Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولس پر 8000 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ

اقامتی اسکولس پر 8000 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ

4000 کروڑ کے خرچ سے اسکول عمارتیں، محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ کا بیان

حیدرآباد ۔ 16 جنوری (سیاست نیوز) ٹی آر ایس حکومت نے آئندہ 5 سال کے دوران اقلیتی اقامتی اسکولس کیلئے 8000 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ 4000 کروڑ روپئے سے ذاتی عمارتیں اور کیمپس کی تعمیرات پر مزید 4000 کروڑ روپئے اسکولس کی کارکردگی، عملہ کی تنخواہوں اور اقامتی اسکولس کی ذاتی عمارتوں کیلئے 250 ایکر اراضی مختص کی گئی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے تعلیمی طور پر پسماندہ اقلیتی طلبہ کو کارپوریٹ طرز پر معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے 71 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کیا ہے، جس میں تعلیم کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔ جون 2017ء سے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ریاست میں مزید 129 اقلیتی اقامتی اسکولس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اسکولس کے قیام اور دوسرے مسائل کو حل کرنے کیلئے جملہ 200 اقامتی اسکولس پر آئندہ 5 سال میں 8000 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ضرورت کے مطابق اقامتی اسکولس کی تعداد میں اضافہ کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے جن میں 4000 کروڑ روپئے اقامتی اسکولس کے ذاتی عمارتوں اور کیمپس کی تعمیرات بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر خرچ کئے جائیں گے ماباقی 4000 کروڑ روپئے اسکولس کے قیام، تدریسی و غیرتدریسی عملے کی تنخواہوں، طلبہ کے قیام و طعام اور دوسری سہولتوں پر خرچ کئے جائیں گے۔ تاحال حکومت نے 50 اقلیتی اقامتی اسکولس کی ذاتی عمارتوں کیلئے 250 ایکر اراضی مختص کی ہے۔ 2 تا 4 سال کے دوران تمام اقلیتی اقامتی اسکولس کیلئے ذاتی عمارتیں اور کیمپس قائم کرنے کی تمام تیاریاں مکمل کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے۔ ان اسکولس میں زیرتعلیم طلبہ پر کارپوریٹ طرز کی معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے فی طالب علم 80 ہزار روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آرنے آئندہ 5 سال کے دوران اسکولس سے لاکھوں اقلیتی طلبہ کو معیاری تعلیم کے تمام مواقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے ابتداء میں ریاست میں 119 مائناریٹیز ریزیڈنشیل اسکولس فی اسمبلی حلقہ ایک قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کیلئے 160 کروڑ روپئے کے فنڈز بھی مختص کئے تھے۔ تاہم اقلیتی ماہرین تعلیم دانشوروں کی رائے کے بعد ان اسکولس کی تعداد بڑھا کر200 کردینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جن میں جاریہ تعلیمی سال سے ہی 71 اقلیتی اقامتی اسکولس میں تعلیم کا آغاز ہوگیا ہے۔ آئندہ تعلیمی سال 2017-18ء جون سے مزید 129 اسکولس قائم کرنے کی تیاریوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں کرائے کی عمارتوں میں اسکولس شروع کرنے بعد میں انہیں ذاتی عمارتوں میں منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے بتایا کہ چیف منسٹر اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے سنجیدہ ہے۔ ابھی تک 50 اقلیتی اقامتی اسکولس کی ذاتی عمارتوں کیلئے حکومت کی جانب سے 250 ایکر اراضی مختص کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل اور دوسرے منتخبہ نمائندوں کو ہدایت دی گئی ہیکہ وہ اقلیتی اقامتی اسکولس کی ذاتی عمارتوں کی تعمیرات کیلئے اراضیات کی نشاندہی کریں۔ 25 تا 30 ہزار اقلیتوں کی آبادی والے اسمبلی حلقوں میں 2 اور 50 ہزار آبادی والے اسمبلی حلقوں میں 4 اس کے علاوہ ایک لاکھ یا اس سے زیادہ آبادی والے اسمبلی حلقوں میں 6 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کرنے کی متعلقہ عہدیداروں نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے۔ اگر مزید مطلوب ہو تو اس سے بھی زیادہ اسکولس قائم کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ان اسکولس میں بی ایڈ ڈگری رکھنے والے اساتذہ کو ترجیح دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ اساتذہ کا تقرر کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT