Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کی ترقی کے متعدد اعلانات ، اسکیمات میں اقلیتوں کی شمولیت ندارد

اقلیتوں کی ترقی کے متعدد اعلانات ، اسکیمات میں اقلیتوں کی شمولیت ندارد

ٹی پرائیڈ اسکیم میں دیگر طبقات کو استفادہ کا موقع ، حکومت کی سنجیدگی کا حقیقی چہرہ آشکار
حیدرآباد۔12نومبر ( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے اقلیتوں کی پسماندگی کو دور کرتے ہوئے انہیں معاشی ترقی فراہم کرنے کے متعدد اعلانات تو کئے جارہے ہیں لیکن سرکاری اسکیمات بالخصوص ایسی اسکیمات جن کے ذریعہ سماجی و معاشی ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ‘ اُن اسکیمات میں اقلیتی طبقات کی شمولیت کو نظرانداز کیا جانے لگاہے ۔ حکومت تلنگانہ نے صنعتی اداروں کے فروغ کیلئے ٹی پرائیڈ نامی اسکیم کا آغاز عمل میں لایا جس میں نئی صنعتوں کے آغاز پر حکومت کی جانب سے مختلف مراعات کی پیشکشی کو یقینی بنانے کا اعلان کیا گیا لیکن ’’ٹی پرائیڈ ‘‘  نامی اس اسکیم  میں صرف  ایس سی اور ایس ٹی طبقات کو استفادہ کنندگان میں شامل رکھا گیا ہے جب کہ سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق ملک میں مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بدتر ہوچکی ہے ۔ اُس کے باوجود ایس سی ‘ ایس ٹی طبقات کیلئے معلنہ خصوصی اسکیم میں مسلمانوں کو شامل نہ کئے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت خود اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی ترقی کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ ٹی پرائیڈ اسکیم کے ذریعہ شیڈول کاسٹ و شیڈول ٹرائب کو حکومت نے جو مراعات دینے کا اعلان کیا ہے اس میں نہ صرف انہیں صنعتوں کیلئے حاصل کی جانے والی زمین وعمارت کو اسٹامپ ڈیوٹی سے مستثنی قرار دیا گیا ہے بلکہ انہیں پانچ سال تک صنعتوں کو دیڑھ روپیہ فی یونٹ برقی بازادائیگی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اسی طرح ایس سی ‘ ایس ٹی طبقات کی ملکیت والی مائیکرو انٹرپرائیز کو صنعتی اثاثوں پر 20فیصد تک سبسیڈی فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اتنا ہی نہیں 75لاکھ روپئے کی صنعت قائم کئے جانے پر انہیں پانچ فیصد اضافی سبسیڈی فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ حکومت نے ان طبقات کی جانب سے صنعتی ادارہ قائم کرنے پر اُسے  پانچ برس تک ویاٹ ‘ کمرشیل سیلس ٹیکس ‘ اسٹیٹ گڈس اینڈ سرویس ٹیکس سے مستثنی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے معلنہ ٹی پرائیڈ اسکیم سے استفادہ کرتے ہوئے ایس سی ‘ ایس ٹی طبقات بہترین صنعتیں قائم کرنے کے موقف میں ہیں‘ اگر حکومت اس اسکیم میں اقلیتوں کی شمولیت کو بھی منظوری فراہم کرتی ہے تو ایسی صورت میں سماجی ‘ معاشی و تعلیمی پسماندگی کا شکار مسلمان بھی اس اسکیم سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے چھوٹی صنعتیں قائم کرنے کے متحمل ہوسکتے تھے لیکن حکومت کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا ۔ حکومت کی صنعتی پالیسی کا بغور جائزہ لینے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اس پالیسی کا آغاز صرف اور صرف ایس سی ‘ ایس ٹی طبقات کیلئے کیا گیا ہے جب کہ اگر حکومت چاہتی تو اس پالیسی میں مسلمانوں کو شامل کرسکتی تھی ۔ مولانا ابوالفتح سید بندگی بادشاہ قادری ڈائرکٹر تلنگانہ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز پرموشن نے بتایا کہ اس اسکیم میں اقلیتی طبقات کی عدم شمولیت کا مسئلہ دوسرے طریقہ سے بھی حل کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر صرف صنعتی ترقیاتی سرگرمیوں  کے مقصد کے تحت حکومت کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود کو کم از کم 100کروڑ روپئے مختص کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں مسلمان جو کہ چھوٹی صنعتوں سے وابستہ ہیں وہ اس اسکیم سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT