Friday , August 18 2017
Home / مضامین / اقتدار کا نشہ… سستی شراب پر توجہ، تعلیمی پالیسی نظرانداز

اقتدار کا نشہ… سستی شراب پر توجہ، تعلیمی پالیسی نظرانداز

محمد نعیم وجاہت
تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت شراب کو عام کرکے گڑمبہ سے عوام کو بچانے کا ادعا کرتے ہوئے اپنے فیصلہ اور نئی اکسائز پالیسی کی مدافعت کر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سماج کو بُری لعنت سے پاک کرنا، عوام کی صحت کا خیال رکھنا، خواتین پر ہونے والے مظالم کو روکنا اور طلبہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے؟۔ کیا تلنگانہ حکومت دستور ہند کے آرٹیکل 47 اور ملک میں نشہ آور اشیاء پر عائد امتناع سے واقف نہیں ہے؟ اور کیا گڑمبہ کے خاتمہ کے لئے شراب کو عام کرنا ضروری ہے؟۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایک بُرائی کو ختم کرنے کے لئے دوسری برائی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔
بدبختی کی بات یہ ہے کہ سرکاری سطح پر سستی شراب کو عام کرنے کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے اور حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ گڑمبہ سے عوام کو نجات دِلانے کے لئے سستی شراب کو عام کیا جا رہا ہے، جس سے سرکاری خزانے کو 1200 کروڑ روپئے کا نقصان ہو رہا ہے، کیونکہ حکومت گڑمبہ کے استعمال کو روکنے کے لئے صرف 15 روپئے میں فی بوتل شراب فروخت کر رہی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں، رضاکارانہ تنظیمیں، خواتین اور طلبہ کی تنظیمیں حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت کر رہی ہیں، مگر حکومت اپنے فیصلہ پر نظرثانی کے لئے تیار نہیں ہے۔ حکومت کا ادعا ہے کہ وہ سستی شراب کو عام کرکے عوام کی قیمتی زندگی کا تحفظ چاہتی ہے۔ حکومت اپنے اس فیصلہ کے ذریعہ عوام پر بہت بڑا احسان کرنے کا تاثر تو دے رہی ہے، لیکن کیا چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ صرف گڑمبہ پینے سے ہی موت واقع ہوگی اور سستی شراب پینے والے افراد محفوظ رہیں گے؟۔

تلنگانہ کے دیہی اور شہری علاقوں میں تین ہزار شراب کی دوکانیں پہلے سے موجود ہیں، جب کہ حکومت کی نئی اکسائز پالیسی سے مزید تین ہزار نئی دوکانوں کا اضافہ ہوگا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے نئے واٹر گرڈ سے ہر گھر کو پینے کا پانی سربراہ کرنے کا جو اعلان کیا ہے، ان نلوں کے ذریعہ پانی کی بجائے شراب سربراہ کی جائے گی؟۔ اگر مذکورہ فیصلہ پر عمل ہوا تو کئی سماجی برائیاں سر اُبھار سکتی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق تلنگانہ کی نصف آبادی شراب کی عادی ہے اور شراب وغیرہ کے استعمال سے دیہی علاقوں میں کئی افراد کی موت بھی واقع ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے کئی خواتین بیوہ ہوئیں اور پھر زندگی کا بوجھ نہ سنبھال سکنے کے سبب یہ خواتین خودکشی پر مجبور ہوئیں۔

ریاست کے کئی خاندان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، کئی گھروں میں چولھا جلنا محال ہے، کئی نوجوان لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی ہوئی ہیں، اب بھی کئی بچے اسکول تک نہیں پہنچ سکے، بچہ مزدوری عام ہو گئی ہے، نشہ کے عادی افراد خواتین پر مظالم ڈھا رہے ہیں اور خواتین کی عصمت ریزی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر حکومت کو عوامی زندگی کی فکر ہے تو اسے شراب عام کرنے کی بجائے اس پر امتناع عائد کرنا چاہئے۔

میگی اور نوڈلس میں نشہ آور اشیاء کی ملاوٹ کے انکشاف کے بعد مرکزی اور کئی ریاستی حکومتوں نے بچوں کی صحت کا خیال کرتے ہوئے ان پر امتناع عائد کردیا ہے، مگر شراب پر امتناع سے حکومت گریز کر رہی ہے، جب کہ دستور ہند میں نشہ آور اشیاء پر امتناع کے واضح احکامات ہیں، جس کے تحت شراب، گٹکھا، تمباکو اور سگریٹ پر امتناع عائد کیا گیا ہے اور ان اشیاء کی پیکنگ پر درج ہوتا ہے کہ ’’ان اشیاء کا استعمال صحت کے لئے مضر ہے‘‘۔ پھر بھی ان اشیاء کو فروخت کیا جا رہا ہے اور ان کے استعمال کرنے والے کینسر اور دیگر کئی مہلک امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسی طرح دیہی علاقوں میں شراب خانے اور سیندھی کے اڈے عوامی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، جب کہ شہروں میں ڈسکو، پب اور کارپوریٹ کلچر کے شکار افراد اپنی دولت کے ساتھ ساتھ عزت اور ہوش و حواس سے بھی ہاتھ دھو رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس معاملے میں خواتین بھی مردوں سے پیچھے نہیں ہیں۔ اس کلچر کو فیشن کا نام دے کر کارپوریٹ اداروں میں کام کرنے والے مرد و خواتین بے راہ روی کی ڈگر پر چل رہے ہیں۔

ریاست تلنگانہ میں ناکافی بارش سے فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ خشک سالی سے پریشان کسان خودکشی پر مجبور ہو رہے ہیں اور روزگار کی تلاش میں نوجوان شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ اشیائے ضروریہ (پیاز، دال، چاول وغیرہ) کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، جب کہ اجناس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے قیمتوں میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ اشیائے ضروریہ کے تاجرین مصنوعی قلت ظاہر کرکے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ان حالات میں حکومت عوام کی فلاح و بہبود کی فکر کرنے کی بجائے نئی اکسائز پالیسی کے ذریعہ اُنھیں شراب کا غلام بنانا چاہتی ہے، جب کہ حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف ایک عوامی تحریک سر اُبھار رہی ہے۔ پروفیسر وشویشور راؤ کی قیادت میں ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل پاچکی ہے، جس کو تمام سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل ہو رہی ہے اور خواتین بھی بڑے پیمانے پر حکومت کے اعلان کے خلاف سرگرم ہو رہی ہیں۔
شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء صحت مند سماج کے لئے نقصاندہ ہیں اور ان سے اخلاقی و معاشی گراوٹ کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے نئی اکسائز پالیسی کا اعلان تو کردیا ہے، مگر نئی تعلیمی پالیسی کا اعلان اب تک نہیں کیا گیا۔ علاوہ ازیں سماج میں جو برائیاں جنم لے رہی ہیں، انھیں ختم کرنے کے لئے اب تک کوئی کوشش نہیں کی گئی اور نہ ہی ماہرین سے کسی قسم کی مشاورت کی گئی۔ ہمارے نوجوان اعلیٰ تعلیم کی بڑی بڑی ڈگریاں تو حاصل کر رہے ہیں، مگر ان کا اخلاقی معیار روز بروز گھٹ رہا ہے، اجتماعی فیصلوں پر شخصی فیصلوں کو فوقیت دینے کا رجحان بڑھ رہا ہے، مثبت سوچ کم ہو رہی ہے اور منفی سوچ غلبہ حاصل کر رہی ہے، لہذا حکومت کو چاہئے کہ نوجوان نسل کے ذہن کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرے اور اسی کے مطابق نئی نسل کی اصلاح کے لئے اقدامات کرے، تاکہ ہمارے یہ نوجوان ملک کے بہتر مستقبل کے ضامن بن سکیں۔

کیا حکومت کو عوام بالخصوص نوجوانوں کی فکر نہیں ہے؟۔ اگر ایسا ہے تو چیف منسٹر تلنگانہ ہر مسئلہ پر جارحانہ موقف اختیار کرکے عوام کی تائید سے محروم ہو رہے ہیں۔ تلنگانہ تحریک میں عثمانیہ اور کاکتیہ یونیورسٹیز کے طلبہ نے اہم رول ادا کرتے ہوئے کے سی آر کو تحریک کا ہیرو بنایا اور پھر ٹی آر ایس کو بھاری اکثریت سے کامیاب بناکر حکومت کی باگ ڈور اس کے ہاتھوں میں دے دی، مگر اب یہی طلبہ چیف منسٹر تلنگانہ کے مخالف بن گئے ہیں، کیونکہ کسی بھی وزیر یا ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی کو دونوں یونیورسٹیز کے کیمپس میں گھسنے کی اجازت نہیں ہے۔ لہذا حکومت کو چاہئے کہ سستی شراب کے خلاف عوامی تحریک شروع ہونے سے پہلے اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرتے ہوئے گڑمبہ پر امتناع عائد کرے اور اس کاروبار سے وابستہ افراد کو متبادل روزگار فراہم کرے۔ اگر حکومت نے عوام کی آواز کو نظرانداز کردیا تو یہ آواز بہت بڑی تحریک بن کر اس کے لئے گلے کی ہڈی بن جائے گی، جو نہ اُگلتے بنے گی اور نہ نگلتے۔
فی الحال حکومت کے لئے سب سے اہم کام یہ ہے کہ وعدہ کے مطابق ہر گھر کے ایک فرد کو ملازمت فراہم کرے اور ماہرین تعلیم کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے ایک ایسا تعلیمی نظام تیار کرے کہ معیار تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کا اخلاقی معیار بھی بلند ہو جائے۔

TOPPOPULARRECENT