Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کیلئے شادی مبارک اسکیم میں بے قاعدگیاں ‘درمیانی افراد کی چاندی

اقلیتوں کیلئے شادی مبارک اسکیم میں بے قاعدگیاں ‘درمیانی افراد کی چاندی

حیدرآباد۔/27اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے غریب اقلیتی لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امداد کیلئے ’ شادی مبارک ‘ اسکیم کا آغاز کیا۔ اس اسکیم کے آغاز میں حکومت کا مقصد غریب خاندانوں پر شادی کے اخراجات کا بوجھ کم کرنا ہے لیکن افسوس کہ اس اسکیم میں بے قاعدگیوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ عہدیداروں اور بروکرس کی ملی بھگت سے اسکیم کی رقم حاصل کرنے کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ نہ صرف حیدرآباد بلکہ اضلاع میں بھی اسکیم پر عمل آوری میں درمیانی افراد کا اہم رول دیکھا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں اسکیم کے آغاز کا مقصد فوت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار ہر ضلع میں مقررہ نشانہ کی تکمیل پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ماتحت ملازمین اور بروکرس کی چاندنی ہورہی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں اس طرح کی کوئی مشنری موجود نہیں جو اسکیمات پر شفاف عمل آوری کی نگرانی کرسکے۔ اقلیتی بہبود پہلے ہی ملازمین کی قلت کا سامنا کررہا ہے اور اس صورتحال کا فائدہ اٹھاکر حکومت کی نئی اسکیم ’ شادی مبارک ‘ بدعنوان افراد کیلئے ایک نعمت سے کم نہیں۔ اس اسکیم سے وابستہ بعض عہدیداروں نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بدعنوانیوں کا اعتراف کیا اور حج ہاوز میں بعض ایسے بروکرس سرگرم ہیں جو صرف 10ہزار روپئے میں 51 ہزار روپئے کی ضمانت دیتے ہوئے پیروی کررہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر حیدرآباد کے دفتر میں نمائندہ ’سیاست‘ نے بعض بروکرس سے عام آدمی کی طرح بات چیت کی اور ’ شادی مبارک‘ اسکیم سے استفادہ میں تعاون کی خواہش کی۔ بروکر نے صاف لفظوں میں کہا کہ 10ہزار روپئے میں وہ 51ہزار روپئے اکاؤنٹ میں جمع کرانے کی ضمانت دے سکتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے صرف لڑکا اور لڑکی کا فوٹو شناختی کارڈ اور تصاویر چاہیئے جبکہ وہ فرضی دعوت نامہ خود تیار کرلے گا۔ اس نے 15دن میں کارروائی کی تکمیل اور اکاؤنٹ میں رقم جمع کرانے کا بھروسہ دلایا۔ وہاں موجود افراد نے شکایت کی کہ مستحق خاندانوں کی درخواستوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے جبکہ بروکرس کی جانب سے کی جارہی پیروی کو ترجیح دی جارہی ہے۔ اس معاملہ کی گہرائی سے جانچ پر اندازہ ہوا کہ اس اسکیم کے تحت شادی سے قبل امداد کی اجرائی کا فیصلہ بدعنوانیوں کا اہم سبب ہے۔ شادی سے قبل امداد کے حصول کیلئے صرف شادی کے دعوت نامہ اور لڑکا اور لڑکی کے فوٹو شناختی کارڈ کی ضرورت ہے۔ کسی بھی پرنٹنگ پریس سے فرضی دعوت نامہ باآسانی پرنٹ کرایا جاسکتا ہے جبکہ اس اسکیم کے تحت شادی کی انجام دہی کی نگرانی کا کوئی نظم نہیں  یہی وجہ ہے کہ ماتحت ملازمین اور بروکرس کی ملی بھگت نے اسکیم کے مقصد کو عملاً فوت کردیا ہے۔ اعلیٰ عہدیداروں نے حکومت کو سفارش کی تھی کہ اس اسکیم کے تحت شادی کی انجام دہی کے بعد امداد جاری کی جائے تاکہ شادی سے متعلق صداقت نامہ اور قاضی کا جاری کردہ سیاہنامہ حاصل کیا جاسکے جو کہ شادی کی انجام دہی کا اہم ثبوت ہے۔ تاہم حکومت نے غریب خاندانوں کو امداد کے نام پر شادی سے قبل رقم ادا کرنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ حکومت نے ایک سال میں 100کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا تھا اور ابھی تک 112 کروڑ روپئے 22ہزار سے زائد درخواست گذاروں میں جاری کردیئے گئے۔ حکومت بجٹ کے خرچ اور نشانہ کی تکمیل کے بارے میں خوش ہے لیکن اگر منظورہ درخواستوں کی دوبارہ جانچ کی جائے تو کئی فرضی شادیوں کا انکشاف ہوسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپس میں رشتہ دار بھائی، بہن اپنی تصاویر پیش کرتے ہوئے رقم حاصل کررہے ہیں۔ بعض کیسس میں ایک ہی تصویر جو مختلف ٰزاویوں سے لی گئی کئی درخواستوں میں استعمال کرنے کی شکایت ملی ہے۔ چونکہ 2اکٹوبر 2014سے اسکیم کا آغاز ہوا لہذا بروکرس غریب خاندانوں سے رجوع ہوکر 51ہزار روپئے دلانے کا لالچ دیتے ہوئے فرضی درخواستیں داخل کررہے ہیں۔ تمام کارروائی کی تکمیل کیلئے بروکر 10تا 15ہزار روپئے حاصل کررہے ہیں اور ایسے افراد بھی ہیں جو اپنے طور پر کارروائی کرتے ہوئے آپس میں رقم تقسیم کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملت میں اقلیتی بہبود اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے بعض ملازمین بھی ملوث ہیں۔ عہدیداروں کی کمی کے نتیجہ میں درخواستوں کی جانچ کیلئے پہنچنے والے افراد بھی اس رقم میں اپنا حصہ بنارہے ہیں۔ درخواستوں کی جانچ کے موقع پر صرف لڑکی کی تصویر اور فوٹو شناختی کارڈ حاصل کیا جاتا ہے جبکہ لڑکے کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ لڑکی والوں کی جانب سے ایک دعوت نامہ حوالے کیا جاتا ہے لیکن اس بات کی کوئی جانچ نہیں کی جاتی کہ آیا مقررہ تاریخ پر مقررہ فنکشن ہال میں یہ تقریب منعقد ہوئی یا نہیں۔ حال ہی میں ایس سی، ایس ٹی طبقات کیلئے شروع کی گئی’ کلیان لکشمی ‘ اسکیم میں اسی طرح کی بے قاعدگیوں کی شکایت ملی تھی۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ یا تو نگرانکار مشنری تشکیل دے یا پھر شادی سے قبل کے بجائے امداد شرط رکھے تاکہ تمام حقیقی دستاویزات کے ذریعہ 51ہزار روپئے جاری کئے جاسکیں۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر قواعد میں تبدیلی نہیں کی گئی تو بدعنوانیوں کو روکنا ممکن نہیں۔ اس طرح اقلیتی بہبود کا بجٹ بدعنوان افراد کی جیب میں جائے گا اور حقیقی مستحقین محروم رہیں گے۔

TOPPOPULARRECENT