Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں سے کسی جماعت کو کوئی ہمدردی نہیں ، صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال

اقلیتوں سے کسی جماعت کو کوئی ہمدردی نہیں ، صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال

کمیشن سے آلیر انکاونٹر معاملہ میں بھی انصاف کی امید ، صدرنشین اقلیتی کمیشن عابد رسول خان کا تہنیتی جلسہ ، جناب زاہد علی خان کا خطاب
حیدرآباد۔23اپریل(سیاست نیوز ) ریاست آندھرا پردیش میں میناریٹی کمیشن کی اہمیت او رافادیت کا اندازہ عابدر سول خان کا بحیثیت چیرمن جائزہ لینے کے بعد ہوسکا ہے ۔ اس سے قبل کمیشن کے متعلق اقلیتی طبقات کو گمراہ بناکر رکھا گیا تھا۔ ادارہ سیاست کے محبوب حسین جگر حال میںسادات ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیر اہتمام چیرمن اسٹیٹ میناریٹی کمیشن جناب عابد رسول خان کی تہنیتی تقریب سے صدارتی خطاب کے دوران ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان نے ان خیالات کااظہار کیا۔ جناب عابد رسول خان‘ جناب علی الدین قادری‘ سابق چیف جسٹس اسمعیل احمد‘ سینئر کانگریس قائد جناب خلیق الرحمن‘ ایڈوکیٹ بھاسکر بینی‘ ٹھاکر ہردی ناتھ سنگھ نے بھی تقریب سے خطاب کیاجبکہ کارروائی ڈاکٹرمحمد ناظم علی نے چلائی۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ نہ صرف تلنگانہ بلکہ ہندوستان بھر میںاقلیتوں کا کوئی پرسان حال نہیںہے ۔ انہوں نے کہاکہ اقلیتوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کرنا اور اقتدار حاصل ہونے کے بعد انکے مسائل سے روگردانی حکمران جماعتوں کاشیوہ بن گیا ہے ۔ ماضی اور حال کی طرح مستقبل میں بھی اقلیتی طبقات کے تئیں حکمران جماعتوں کے رویہ میںتبدیلیوں کی کوئی امید نظر نہیںآرہی ہے ۔ انہوں نے شہروں کے علاوہ دیہی علاقوں میںمقیم اقلیتی طبقات کے ساتھ انصاف کیلئے عابد رسول خان جیسے حرکیاتی چیرمن کی اسٹیٹ کمیشن کو ضرورت ہے ۔ جناب زاہد علی خان نے عابد رسول خان کی معیاد میںتوسیع یا پھر عابد رسول خان جیسے حرکیاتی چیرمن کے دوبارہ تقرر کو وقت کی اہم ضرورت قراردیا۔ جناب زاہد علی خان نے شمس آباد ائیرپورٹ اور منی کنڈہ جاگیر وقف اراضی معاملے کا تذکرہ کیا اور کہاکہ وقف اراضی کی صیانت کے متعلق مدیران اُردو اخبارات کی تحریک سے اس وقت کے چیف منسٹر راج شیکھر ریڈی نے ہمیںبات چیت کیلئے مدعو کیا تھا اس کے بعد یوپی اے چیرپرسن سونیا گاندھی نے بھی ہم سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور ملاقات کے دوران شمس آباد ائیرپورٹ کے بشمول منی کنڈہ جاگیر وقف اراضی پر ہوئی دھاندلیوں سے واقفیت حاصل کی اور اندرون تین ماہ انصاف کا وعدہ بھی کیا ۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ تین ماہ تو دور تین سال گذر جا نے کے بعد بھی ہمارے مطالبات کے مطابق ائیرپورٹ کی آمدنی کی پچاس فیصد حصہ داری اور منی کنڈہ جاگیر سے حاصل کمائی سے پانچ ہزار کروڑ وقف بورڈ کو ادا کرنے میں سونیا گاندھی اور ریاستی کانگریس قاصر رہی ہیں ۔ انہوں نے وقف جائیدادوں کی صیانت کے متعلق تلنگانہ کی موجودہ حکومت کو بھی غیرسنجیدہ قراردیا اورکہاکہ اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حل کو یقینی بنانے کے بلند بانگ وعدوں کے باوجود ٹی آر ایس حکومت وقف جائیدادوں کی صیانت اور مسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی میںٹال مٹول کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے ۔ جناب زاہد علی خان نے اسٹیٹ میناریٹی کمیشن اور وقف جائیدادوں کی صیانت اور بارہ فیصد مسلم تحفظات کے ضمن میں سرگرم رول ادا کرنے کا مشورہ دیا ۔ ۔ جناب زاہد علی خان نے امید ظاہر کی ہے کہ عابد رسول خان کی نگرانی میں کامیابی کی منزلیں طئے کررہا اسٹیٹ میناریٹی کمیشن آلیر انکاونٹر کے بے قصور ملزمین اور واقعہ کے متاثرین کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانے میںاہم رول ادا کریگا۔ جناب زاہد علی خان نے کمیشن کی تین سالہ بہترین کارکردگی پر ادارہ سیاست کی جانب سے شہر کے کسی بڑے مقام پر چیرمن کمیشن کے اعزاز میںتہنیتی تقریب بھی منعقد کرنے کااور کمیشن کے موجودہ چیرمن کی معیاد میںاضافے کیلئے حکومت پر دبائو ڈالنے کا بھی وعدہ کیا۔ چیرمن میناریٹی کمیشن عابد رسول خان نے اپنے خطاب میں مدیر اعلی سیاست کی صدارت اور سادات ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ تہنیتی تقریب کیلئے اظہار تشکر کیا او رکہاکہ یہ تقریب ذاتی طور پر ان کیلئے نہیں بلکہ اسٹیٹ میناریٹی کمیشن کے چیرمن کے اعزاز میںمنعقد کی گئی ہے۔ انہوں نے کمیشن چیرمن کا عہدہ حاصل کرنے کے بعد درپیش مشکلات کا تذکرہ کا ذکر کیا اور کہا کہ چیرمن کی حیثیت سے میں نے مرکز کو تلنگانہ میں وقف جائیدادوں میں دھاندلیوں پر سی بی آئی تحقیقات کی سفارش کی تھی جس پر وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کمیشن کو ایک مکتوب لکھا گیا جس میں مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کی جانب سے این او سی کے بعد وقف جائیدادوں کے متعلق تلنگانہ میںسی بی آئی تحقیقات کیلئے رضامندی ظاہر کی ہے مگر حکومت تلنگانہ بالخصوص چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو سی بی آئی تحقیقات کیلئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے این او سی جاری کرنے میںکوتاہی برت رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ میناریٹی کمیشن ایک طاقتور ادارہ ہے جس کے قیام کا مقصد اقلیتی طبقات کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی روک تھام ہے مگر ایک سازش کے تحت کمیشن کو کمزور اور ناکارہ بنانے کی کوششیںکی جارہی ہیں۔ ۔جناب عابدر سول خان نے کہاکہ اسٹیٹ میناریٹی کمیشن اپنی تین سالہ کارکردگی کے ذریعہ غریبوں او رمصائب زدہ اقلیتوں کے دلوں تک پہنچانے کا کام کیا ہے جس میں مسلمان ‘عیسائی‘ سکھ‘ پارسی ‘ ٹھاکر طبقے شامل ہیں۔مختلف تنظیموں اداروں و معزز شخصیتوں کی جانب سے جناب عابد رسول خان کو تہنیت پیش کی گئی۔ صد ر ایم پی اے جنا ب خواجہ معین الدین‘ تلگودیشم قائد علی بن سعید الگتمی کے علاوہ شہر حیدرآباد کی ممتاز ومعز ز شخصیتوں نے میںشرکت کی ۔

TOPPOPULARRECENT