Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی اور اردو میڈیم مدارس کی حالت زار پر اظہار افسوس

اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی اور اردو میڈیم مدارس کی حالت زار پر اظہار افسوس

محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر ناراضگی ، سدھیر کمیشن آف انکوائری کا حیدرآباد کلکٹر راہول بوجا کے ساتھ مختلف محکمہ جات کا اجلاس
حیدرآباد۔/3مارچ، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی و سماجی پسماندگی کا جائزہ لینے والے سدھیر کمیشن آف انکوائری نے آج کلکٹر حیدرآباد راہول بوجا کے ہمراہ مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ کمیشن نے شہر میں بعض اردو میڈیم اسکولس اور مسلم آبادی والے علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں میں تعلیمی رجحان اور مسلم علاقوں میں بنیادی سہولتوں  کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر کی قیادت میں کمیشن کے ارکان ڈاکٹر عامر اللہ خاں اور ایم اے باری نے صبح میں کلکٹر حیدرآباد کے دفتر میں مختلف محکمہ جات کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ کمیشن نے اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی اور اردو میڈیم مدارس کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کیا اور محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر ناراضگی جتائی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ سرکاری اسکولوں میں اردو میڈیم ٹیچرس کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس بات سے کمیشن نے اختلاف کیا اور اسے موصولہ شکایات کا حوالہ دیا۔ جس پر ڈی ای او نے اعتراف کیا کہ اسکولوں میں باقاعدہ ٹیچرس کے بجائے اسکول اسسٹنٹس سے کام چلایا جارہا ہے۔ انہوں نے بعض مدارس میں ٹیچرس کی جائیدادیں مخلوعہ ہونے کا بھی اعتراف کیا۔ کمیشن نے ٹیچرس کے تقررات کا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی تاکہ اردو میڈیم مدارس کے معیار میں اضافہ ہو۔ سدھیر کمیشن نے اردو میڈیم مدارس کے غیر اطمینان بخش نتائج پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور عہدیداروں سے اس بارے میں وضاحت طلب کی۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ مسلمانوں میں تعلیم کے حصول کا رجحان کافی کم ہے جس کی اہم وجہ معاشی پسماندگی ہے۔ لڑکوں سے زیادہ لڑکیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ کمیشن نے مسلمانوں میں تعلیم سے متعلق شعور بیداری کی ضرورت ظاہر کی۔ کمیشن نے مختلف بینکرس سے مسلمانوں کو قرض کی اجرائی کے اعداد و شمار طلب کئے۔ کمیشن کو بینکرس نے بتایاکہ اسنادات کی تکمیل کرنے والے امیدواروں کو قرض جاری کئے جاتے ہیں اور حکومت کی جانب سے بینکوں کو نشانہ مقرر کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد میں شادی مبارک اسکیم پر کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے اور 76000 مسلم افراد کو وظائف جاری کئے گئے۔ کمیشن نے اقلیتی فینانس کارپوریشن سے سبسیڈی کی فراہمی اسکیم کے بجٹ میں اضافہ کی سفارش کی۔ صدرنشین جی سدھیر کا احساس تھا کہ ایک لاکھ سے زائد درخواستوں میں صرف 8000 امیدواروں کا انتخاب کس طرح کیا جائے گا۔ انہوں نے مقررہ نشانہ اور بجٹ میں اضافہ کی تجویز پیش کی اور کہا کہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کو اس سلسلہ میں توجہ دینی چاہیئے۔ کمیشن نے مشیرآباد میں واقع ایک سرکاری اسکول کا دورہ کیا جس کی تین منزلہ عمارت تھی لیکن اردو میڈیم طلبہ کی تعداد انتہائی کم دیکھی گئی جس کی اہم وجہ بنیادی تعلیمی سہولتوں کا فقدان ہے۔ کمیشن نے اس موقع پر محکمہ تعلیم کی کارکردگی کو غیر اطمینان بخش قرار دیا۔ انجمن تاجران چرم بھولکپور کے اسکول میں تقریباً 3000طالبات زیر تعلیم ہیں۔ کمیشن نے بعض سیلف ہیلپ گروپس سے  بھی ملاقات کی۔ بھولکپور اور اس کے اطراف کے علاقوں میں دورہ کے موقع پر عوام نے آلودہ پانی، گندگی، بدبو اور مکانات کی کمی کی شکایت کی۔ اس علاقہ میں پلاسٹک اور چرم انڈسٹری کے باعث گراؤنڈ واٹر بھی آلودہ ہوچکا ہے۔ کمیشن کے صدرنشین اور ارکان نے جامع مسجد مشیرآباد کا دورہ کیا اور مصلیوں سے ملاقات کی۔

TOPPOPULARRECENT