہ اساتذہ اور انفراسٹرکچر کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔

TOPPOPULARRECENT