Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولس کا قیام چیف منسٹر کے سی آر کی اقلیت دوستی کا ثبوت

اقامتی اسکولس کا قیام چیف منسٹر کے سی آر کی اقلیت دوستی کا ثبوت

مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی، ٹی آر ایس ایم ایل سی محمد فریدالدین کا بیان
حیدرآباد۔/28جنوری، ( سیاست نیوز)  تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے رکن قانون ساز کونسل محمد فرید الدین نے اقلیتوں کیلئے مزید 40 اقامتی اسکولس کے قیام کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی اقلیت دوستی کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے 40اقامتی اسکولس کے قیام سے متعلق جاری کردہ احکامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی کے حق میں ہیں اور وہ تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کے ذریعہ مسلمانوں کو ہر شعبہ میں ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں۔ محمد فرید الدین نے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کا چیف منسٹر کو شدت سے احساس ہے اور وہ ایک سے زائد مرتبہ یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ مسلمان دیگر اقوام کے مقابلہ زیادہ پسماندہ ہیں اور ان کی ترقی پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ رکن قانون ساز کونسل نے کہا کہ تلنگانہ میں 200 اقامتی اسکولس کے قیام کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے جن میں سے 71 اسکولس گزشتہ سال قائم کردیئے گئے جو کامیابی سے جاری ہیں۔ ان اسکولوں میں 14000 سے زائد اقلیتی طلباء و طالبات معیاری تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ہر سال کلاسیس کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے جونیر کالج تک توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلہ میں 129 اقامتی اسکولس کے منجملہ 40 کے احکامات کل جاری کردیئے گئے۔ آئندہ تعلیمی سال یعنی جون سے یہ اسکولس کارکرد ہوجائیں گے۔ فرید الدین نے کہا کہ نئے اقامتی اسکولس میں داخلوں کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام اقامتی اسکولس میں کوالیفائیڈ اساتذہ کے تقررات کیلئے چیف منسٹر کی جانب سے دی گئی منظوری کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ تقررات کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کا مقصد اقامتی اسکولس میں طلباء و طالبات کو کارپوریٹ طرز کی تعلیم انگلش میڈیم میں فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی کوئی اور ریاست اقامتی اسکولس اور دیگر بہبودی اسکیمات کی مثال پیش نہیں کرسکتی۔ کے سی آر نے اقلیتوں کی بہبود سے متعلق اسکیمات کا آغاز کرتے ہوئے عوام کے دلوں میں جگہ بنالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو حکومت اور خاص طور پر چیف منسٹر کے اقدامات کا احساس ہے اور دن بہ دن ٹی آر ایس کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ محمد فرید الدین نے کہا کہ اسکولوں کے قیام سے مواضعات کی سطح تک مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ہوگا جو ترقی کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے۔ انہوں نے اسمبلی اور کونسل کے سرمائی سیشن میں چیف منسٹر کی جانب سے اقلیتوں کے حق میں کئے گئے اعلانات کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ صرف ٹی آر ایس حکومت کے دور میں ہی اقلیتوں کی حقیقی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کانگریس اور تلگودیشم دور حکومت میں اقلیتوں کے ساتھ صرف زبانی ہمدردی کی گئی لیکن ان دونوں جماعتوں کے قائدین آج حکومت پر نکتہ چینی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو چیف منسٹر پر تنقید کا کوئی اخلاقی حق نہیں۔ جو قائدین حکومت کی اسکیمات پر تنقید کررہے ہیں انہیں اپنی پارٹی کے دور میں کئے گئے اقدامات کی وضاحت کرنی چاہیئے۔ فرید الدین نے کہا کہ چیف منسٹر اپنے وعدہ کے مطابق مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی میں سنجیدہ ہیں اور قانونی رکاوٹوں سے پاک قانون سازی کی کوشش کی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT