Sunday , June 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے اقامتی اسکولس کا جال بچھانے چیف منسٹر کا عزم

اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے اقامتی اسکولس کا جال بچھانے چیف منسٹر کا عزم

نظام کالج میں یوم اقلیتی بہبود و قومی اقلیتی تعلیم تقریب ، محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد۔/11نومبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ اقلیتوں میں تعلیمی انقلاب کے ذریعہ پسماندگی کا خاتمہ حکومت کا مقصد ہے اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے اقامتی اسکولس کا جال بچھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر آج نظام کالج پر اقلیتی اقامتی اسکولس سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ یوم اقلیتی بہبود و قومی اقلیتی تعلیم تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کے ضمن میں ہر سال ان تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جاریہ سال تلنگانہ حکومت نے اقلیتی اقامتی اسکولس سوسائٹی کو تقریب کے انعقاد کی ذمہ داری دی تاکہ ریاست میں چلنے والے اقامتی اسکولس کی کارکردگی سے اقلیتوں کو واقف کیا جاسکے اور آئندہ تعلیمی سال سے شروع ہونے والے اسکولس میں داخلوں کے سلسلہ میں شعور بیدار ہو۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ سرسید احمد خاں نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی قائم کی تھی اور انہیں یونیورسٹی کو برقرار رکھنے میں کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کیلئے اقدامات کئے تھے ٹھیک اسی طرح چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کا عہد کرچکے ہیں۔ چیف منسٹر کا ماننا ہے کہ مسلمانوں کی پسماندگی کا خاتمہ صرف تعلیم کے ذریعہ ممکن ہے۔ جب تک مسلمان تعلیمی طور پر ترقیافتہ نہیں ہوں گے اسوقت تک ان کی حقیقی ترقی ممکن نہیں۔ محمود علی نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کے ذریعہ ہی سنہرا تلنگانہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں 14 برسوں تک علحدہ ریاست کیلئے پُرامن جدوجہد کی گئی اور نئی ریاست کے قیام کے بعد کے سی آر نے تمام طبقات کی یکساں ترقی کا عہد کیا۔ انہوں نے کے سی آر کی زبردست ستائش کی اور کہا کہ دنیا میں بہت کم ایسی شخصیتیں جنم لیتی ہیں جن کی زندگی کا مقصد عوام کی خدمت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ملک میں دلتوں سے زیادہ پسماندہ ہیں اور جو قوم کل حکمراں تھی آج ہر شعبہ میں پسماندگی کا شکار ہے۔ تلنگانہ ریاست ملک کی وہ واحد ریاست ہے جس نے ہر شعبہ میں مسلمانوں کی ترقی کیلئے قدم اٹھائے ہیں۔ 71 اقامتی اسکولس میں 14000 سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں اور آئندہ سال مزید ایک لاکھ طلبہ کو داخلہ دینے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے اقدامات کو آنے والی نسلیں یاد کریں گی۔ محمود علی نے کہا کہ آئندہ تعلیمی سال سے مزید 89 اقامتی اسکولس قائم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مفت تعلیم کی فراہمی کے ذریعہ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کو ترقی دینا حکومت کا مقصد ہے۔ اقامتی اسکولس میں معیاری تعلیم اور معیاری سہولتیں موجود ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقلیتی اقامتی اسکولس کے طلبہ کا مستقبل روشن رہے گا اور ان میں کئی آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیدار تیار ہوں گے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ عوام دوست چیف منسٹر کے ہاتھ مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اسکالر شپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ کے علاوہ بیرون ملک تعلیم کیلئے 20 لاکھ روپئے تعلیمی امداد کی اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ مرکزی وزیر لیبر بنڈارو دتاتریہ نے مولانا ابوالکلام آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا شمار ملک کے نامور مجاہدین آزادی اور ماہرین تعلیم میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان تعلیمی پسماندگی کے سبب غربت کا شکار ہیں لہذا ان کی تعلیمی ترقی پر توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تلنگانہ میں اقلیتوں کی تعلیم کیلئے مرکز سے زائد فنڈز فراہم کرنے کا تیقن دیا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے مولانا آزاد فاؤنڈیشن کو 120کروڑ روپئے فراہم کئے ہیں۔ دتاتریہ نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ مادری زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی ذریعہ تعلیم پر توجہ دیں تاکہ آج کے مسابقتی دور میں آگے بڑھ سکیں۔ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے اقلیتی تعلیمی اداروں کے قیام کو چیف منسٹر کا کارنامہ قرار دیا اور کہا کہ کے سی آر ایک سیکولر چیف منسٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں اقلیتوں کے ساتھ ہر شعبہ میں ناانصافیاں کی گئیں اور مسلمانوں کو ٹھیلہ بنڈی اور دکانات پر ملازمت کی حد تک محدود کردیا۔ کسی بھی حکومت نے تعلیمی ترقی پر توجہ نہیں دی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ملک میں پہلی مرتبہ اقلیتوں کیلئے انگلش میڈیم کے اقامتی اسکولس قائم کئے تاکہ اقلیتیں بھی دیگر اقوام کے مساوی ترقی کرسکیں۔ نرسمہا ریڈی نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے ترقیاتی اقدامات سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ ٹی آر ایس حکومت کی مزید 10سال برقراری کیلئے تعاون کریں۔ رکن قانون ساز کونسل محمد سلیم نے اقامتی اسکولس کے قیام پر چیف منسٹر کو مبارکباد پیش کی۔ رکن قانون ساز کونسل فاروق حسین نے کہا کہ چیف منسٹر اقلیتوں کی ہمہ جہتی ترقی میں سنجیدہ ہیں اور ان کے اقدامات مثالی ہیں۔ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن اے کے خاں نے کہا کہ آئندہ تعلیمی سال مزید 26 تا 27ہزار طلبہ کو اقامتی اسکولس میں داخلہ دینے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ محنت و لگن کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہوئے ریاست کا نام روشن کریں۔ اس موقع پر ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین، اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ، منیجنگ ڈائرکٹر کرسچین فینانس کارپوریشن بی وکٹر اور کارپوریٹر گپتا اور دوسرے موجود تھے۔سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ نے خیرمقدم کیا۔ڈپٹی چیف منسٹر کے ہاتھوں مختلف این جی اوز کو ایوارڈز پیش کئے گئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT