Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولس کے لیے موظف یا برسر خدمت اساتذہ کی خدمات پر توجہ

اقامتی اسکولس کے لیے موظف یا برسر خدمت اساتذہ کی خدمات پر توجہ

تقررات کے لیے پبلک سرویس کمیشن سے اعلامیہ کی اجرائی نظر انداز ، غیر اقلیتی طلبہ کی زیادہ درخواستیں
حیدرآباد۔ 16۔ مئی  ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں جون سے قائم ہونے والے 71 اقامتی اسکولس کیلئے درکار اسٹاف کے تقررات کا عمل شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت پہلے مرحلہ میں ریٹائرڈ یا برسر خدمت اساتذہ کی خدمات حاصل کرتے ہوئے اسکولوں کا آغاز کردیا جائے گا ۔ جون سے تعلیم کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا لیکن پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے تقررات کیلئے اعلامیہ ابھی تک جاری نہیں ہوا۔ تقررات میں تاخیر کو دیکھتے ہوئے اسکولوں کی سوسائٹی نے ریٹائرڈ پرنسپلس اور ٹیچرس کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں  ضلع کلکٹرس کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ پرنسپال اور اساتدہ کیلئے درکار قابلیت کی تفصیلات ضلع کلکٹر کو روانہ کی گئیں ۔ ضلع کلکٹر کی صدارت میں کمیٹی قائم کی گئی جس میں آر ڈی او ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسر اور اگزیکیٹیو ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن شامل رہیں گے۔ یہ کمیٹی درخواستوں کی جانچ کرتے ہوئے اساتذہ کا انتخاب کرے گی۔ ایک پوسٹ کیلئے دو نام تجویز کئے جائیں گے اور سوسائٹی قطعی نام کا انتخاب کرے گی۔ ہر اسکول کے لئے ایک پرنسپل ، مضامین کے 7 ٹیچرس کے علاوہ پی ٹی ٹیچر ، کرافٹ ٹیچر اور ایک نرس کی خدمات حاصل کی جائیں گی ۔ پرنسپل کے عہدہ کیلئے پانچ سال کا تجربہ لازمی ہوگا۔ 20 مئی تک تقررات کا یہ عمل مکمل کرلیا جائے گا ۔ پرنسپل کیلئے ماہانہ 25 ہزار اور ٹیچرس کیلئے 15 ہزار تنخواہ دی جائے گی۔ ہر ضلع سے تعلق رکھنے والے پرنسپلس اور ٹیچرس کو اسی ضلع کے اسکول میں خدمات انجام دینے ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ سوسائٹی کے اقامتی اسکولس میں تقررات کیلئے بڑے پیمانہ پر درخواستیں موصول ہورہی ہیں۔ اسکول سوسائٹی کے نائب صدرنشین اے کے خاں اسکولوں کی عمارتوں کے انتخاب اور انفراسٹرکچر کی فراہمی پر شخصی توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ اساتذہ کے تقررات کا کام جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ اسی دوران 71 اسکولوں کیلئے درکار 17 ہزار طلبہ کا نشانہ آج مکمل ہوگیا۔ آج شام تک 17,379 درخواستیں آن لائین داخل کی گئیں لیکن حیرت کا پہلو یہ ہے کہ اسکولوں میں 75 فیصد نشستیں اقلیتوں کیلئے مختص ہیں لیکن داخل کی گئی درخواستوں میں اقلیتوں سے زیادہ غیر اقلیت کے طلبہ ہیں۔ مجموعی طور پر 6765 مسلم اقلیتی طلبہ نے آن لائین درخواستیں داخل کی۔ کرسچین طبقہ کے 189 ، سکھ طبقہ کے 5 اور بدھسٹ کے 2 طلبہ نے درخواستیں داخل کیں جبکہ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی تعداد تقریباً 10,000 ہے۔ اس طرح اسکولوں میں مقررہ تناسب کو برقرار رکھنا سوسائٹی کیلئے دشوار ہوسکتا ہے ۔ سب سے زیادہ درخواستیں 3378 محبوب نگر سے داخل کی گئی جبکہ سب سے کم 400 درخواستیں نظام آباد سے داخل کی گئیں۔ رنگا ریڈی سے 1221 ، حیدرآباد 917 ، میدک 1609 ، عادل آباد 1887 ء کریم نگر  1524 ، ورنگل 2234 ، کھمم 1264 اور نلگنڈہ سے 2945 درخواستیں داخل ہوئی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT