Saturday , August 19 2017
Home / سیاسیات / اقتدار پر قبضہ کیلئے سماج میں فرقہ وارانہ تقسیم کی سازش

اقتدار پر قبضہ کیلئے سماج میں فرقہ وارانہ تقسیم کی سازش

بی جے پی کے خلاف چیف منسٹر اتر پردیش اکھلیش یادو کا الزام

لکھنؤ۔/7اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر اتر پردیش اکھلیش یادو نے آج یہ الزام عائد کیا کہ بی جے پی کی زیر قیادت مرکز ان کی حکومت کے ساتھ سوتیلا سلوک اور انتشار پسند پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، اور اس الزام کو مسترد کردیا کہ ریاستی حکومت مسلمانوں کی دلجوئی اور خوشامدی کررہی ہے۔ انہوں نے یہ ادعا کیا کہ وہ سماج میں توازن پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ مرکز کے ساتھ ریاستی حکومت کے تعلقات پر اکھلیش یادو نے کہا کہ صورتحال سے حقائق کسی قدر مختلف ہیں اس بات سے پتہ چلا ہے کہ ریاست میں ژالہ باری اورغیر موسمی بارش سے متاثرہ کسانوں کی امداد کیلئے مرکز سے 7,000کروڑ روپئے طلب کئے گئے لیکن 2,300 کروڑ روپئے دینے سے اتفاق کرلیا گیا اس کے باوجود یہ رقم اب تک جاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ کسانوں میں ریاستی حکومت نے ذاتی وسائل سے 3,500کروڑ روپئے تقسیم کئے ہیں لیکن مرکز سے ہمیں بہت ہی کم رقم حاصل ہوئی، سیاست کرنا تو اسان ہے لیکن عوام کیلئے کام کرنا مشکل ہے۔ چیف منسٹر نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ اقتدار پر قبضہ کیلئے برطانیہ کی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو پالیسی پر گامزن ہے اور عوام سے کہا کہ اس طرح کی تفرقہ پرست طاقتوں سے چوکس رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی سماج کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کررہی ہے۔

پارٹی نے انتخابات کے دوران لو جہاد اور گلابی انقلاب جیسے مسائل اٹھائے۔ بعد ازاں فراموش کردیا گیا۔ اپوزیشن کے اس الزام پر کہ سماجوادی پارٹی حکومت مسلمانوں کی خوشامدی اور دلجوئی میں مصروف ہے، مسٹر اکھلیش یادو نے کہا کہ ان کی حکومت سماج میں توازن پیدا کرنے کیلئے کام کررہی ہے جس کی نظر میں مذہب اور ذات پات کا کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ایک طرف عازمین حج کیلئے سبسیڈی اور دیگر سہولیات فراہم کررہے ہیں تو دوسری طرف معمر افراد کیلئے سماجوادی شراون یاترا کا اہتمام کررہی ہے جس کے لئے ایک پیسہ بھی وصول نہیں کیا جاتا۔
بچوں کے شربت میں شراب کے اجزاء
کوچی۔ /7اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) میڈیکل سرویس کارپوریشن کے ذریعہ بچوں میں مفت تقسیم کئے گئے پیراسٹیمول سیرپ ( کھانسی کا شربت ) میں 95فیصد الکحل کے اجزاء پائے گئے۔ اس خصوص میں منجیرہ میڈیکل کالج سپرنٹنڈنٹ کی شکایت کے بعد کیرالا میڈیکل سرویسس کارپوریشن نے مذکورہ شربت کی تقسیم روک دی ہے۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ مختلف ہاسپٹلوں میں 3.5 لاکھ شربت کی بوتلیں تقسیم کی گئی ہیں اس کا کیا ہوگا؟ ۔ ناگپور کی ایک کمپنی کی جانب سے میڈیکل سرویس کارپوریشن کو سربراہ کئے گئے 125ملی گرام شربت کی بوتلوں میں 95فیصد الکحل پایا گیا۔ یہ شربت بخار سے متاثر 5سال سے کم عمر کے بچوں کیلئے ڈاکٹرس تجویز (نسخہ) کرتے ہیں لیکن بچوں کی ادویات میں الکحل کے استعمال پر پابندی کے باوجود ناگپور کی کمپنی نے خلاف ورزی کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT