Friday , June 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولس میں ٹیچرس اور انفراسٹرکچر کی عدم سہولت

اقامتی اسکولس میں ٹیچرس اور انفراسٹرکچر کی عدم سہولت

حکومت پر اسٹاف کے بغیر اسکولس قائم کرنے کا الزام ، ڈی کے ارونا
حیدرآباد۔/23مارچ ، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی کی رکن اسمبلی شریمتی ڈی کے ارونا نے اقلیتی اور دیگر طبقات کے اقامتی اسکولس میں انفراسٹرکچر کی کمی اور اساتذہ کے عدم تقررات کی شکایت کی ہے۔ تلنگانہ اسمبلی میں تعلیم اور دیگر محکمہ جات کے مطالبات زر پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈی کے ارونا نے کہا کہ اقامتی اسکولس بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور حکومت نے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات کے بغیر ہی اسکولوں کا آغاز کردیا ہے جس کے نتیجہ میں طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے گدوال میں اردو میڈیم جونیر کالج کے قیام کا مطالبہ کیا۔ ڈی کے ارونا نے حکومت کی جانب سے شعبہ تعلیم کو نظرانداز کرنے کی شکایت کی اور کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں جب حکومت ڈی ایس سی کے انعقاد کا منصوبہ رکھتی تھی تلنگانہ تحریک کے حامیوں نے علحدہ ریاست میں ڈی ایس سی منعقد کرنے کی مانگ کی جس کے باعث فیصلہ کو ملتوی کردیا گیا تھا۔ اب جبکہ تلنگانہ ریاست کے قیام کو تین سال مکمل ہوچکے ہیں حکومت نے ایک بھی ڈی ایس سی منعقد نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولس اور تعلیم کو بہتر بنانے کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ اساتذہ کی کمی کے باعث سرکاری اسکولس بند ہورہے ہیں اور عوام خانگی اور کارپوریٹ اسکولوں سے رجوع ہونے پر مجبور ہیں۔ ڈی کے ارونا نے کہا کہ حکومت نے اقامتی اسکولوں میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات کا اعلامیہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ جاری کیا تھا لیکن لمحہ آخر میں اسے منسوخ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں 520 اقامتی اسکولس کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اسکولوں کی ذاتی عمارتوں کی تعمیر پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ گدوال میں 2 اقامتی اسکولس ایک ہی عمارت میں کام کررہے ہیں۔ ارونا نے کہا کہ آئندہ تعلیمی سال سے بی سی طبقات کیلئے اقامتی اسکولس کے آغاز کا اعلان کیا گیا لیکن انفراسٹرکچر اور اساتذہ کی کمی کے باعث اسکولوں کا آغاز آسان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولس کی تعداد میں آئندہ سال سے اضافہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن موجودہ اسکولوں میں انفراسٹرکچر اور اسٹاف کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب خاندانوں کیلئے انگلش میڈیم میں تعلیم کا انتظام لائق ستائش ہے لیکن اساتذہ کی کمی معیاری تعلیم کی فراہمی کے مقصد کی تکمیل نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اسکول کی عمارت، اسٹاف اور انفراسٹرکچر فراہم نہ کیا جائے اس وقت تک معیاری تعلیم کی فراہمی کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ کانگریسی رکن نے شکایت کی کہ ریاست کے جونیر اور ڈگری کالجس میں مستقل اسٹاف نہیں ہے اور کنٹراکٹ لکچررس کے ذریعہ کام چلایا جارہا ہے۔ انہوں نے گدوال میں طبی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دینے اور سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ گدوال ضلع ہیڈ کوارٹر ہے لہذا وہاں میڈیکل اور انجینئرنگ کالجس کی منظوری دی جانی چاہیئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT