Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / اقلیتوں کو 12فیصد تحفظات‘ گوداوری پر مہاراشٹرا سے سمجھوتہ ‘چھتیس گڑھ سے برقی کاحصول

اقلیتوں کو 12فیصد تحفظات‘ گوداوری پر مہاراشٹرا سے سمجھوتہ ‘چھتیس گڑھ سے برقی کاحصول

تاریخی قلعہ گولکنڈہ پر قومی پرچم کشائی کے بعد چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب‘ مرکز سے دوستی کا اشارہ ‘ تلنگانہ کی غیر معمولی ترقی کا دعویٰ
حیدرآباد۔ 15اگست ( این ایس ایس / ایجنسیز ) تلنگانہ کے چیف منسٹر کلواکنٹلہ چندر شیکھر راؤ نے حیدرآباد کے تاریخی قلعہ گولکنڈہ پر 70 ویں یوم آزادی ہند کے موقع پر قومی پرچم کشائی انجام دی ۔ اس موقع پر تلنگانہ عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی سب سے نئی ریاست مرکز اور پڑوسی ریاستوں کے ساتھ بہتر تعلقات برقرار رکھتے ہوئے گذشتہ دو سال کے دوران کئی شعبوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے ۔ بالخصوص عوامی بھلائی اور ترقی کے شعبوں میں کئی اہم سنگ میل عبور کرچکے ہیں جس کی بدولت آج سارا ملک تلنگانہ کی طرف دیکھ رہا ہے ۔ کے چندر شیکھر راؤ نے جو چیف منسٹر کی حیثیت سے تاریخی قلعہ گولکنڈہ پر تیسری مرتبہ قومی پرچم لہرا رہے تھے اپنیطویل خطاب کیدوران تین اہم پالیسی اعلانات کئے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تلنگانہ اقلیتوں اور درج فہرست قبائل کو بہت جلد ان کی آبادی کے تناسب کے مطابق12فیصد تحفظات فراہم کرے گی ۔ اندرون چار ماہ تلنگانہ کو چھتیس گڑھ سے 1000 میگا واٹ برقی حاصل ہوگی ‘ نیز سب سے اہم اعلان یہ تھا کہ بین ریاستی سرحدوں کے قریب گوداوری بیاریج کی تعمیر کیلئے وہ مہاراشٹرا کے چیف منسٹر دیویندر فڈنویس کے ساتھ ایک سمجھوتہ پر دستخط کریں گے ۔ اس موقع پر چیف منسٹر تلنگانہ نے 23اگست کو اپنے مجوزہ دورہ ممبئی کا اعلان بھی کیا ۔ اس سمجھوتہ کے تحت کالیشورم پراجکٹ ( سابق پرانہتا ۔ چیوڑلہ ) کی ضلع کریم نگر کے میدی گڈا میں تعمیر ہوگی ۔ علاوہ ازیں مہاراشٹرا کے دورہ میں گوداوری کی معاون ندی پین گنگا پر ایک بیاریج تعمیر کیا جائے گا ۔ کے سی آر نے پانچ سال کے دوران ایک لاکھ افراد کو ملازمت دینے کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ 30,000افراد کو پہلے ہی ملازمت فراہم کی جاچکی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے قومی پرچم کشائی کے بعد مارچ پاسٹ کرنے والے پولیس دستوں کی سلامی لی ۔ اس موقع پر تلگو فنکاروں نے رنگارنگ تہذیبی پروگرامس بھی پیش کیا ۔ چیف منسٹر نے مزید کہا کہ جب انہوں نے قلعہ گولکنڈہ پر پہلی مرتبہ قومی پرچم لہرایا تھا اُس وقت نئی ریاست تلنگانہ کی عمر صرف ڈھائی ماہ تھی اور نومولود ریاست کئی مسائل سے دوچار تھی لیکن ان کی حکومت نے دو سال کے دوران اس ریاست کو متواتر استحکام فراہم کیا جس کے نتیجہ میں تلنگانہ نے عوامی بھلائی اور ترقی کے شعبوں میں غیر معمولی ترقی کرتی ہوئی سارے ملک کیلئے ایک مثال بن گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے میدان میں تلنگانہ کو ملک کی پہلی ریاست بنانے کے مقصد سے حکومت تلنگانہ اپنے تمام ترقیاتی پروگراموں پر تیز رفتار عمل آوری کو یقینی بنائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 36000 کروڑ روپئے کی خطیر رقومات سے ترقیاتی و فلاحی پراجکٹس شروع کئے گئے ۔ کے سی آر نے گوداوری پراجکٹ کی عدم تکمیل اور پڑوسی ریاستوں کے ساتھ مسائل میں اضافہ کیلئے سابق حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ چیف منسٹر نے آبپاشی ‘ صحت ‘ تعلیم ‘ امن و قانون اور دیگر کلیدی شعبوں میں چلائے جانے والے مختلف پروگراموں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ان کی حکومت صحت و تعلیم کو یکساں اہمیت دے رہی ہے ۔ تلنگانہ میں 40ڈیالائسیس سنٹرس اور 40طبی مراکز قائم کئے گئے ہیں ۔ کے جی تا پی جی پروگرام کے ایک حصہ کے طور پر رواں سال 230 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے  نیز آسان و اطمینان بخش حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے آئندہ دسہرہ تہوار کے موقع پر نئے اضلاع قائم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت این آئی اے اور دیگر سیکورٹی اداروں سے ربط و تعاون کے ذریعہ تمام سماج دشمن عناصر کو آہنی شکنجہ سے کچل دے گی ۔ انہوں نے چھوٹے اور متوسط کسانوں کیلئے 100فیصد سبسیڈی کا اعلان بھی کیا ۔

TOPPOPULARRECENT