Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کو آٹو رکشا اسکیم میں خامیوں کو دو رکرنے حکومت سے نمائندگی

اقلیتوں کو آٹو رکشا اسکیم میں خامیوں کو دو رکرنے حکومت سے نمائندگی

حیدرآباد۔/27اکٹوبر، ( سیاست نیوز) اقلیتی فینانس کارپوریشن کی مجوزہ آٹو رکشا اسکیم پر عمل آوری میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے آٹو رکشا اونرس و ڈرائیورس ویلفیر اسوسی ایشن اور تلنگانہ عام آدمی آٹو یونین نے حکومت سے نمائندگی کی ہے۔ اسوسی ایشن کے عہدیداروں محمد مختار احمد، اے گنپت راؤ، نواز غالب، محمد عبدالولی حافظ اور دوسروں نے ڈپٹی چیف منسٹر اور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کو یادداشت حوالے کی۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ آٹو رکشا اسکیم کیلئے جو قواعد مرتب کئے گئے ہیں ان میں کئی خامیاں ہیں اور یہ عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسکیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے تنظیموں کے نمائندوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ شفاف طریقہ سے اسکیم پر عمل کرے تاکہ یہ عدالتی کشاکش کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اسکیم کے شرائط میں ترمیمات نہیں کریگی تو وہ عدالت سے رجوع ہونگے۔ اس سلسلہ میں دیگر آٹو یونینوں سے مشاورت کی جائیگی۔ قائدین نے بتایا کہ آندھرا ‘مدراس، دہلی، کولکتہ اور بنگلور ہائیکورٹس نے اپنے مختلف احکامات میں حکومتوں کو ہدایت دی کہ میٹرو شہروں میں  4 اسٹروک آٹو کی اجازت دی جائے۔ عدالتوں نے 2اسٹروک آٹوز کو آلودگی کا ذمہ دار قرار دیا۔ قائدین کے مطابق دہلی، بنگلور، کولکتہ اور چینائی میں عدالتی احکامات پر سختی سے عمل آوری کی جارہی ہے لیکن حیدرآباد میں اسے نظرانداز کردیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ آٹو ڈرائیور لائسنس کے ساتھ بیاچ نمبر کا ہونا ضروری ہے۔ بیاچ کے حصول کیلئے امیدوار کو کم از کم آٹھویں تک تعلیم حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اگر لائسنس پر بیاچ نمبر موجود نہ ہو تو حادثہ کی صورت میں انشورنس کلیم نہیں کیا جاسکتا۔ ٹریفک پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے عہدیدار بغیر بیاچ لائسنس تسلیم نہیں کرتے اور بھاری چالانات کی گنجائش ہے۔ حکومت کی اسکیم سے استفادہ کیلئے کئی خانگی فینانسرس اور ان کے ایجنٹس حرکت میں آچکے ہیں اور اس بات کا اندیشہ ہے کہ آٹوز کو فینانسرس ایک لاکھ روپئے میں خرید کر 2لاکھ 20ہزار روپئے میں دوسرے کو فروخت کردیں ۔ ان قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عدالتی احکامات پر عمل آوری کریں اور تمام شرائط کی تکمیل کے ذریعہ اس اسکیم کو نافذ کریں تاکہ حقیقی مستحقین کو فائدہ ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT