Wednesday , September 27 2017
Home / Top Stories / اقتدار ہاتھ سے نکل جانے پر کانگریس بوکھلاہٹ کا شکار

اقتدار ہاتھ سے نکل جانے پر کانگریس بوکھلاہٹ کا شکار

اپوزیشن پارٹی کا تعمیر سے زیادہ تخریبی رویہ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی کا الزام

نئی دہلی۔/11اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) گڈس اینڈ سرویس ٹیکس بل کی پیشکشی کو کانگریس کی جانب سے روک دینے پر وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج سونیا اور راہول گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ سال 2014ء کے انتخابات میں ہزیمت کے بدلہ قومی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرکے لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی یہ پالیسی ہے کہ جی ایس ٹی بل کو بے اثر کردیا جائے جوکہ تمام راست محاصل کی جگہ نیشنل گڈس اینڈ سرویس ٹیکس کی شکل میں نافذ کیا جائے گا اور اس قانون پر عمل آوری سے معاشی ترقی کو فروغ اور قیمتوں میں کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ نہ صرف مجموعی شرح ترقی کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ مالیاتی تقسیم میں مساوات قائم ہوں گی بشرطیکہ گڈس اینڈ سرویس ٹیکس نافذ کیا جائے لیکن کانگریس بعض وجوہات کی بناء پر یہ نہیں چاہتی ہے۔ وزیر فینانس نے الزام عائد کیا کہ جب کانگریس برسر اقتدار تھی اسوقت بھی ملک کی معیشت کو تہس نہس کردیا تھا اور اب اپوزیشن میں رہ کر بھی اس پالیسی پر گامزن ہے۔

راجیہ سبھا میں کانگریس کے احتجاج پر کارروائی ملتوی کردینے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر ارون جیٹلی نے کہاکہ کانگریس اب یکا و تنہا ہوگئی کیونکہ کوئی بھی پارٹی اس کے احتجاجی پروگرام کی تائید میں نہیں ہے۔ انہوں نے سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کا نام لئے بغیر کہا کہ 2014ء کے انتخابات میں شکست پر یہ دونوں قائدین بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں اور یہ حقیقیت تسلیم کرنے سے قاصر ہیں کہ گاندھی خاندان سے ہٹ کر بھی دوسرا شخص اس ملک پر حکمرانی کرسکتا ہے۔جمعرات کو پارلیمنٹ مانسون اجلاس کے اختتام سے قبل ارون جیٹلی نے آج راجیہ سبھا میں ایوان کمیٹی کی تجاویز کے بعد جی ایس ٹی ترمیمی بل پیش کیا تھا لیکن کانگریس کے شدید احتجاج پر بحث شروع نہیں کی جاسکی۔ نائب صدر نشین بی جے کورین نے کہا کہ چونکہ یہ ایک دستوری ترمیمی بل ہے لہذا اس کی منظوری کیلئے ایوان میں نظم و ضبط ضروری ہے جس کے پیش نظر اجلاس کی کارروائی کل تک کیلئے ملتوی کردی جاتی ہے۔

مسٹر ارون جیٹلی نے کہا کہ یہ امر بدبختانہ ہے کہ کانگریس خود تباہی کا سامان کررہی ہے جس پر ہمیں کوئی فکر نہیں ہے لیکن وہ اپنے عمل کے ذریعہ پارلیمنٹ میں خلل اندازی اور قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کررہی ہے۔ کانگریس اور ملک کیلئے رخنہ اندازی کی سیاست کو خطرناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے اصل اپوزیشن جماعت سے اپیل کی کہ حقائق کا سامنا کرتے ہوئے حکومت سے تعاون کرے۔ دریں اثناء مرکزی وزیر اور بی جے پی لیڈر نتن گڈکری نے کانگریس کے احتجاج سے GST بل کی منظوری کے امکانات موہوم ہوجانے پر یہ الزام عائد کیا کہ اپوزیشن پارٹی نے محض اپنی انانیت کی خاطر پارلیمنٹ کو یرغمال بنالیا ہے اور وہ یہ چاہتی ہے کہ این ڈی اے حکومت بھی اس طرح ناکام ہوجائے جس طرح وہ اپنے دور اقتدار میں کچھ کرنے سے قاصر رہی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی یہ ذہنیت بن گئی ہے کہ ’’ہم تو ڈوبیں گے۔ تم کو بھی ڈوبنا ہے‘‘ اور جب کانگریس اقتدار میں توکچھ بھی نہیں کرسکی اور اب چاہتی ہے کہ وہ موجودہ حکومت بھی کچھ نہ کرے۔ ایک اور مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے پارلیمنٹ میں تعطل پیدا کرنے پر صدر کانگریس سونیا گاندھی اورنائب صدر راہول گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

