Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / اقتدار کی طاقت کے ذریعہ مفتی سعید کے ویژن کی تکمیل

اقتدار کی طاقت کے ذریعہ مفتی سعید کے ویژن کی تکمیل

جموں و کشمیر کا خصوصی موقف بالکلیہ محفوظ۔ اسمبلی میں چیف منسٹر محبوبہ مفتی کا جارحانہ خطاب
سرینگر 28 مئی (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے آج کہا ہے کہ بی جے پی کے ساتھ طے پائے ایجنڈہ پر عمل آوری میں ناکامی اور ان کے والد مفتی محمد سعید کے ویژن کی تکمیل میں ان کی کرسی (چیر) رکاوٹ بنتی ہے تو وہ اقتدار سے سبکدوش ہوجائیں گی۔ اسمبلی میں بحیثیت چیف منسٹر پہلی مرتبہ مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے یہ نشاندہی کی کہ آرٹیکل 370 جس کے ذریعہ ریاست کو خصوصی درجہ حاصل ہے، بی جے پی ۔ پی ڈی پی کے مشترکہ ایجنڈہ میں شامل ہے۔ انھوں نے ریاست میں بحالی امن کے لئے خود حکمرانی کے مطالبہ کی مدافعت کی اور کہاکہ یہ کوئی گناہ نہیں ہے اور مشترکہ پروگرام میں مختلف دفعات کی شمولیت کے لئے بی جے پی پر انگشت نمائی نہیں کی جاسکتی۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ چیف منسٹر کی کرسی میری کمزوری نہیں ہے اور میں اقتدار پر اُس وقت تک براجمان رہوں گی تاوقتیکہ احساس قوت برقرار رہے اور کمزوری محسوس ہونے پر فی الفور اقتدار سے سبکدوش ہوجائیں گی۔ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر پر جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ میں نے جو بھی وعدے کئے ہیں ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ریاست کی تعمیر کے حق میں ہیں اور یہ دیرینہ خواب بھی میرے والد مفتی محمد سعید کا ہے جس کی تکمیل کے عہد پر کاربند رہوں گی۔ مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کے لئے پارٹی کے خود حکمرانی فارمولہ پر انھوں نے کہاکہ ہندوستان اور پاکستان کیلئے ثمرآور ثابت ہوگی

جبکہ اس کے بیشتر نکات سال 2005 ء میں قائم کردہ وزیراعظم کے ورکنگ گروپ کی سفارشات کا حصہ ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے نمائندوں نے سفارشات پر تبادلہ خیال کے بعد دستخط کئے ہیں۔ جس کے ذریعہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ مرکز اور ریاست کی سطح پر ہماری قیادت کی سب سے بری ناکامی یہ ہے کہ جموں و کشمیر علاقوں میں قربت پیدا نہیں کرسکے۔ انھوں نے کہاکہ آرٹیکل 370 نے ریاست کو جو حق دیا ہے اُسے کوئی چھین نہیں سکتا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان مخاصمت سے جموں و کشمیر کے عوام کو سب سے زیادہ مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے کیوں کہ جب بھی فائرنگ شروع ہوتی ہے سرحدی عوام شدید متاثر ہوجاتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ قیام امن کے لئے پہل کرنے پر سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی ستائش کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اس وقت سرحدوں پر جنگ بندی کا نفاذ اور مداخلت کاری تقریباً ختم ہوگئی لیکن بدقسمتی سے 2004 ء کے انتخابات میں واجپائی اقتدار سے بیدخل ہوئے۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان کا دورہ کرنے کے لئے واجپائی اور وزیراعظم نریندر مودی جیسے قائدین کی جرأتمندی کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ تعاون کے لئے کئی ایک موقع دستیاب ہیں۔ انھیں برقی کی ضرورت ہے جوکہ ہم فراہم کرسکتے ہیں اور پکوان گیس کی ضرورت ہے جوکہ وہ (پاکستان) سربراہ کرسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT