Saturday , March 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولس میں تقررات کا امتحان اردو میں لکھنے کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ

اقامتی اسکولس میں تقررات کا امتحان اردو میں لکھنے کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ

ڈگری کامیابی کی شرط کا لزوم برخاست کیا جائے ، محمد خواجہ فخر الدین صدر تلنگانہ پی سی سی اقلیتی ڈپارٹمنٹ کا بیان
حیدرآباد ۔ 8 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخر الدین نے اقامتی اسکولس ٹیچرس کے لیے اردو میں بھی امتحان تحریر کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ اقلیتی اقامتی اسکولس کے 2080 جائیدادوں پر اقلیتوں کے ہی تقررات کرنے اور ڈگری فرسٹ میں کامیابی کی شرط سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ محمد خواجہ فخر الدین نے کہا کہ حال ہی میں منعقدہ اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اردو سے انصاف کرنے کا وعدہ کیا تھا اور وزیراعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے قومی سطح پر منعقد ہونے والے NEET ٹسٹ کو اردو میں بھی تحریر کرنے کا موقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ تاہم وزیراعظم نے اس کو مسترد کردیا اب چیف منسٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اردو دوستی اور مسلمانوں سے ہمدردی کا ثبوت پیش کریں کیوں کہ یہ ریاستی سطح کا معاملہ ہے اور چیف منسٹر تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کو اردو میں بھی امتحان تحریر کرنے کی ہدایت دینے کے مجاز ہے ۔ لہذا چیف منسٹر بغیر تاخیر کے اپنی ذمہ داری نبھائے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن نے اقامتی اسکولس کے 7306 جائیدادوں پر تقررات کے لیے اعلامیہ جاری کردیا ہے جن میں اقلیتی اقامتی اسکولس کی 2080 جائیدادیں بھی شامل ہیں حکومت اقلیتی اقامتی اسکولس میں صرف اقلیتی امیدواروں کا انتخاب کریں کیوں کہ ان اسکولس میں 80 تا 90 فیصد مسلم طلبہ زیر تعلیم ہیں حکومت کی جانب سے گذشتہ سال ریاست میں 71 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے ہیں ان اسکولس میں بیشتر طلبہ اردو میڈیم اسکولس کے ہیں دیہی علاقوں میں بیشتر اردو میڈیم میں زیر تعلیم طلبہ کو خصوصی مہم چلاتے ہوئے اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلہ دلوایا گیا ہے ۔ جس سے سرکاری اسکولس میں بڑی حد تک اردو میڈیم طلبہ کی تعداد گھٹ گئی ۔ لمبے عرصے سے اردو اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات نہیں کئے گئے ۔ اقلیتی اقامتی اسکولس کے قیام کے بعد سرکاری اسکولس میں اردو میڈیم طلبہ کی تعداد گھٹ جانے کے بعد حکومت اردو اسکولس کو بند کررہی ہے یا قریب میں واقع دوسرے اسکولس میں ضم کررہی ہے جس سے اردو اساتذہ کے تقررات خطرے میں پڑ گئے ہیں اور سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب تیزی سے گھٹ رہا ہے ۔ لہذا حکومت اقلیتی اقامتی اسکولس کے 2080 جائیدادوں پر صرف اقلیتی بالخصوص مسلم امیدواروں کا تقرر کرتے ہوئے اردو میڈیم اسکولس میں اردو ٹیچرس کا تقرر کرنے میں جو نقصان ہورہا ہے اس کی پابجائی کریں ۔ محمد خواجہ فخر الدین نے اقامتی اسکولس کے ٹیچرس کے تقررات کے لیے امیدواروں کو ڈگری میں فرسٹ کلاس کامیابی کے لیے رکھی گئی شرط کی مخالفت کرتے ہوئے اس سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا اور کہا کہ ماضی میں تقررات کے معاملے میں حکومت کی جانب سے کوئی شرائط عائد نہیں کی گئی ہے ۔ حکومت کے اس فیصلے سے بیروزگار نوجوانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT