Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولوں میں داخلہ حاصل کرنے کا سنہری موقع ، صرف 5 دن باقی

اقامتی اسکولوں میں داخلہ حاصل کرنے کا سنہری موقع ، صرف 5 دن باقی

lداخلہ فارمس کے ادخال میں مسلمانوں کی بے حسی
lشعور بیدار کرنے ائمہ مساجد و خطیب صاحبان کا اہم رول
حیدرآباد ۔ 17 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ریاستی حکومت نے اقلیتوں میں تعلیم کے فروغ کی خاطر پانچویں ، چھوٹیں اور ساتویں جماعت کے طلباء وطالبات کو عمدہ و معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے ریاست کے تمام اضلاع میں 71  اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے ہیں ۔ جن میں ماہر اساتذہ ان بچوں کو عصری تعلیم سے آراستہ کریں گے ۔ اگرچہ حکومت نے تمام تر عصری سہولتوں سے لیس ان اسکولوں میں 17 ہزار طلبہ کے داخلوں کا ہدف مقرر کر رکھا ہے لیکن کل تک جو 18022 درخواستیں موصول ہوچکی ان میں اقلیتی طلبہ کی تعداد بہت کم ہے جب کہ اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے 11 ہزار سے زائد طلبہ نے درخواستیں داخل کی ہیں ۔ حالانکہ ان اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء وطالبات پر حکومت نے سالانہ 80 ہزار روپئے خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ طلباء وطالبات کے لیے علحدہ علحدہ کیمپس رکھے گئے ہیں ۔ اردو اخلاقیات اور دینیات کی تعلیم کا بھی انتظام کیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود مسلم والدین اس قدر عصری سہولتوں سے آراستہ اقامتی اسکولوں میں اپنے بچوں کو داخلے دلوانے سے گریز کررہے ہیں ۔ اب جب کہ داخلے کے لیے صرف 5 یوم ہی باقی رہ گئے ہیں اس کے باوجود مسلم اقلیت خواب غفلت میں پڑی ہوئی ہے ۔ شائد انہیں اندازہ نہیں کہ ان اسکولس سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء وطالبات مستقبل میں قابل ترین شخصیتیں بن کر ابھریں گی ۔ وہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں گی ۔ افسوس اس بات پر ہے کہ شہر شہر ، گاؤں گاؤں ، گلی گلی میں شعور بیداری مہم کے باوجود مسلم ماں باپ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔ اگر ان اسکولوں میں مسلم طلباء وطالبات 75 فیصد نشستیں حاصل کرتے ہیں تو مستقبل میں وہ ملت کا قیمتی اثاثہ ثابت ہوں گے ۔ ایک اور افسوسناک بات یہ ہے کہ داخلوں کے معاملہ میں حیدرآباد بہت پیچھے ہے ۔ حالانکہ حکومت نے جن علاقوں میں اسکول کھولے ہیں ان میں بہادر پورہ ، نامپلی ، آصف نگر ، چارمینار ، سعیدآباد ، گولکنڈہ ، سکندرآباد کنٹونمنٹ کے علاوہ ضلع رنگاریڈی کے علاقہ راجندر نگر ، قطب اللہ پور ( جیڈی میٹلہ ) ، ملکاجگیری ، اوپل ( ملاپور ) ، تانڈور ، وقار اباد اور پرگی شامل ہیں ۔ ان اسکولوں میں جہاں معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی وہیں طلبہ پر نظر رکھنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمرہ بھی نصب کئے جارہے ہیں ۔ اب اولیائے طلبہ ہمدردانہ ملت ائمہ و خطیب صاحبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں ان اسکولوں کے بارے میں شعور بیدار کریں ۔۔

TOPPOPULARRECENT