جی ایس ٹی بل راجیہ سبھا میں پیش ، منظوری میں تاخیر
مختلف موضوعات پر کانگریس نے مباحث روک دیئے ، ارون جیٹلی کا الزام

نئی دہلی 11 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج راجیہ سبھا میں دستوری ترمیمی بِل جی ایس ٹی مباحث کے لئے پیش کردیا لیکن مختلف مسائل پر کانگریس کے پرشور احتجاج نے اس پر مباحث کا راستہ روک دیا۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے الزام عائد کیاکہ کانگریس پارٹی مختلف مسائل صرف اِس لئے اٹھارہی ہے تاکہ ملک کی معیشت کے فروغ کو روک دے۔ نعرہ بازی کے دوران انھوں نے کہاکہ کانگریس للت مودی مسئلہ کو وزیر خارجہ سشما سوراج کے خلاف ایک بہانے کے طور پر استعمال کررہی ہے تاکہ اہم ٹیکس قانون سازی روکی جاسکے۔ قبل ازیں کانگریس قائد آنند شرما نے کہاکہ جی ایس ٹی بل پر مباحث نہیں ہوسکتے کیوں کہ یہ بزنس اڈوائزری کمیٹی میں مباحث کے لئے پیش نہیں کیا گیا اور کوئی وقت ہی مقرر نہیں ہے جس کے اندر اِس پر مباحث کئے جائیں۔ طوفانی مناظر اور پُرشور نعرہ باازی کے دوران جو کانگریس ارکان نے جاری رکھی تھی،

 

نائب صدرنشین پی جے کورین نے کہاکہ کیوں کہ یہ دستور ترمیماتی بل ہے اس لئے وہ یہ بل شوروغل کے دوران مباحث کے لئے پیش نہیں کرسکتے۔ بعدازاں اُنھوں نے اجلاس دن بھر کے لئے ملتوی کردیا۔ جیٹلی نے ادعا کیا تھا کہ تمام سیاسی پارٹیاں جی ایس ٹی بل پر متفق ہیں۔ کانگریس اس مسئلہ پر یکا و تنہا ہوگئی ہے۔ انھوں نے سونیا اور راہول گاندھی کا نام لئے بغیر الزام عائد کیاکہ دونوں قائدین 2014 ء کی اپنی ناکامی سے بُری طرح متاثر ہیں۔ چنانچہ اس حقیقت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ گاندھی خاندان سے باہر بھی کوئی شخص اس ملک پر حکومت کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ کانگریس کسی نہ کسی بہانے پارلیمنٹ کے ایک اجلاس کے بعد دوسرے اجلاس کیلئے اس بل کو ٹالتی رہی ہے۔ کانگریس ارکان اپنے موقف پر اٹل رہے اور انھوںں نے شوروغل اور نعرہ بازی جاری رکھی۔ قبل ازیں اعتراض کرتے ہوئے کانگریس رکن آنند شرما نے کہاکہ آج صبح خبر نامہ کا جائزہ لیا گیا ہے لیکن جی ایس ٹی بل پر مباحث کے لئے کوئی وقت مختص نہیں ہے اِس لئے اِس پر مباحث نہیں ہوسکتے۔ اُنھوں نے رولنگ کا مطالبہ کیا اور کہاکہ اِس بل پر بزنس اڈوائزری کمیٹی میں مباحث نہیں ہوئے اور قبل ازیں مباحث کے لئے جو 4 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا تھا ، وہ ختم ہوچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT