Wednesday , March 29 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کو صنعتوں کے قیام کے لیے ممکنہ مدد کی تلقین

اقلیتوں کو صنعتوں کے قیام کے لیے ممکنہ مدد کی تلقین

نونامزد چیرمین تلنگانہ کھادی اینڈ ویلیج انڈسٹریز بورڈ محمد یوسف زاہد کا بیان
حیدرآباد۔3 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورڈ کے نو نامزد صدرنشین محمد یوسف زاہد نے کہا کہ وہ مسلم اقلیت کو گھریلو صنعتوں کے قیام اور گھریلو پیداواری اشیاء کی تجارت کے سلسلہ میں اس ادارے سے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ صدرنشین کی حیثیت سے نامزد کئے جانے پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو سے اظہار تشکر کرتے ہوئے محمد یوسف زاہد نے کہا کہ کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورڈ چھوٹی صنعتوں کے قیام کے سلسلہ میں اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ عام طور پر مسلم اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد گھریلو اور چھوٹی صنعتوں کے قیام سے ناواقف ہیں اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات اور سہولتوں سے عدم واقفیت کے سبب ان کی حصہ داری صنعتوں میں کافی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے ذریعہ وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ اقلیتیں مختلف اشیاء کی تیاری کے لیے گھریلو صنعتیں قائم کریں۔ اس کے لیے نہ صرف مکمل رہنمائی کی جائے بلکہ بینکوں سے قرض کی فراہمی کے انتظامات بھی کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو مصنوعات اور خاص طور پر دستکاری کی اشیاء کا فروغ میں اس ادارے کا اہم رول ہوتا ہے۔ محمد یوسف زاہد جو ہنمکنڈہ ضلع ورنگل سے تعلق رکھتے ہیں، مزید کہا کہ صدرنشین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ عہدیداروں سے مختلف اسکیمات کے بارے میں تفصیلات حاصل کریں گے اور ضرورت پڑنے پر مختلف رعایتوں کے ساتھ نئی اسکیمیں حکومت کو پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کا تعلق اگرچہ راست طورپر اقلیتی طبقے سے نہیں ہے، پھر بھی چیف منسٹر نے ایک عام زمرے کے اہم ادارے پر ان کا تقرر کرتے ہوئے اپنے وعدے کی تکمیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر اقلیتیں کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورڈ کی سرگرمیوں سے واقف نہیں ہیں۔ وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ اس ادارے سے دی جانے والی سہولتوں سے اقلیتوں کو واقف کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کررہی ہے اس کے علاوہ چھوٹی صنعتوں کے قیام میں تعاون کے ذریعہ مسلمانوں کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانا چیف منسٹر کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عام زمرے کے سرکاری اداروں پر مسلم قائدین کا تقرر کیا ہے جبکہ سابق میں صرف اقلیتی اداروں پر ہی اقلیتوں کے تقررات کئے جاتے رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے ہر شعبہ میں مسلم اقلیت کو مناسب نمائندگی کے اپنے وعدے کی تکمیل کی ہے اور 10 اداروں میں 5 پر مسلم قائدین کا تقرر اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کی ہمہ جہتی ترقی یقینی ہے۔ محمد یوسف زاہد نے کہا کہ تعلیمی ترقی کے لیے حکومت نے 200 اقامتی اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جن میں 71 اسکولس گزشتہ سال سے کارکرد ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے ذریعہ ہی ان کی معاشی ترقی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقامتی اسکولس میں کارپوریٹ اسکولوں کی طرح تمام سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں اور انگلش میڈیم میں تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔ محمد یوسف زاہد تلنگانہ تحریک میں سرگرم حصہ لے چکے ہیں اور ان کا شمار چیف منسٹر کے قریبی رفقاء میں ہوتا ہے۔ وہ جمعیت علماء اور آل انڈیا ملی کونسل سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے کے لیے تلنگانہ علماء کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا اور انہوں نے علماء کو تلنگانہ تحریک سے جوڑنے کی کوشش کی۔ وہ مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ورنگل کے صدر اور جامع مسجد مدراسی، ورنگل کے خطیب ہیں، جامعۃ القرآن للبنات اور مدرسہ ابوبکر صدیق کے صدر بھی ہیں۔ انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی اور لکھنو یونیورسٹی سے ادبی کامل اور دبیر فاضل (ایم اے عربی) کی ڈگری حاصل کی ہے اور حافظ قرآن بھی ہیں۔ محمد یوسف زاہد چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو، رکن پارلیمنٹ کویتا، وزیر آئی ٹی کے ٹی راما رائو اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے اظہار تشکر کیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT