Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولوں میں تقررات ، امیدواروں کو راحت

اقامتی اسکولوں میں تقررات ، امیدواروں کو راحت

ڈگری میں فرسٹ کلاس کامیابی اور 3 سالہ تدریسی تجربہ کی شرط سے دستبرداری

حیدرآباد۔ 9 فروری (سیاست نیوز) اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کے احتجاج کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے ریسیڈنشیل اسکولس ٹیچرس کے تقررات کیلئے ڈگری میں فرسٹ کلاس کامیابی اور تین سالہ ٹیچنگ تجربہ کی جو شرط عائد کی گئی تھی، اس سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے 50% مارکس حاصل کرنے والے طلبہ کو امتحانات میں شرکت کرنے کی اجازت دی ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن نے 7,306 ریسیڈنشیل اسکولس کے تدریسی و غیرتدریسی عملے کے تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے انہیں امیدواروں کو تقررات کیلئے اہل قرار دیا تھا جنہوں نے ڈگری امتحان میں اول درجہ میں کامیابی حاصل کی ہے اور ساتھ ہی انہیں تین سالہ تدریسی تجربہ کو لازمی قرار دیا تھا جس کی تمام اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے مخالفت کی تھی۔ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ پروفیسر جئے شنکر نے تقررات کیلئے عائد کئے گئے۔ ان شرائط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو طلبہ تلنگانہ کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے چکے ہیں، وہ کس طرح اول درجہ میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ تلنگانہ حکومت آندھرائی حکمرانوں سے زیادہ ظالمانہ کارروائی کرتے ہوئے ان طلبہ کو ملازمتوں سے محروم کرنے کی کوشش کی ہے جنہوں نے تلنگانہ تحریک میں کئی قربانیاں دی تھی۔ اپوزیشن اور طلبہ تنظیموں کے احتجاج کا جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے فرسٹ ڈیویژن میں کامیابی اور تین سالہ ٹیچنگ تجربہ کی شرائط سے فوری دستبرداری اختیار کرتے ہوئے طلبہ اور نوجوانوں کو بہت بڑی راحت فراہم کی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ طلبہ تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت کا جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے ریسیڈنشیل اسکولس میں تقررات کیلئے نیشنل کونسل فار ٹیچرس ایجوکیشن اور عدلیہ کے فیصلوں پر غور کرنے کے بعد نئے رہنمایانہ خطوط جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ امتحانات میں شرکت کیلئے 60% مارکس کی شرط سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے 50% مارکس حاصل کرنے والے طلبہ کو تقررات کیلئے اہل قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے سے زیادہ سے زیادہ بیروزگار نوجوانوں کو تقرراتی امتحانات میں شرکت کرنے کا موقع دستیاب ہوگا۔ ساتھ ہی 3 سالہ ٹیچنگ کے تجربہ کی شرط سے بھی دستبرداری اختیار کرلی گئی ہے۔ ڈگری، بی ایڈ اور ٹسٹ پاس کرنے والے تمام طلبہ کو امتحانات میں شریک ہونے کی اجازت دی ہے۔ چیف منسٹر نے تلگو کے علاوہ دوسری مادری زبانوں میں بھی امتحان تحریر کرنے کی اجازت دینے کے مطالبات کا جائزہ لیا ہے۔ این سی ٹی آئی کے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط اور عدلیہ کے فیصلوں پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ جن میڈیم کے طلبہ کیلئے اساتذہ کے تقررات کئے جارہے ہیں۔ امتحانات بھی اسی زبان میں منعقد کرنے کا سپریم کورٹ نے احکامات جاری کئے ہیں۔ تلگو کے علاوہ دوسری زبانوں میں امتحانات تحریر کرنے کی گنجائش نہیں ہے، لہذا تمام امیدواروں سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ انگریزی میں ہی امتحانات تحریر کریں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT