Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کو 80 فیصد سبسیڈی پر بنک لون دینے کی اسکیم منظور

اقلیتوں کو 80 فیصد سبسیڈی پر بنک لون دینے کی اسکیم منظور

حیدرآباد۔/5ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات سے قبل اقلیتوں کیلئے بعض نئی اسکیمات کے آغاز کا منصوبہ رکھتی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے درج فہرست اقوام و قبائیل کی طرز پر اقلیتوں کو 80فیصد سبسیڈی کے ساتھ بینک لون فراہم کرنے کی اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ  یہ فائیل محکمہ فینانس میں زیر التواء ہے اور حکومت نے فینانس کے عہدیداروں کو فائیل کی جلد یکسوئی کی ہدایت دی۔ توقع ہے کہ بہت جلد اس نئی اسکیم کے بارے میں احکامات جاری کردیئے جائیں گے۔ غریب اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو خودمکتفی بنانے اور ان کی معاشی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے یہ اسکیم تیار کی گئی ہے جس کے تحت اقلیتی فینانس کارپوریشن امیدوار کو 80فیصد سبسیڈی یعنی امداد فراہم کریگا جبکہ 20فیصد رقم بینک کی جانب سے بطور قرض جاری کی جائے گی۔  چھوٹے کاروبار کی نوعیت اور اس کی مالیت کے اعتبار سے سبسیڈی اور قرض فراہم کیا جائے گا تاہم کارپوریشن کی امداد 80 فیصد رہے گی اور یہ رقم امیدوار کو واپس کرنی نہیں پڑے گی۔ کارپوریشن کی جانب سے فی الوقت جس اسکیم پر عمل آوری کی جارہی ہے اس میں 50فیصد سبسیڈی کی گنجائش ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں اور بعض دیگر ماہرین  کو نئی اسکیمات کی تیاری کی ذمہ داری دی گئی اور چیف منسٹر کو بعض نئی اسکیمات کی تجاویز پیش کردی گئی ہیں جس کا جائزہ لینے کے بعد بہت جلد اسے منظوری حاصل ہوجائے گی۔ دوسری طرف چیف منسٹر نے محکمہ اقلیتی بہبود میں 250 جائیدادوں پر تقررات کا عمل تیزکرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے محکمہ اقلیتی بہبود میں اسٹاف کی کمی کا جائزہ لیتے ہوئے اسمبلی میں یہ تیقن دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ مختلف عہدوں کیلئے یہ تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔ یہ تقررات دو زمروں کے تحت ہوں گے ۔ پہلے زمرہ میں سکریٹریٹ کے ملازمین کا تقرر ہوگا جبکہ دوسرے زمرہ کے تحت اقلیتی بہبود ڈائرکٹوریٹ اور اضلاع میں اقلیتی بہبود کا عملہ شامل رہے گا۔ ان تقررات سے سرکاری خزانہ پر امکانی بوجھ کے بارے میں محکمہ فینانس سے تفصیلات طلب کی گئی ہیں حکومت کو تقررات کے سلسلہ میں جولائی میں تجاویز پیش کی گئیں لیکن محکمہ فینانس نے اسے چیف منسٹر کے دفتر نہیں پہنچایا جس پر چیف منسٹر نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ تلنگانہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت مستقل ملازمین کی جملہ تعداد صرف 31ہے جن میں ریاستی سکریٹریٹ میں صرف چھ ملازمین ہیں۔ سکریٹریٹ کے چھ ملازمین میں ایک اسسٹنٹ سکریٹری، تین سیکشن آفیسر اور ایک اسسٹنٹ سیکشن آفیسر شامل ہیں جبکہ ڈائرکٹوریٹ کے دفتر میں صرف 7 ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ 10اضلاع میں اقلیتی بہبود کے عہدیداروں اور ملازمین کی تعداد صرف 17ہے۔ اس قدر کم تعداد کے سبب اسکیمات پر عمل آوری میں دشواریوں کا سامنا یقینی ہے۔ سات اضلاع بشمول دارالحکومت حیدرآباد میں میناریٹی ویلفیر آفیسر کے عہدے خالی ہیں اور فینانس کارپوریشن کے عہدیداروں کو کم رینک ہونے کے باوجود اس عہدہ کی زائد ذمہ داری دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی عام محکمہ سے تعلق رکھنے والے ملازمین اور عہدیدار اقلیتی بہبود میں فرائض انجام دینے کیلئے تیار نہیں۔

TOPPOPULARRECENT