Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / اقلیتوں کی عدم سلامتی کا دعویٰ سیاسی پروپگنڈہ : وینکیا نائیڈو

اقلیتوں کی عدم سلامتی کا دعویٰ سیاسی پروپگنڈہ : وینکیا نائیڈو

دنیا بھر کے مقابل ہندوستان میں اقلیتیں زیادہ محفوظ و سلامت ‘ سابق صدر بی جے پی کا قوم میں پھوٹ ڈالنے کے خلاف انتباہ

نئی دہلی ۔ 10اگست ( سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر منتخب ایم وینکیا نائیڈو نے آج اس رائے کو ’’ سیاسی پروپگنڈہ ‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا کہ ملک کی اقلیتوں میں عدم سلامتی کا احساس پایا جاتا ہے ‘ جو سبکدوش ہونے والے نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری کے تبصرہ کی صاف طور پر تکذیب ہے ۔ اگرچہ نائیڈو نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن ان کے تبصرہ کو حامد انصاری کے ایک ٹی وی انٹرویو میں دیئے گئے ریمارکس پر ردعمل کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ حامد انصاری نے کہا ہے کہ ملک کے مسلمانوں میں بے چینی اور عدم سلامتی کا احساس دیکھنے میں آرہا ہے اور یہ کہ رواداری کے ماحول کو خطرہ ہے ۔ نائیڈو نے نیوز ایجنسی ’ پی ٹی آئی ‘ کو بتایا کہ بعض لوگ اقلیتوں کو غیر محفوظ بتارہے ہیں ۔ یہ سیاسی پروپگنڈہ ہے ۔ ساری دنیا سے موازانہ کریں تو اقلیتیں ہندوستان میں زیادہ محفوظ اور سلامت ہیں اور انہیں ان کا مستحقہ حصہ ملتا ہے ۔ انہوں نے اس رائے سے بھی عدم اتفاق کیا کہ عدم رواداری بڑھتی جارہی ہے اور کہاکہ ہندوستانی سماج دنیاکا انتہائی روادار سماج ہے جو اس کے عوام اور اس کی تہذیب کی وجہ سے ہے۔ رواداری ہے ‘ اسی لئے تو جمہوریت کامیاب ہے ۔سابق صدر بی جے پی نے قوم میں پھوٹ ڈالنے کے خلاف متنبہ بھی کیا اور کہا کہ کسی مخصوص برادری کے تناظر میں بات کرنا ٹھیک نہیں‘ اس سے دیگر برادریوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آئے گا ۔68سالہ لیڈر اور سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ اگر آپ کوئی کمیونٹی کی خوشامد کرتے ہیں تو دیگر برادریاں متنفر ہوںگی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سب کو مساوی کہتے ہیں ۔ کسی کی خوشامد نہیں اور سب سے انصاف ۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ ثابت کرچکی ہیں کہ اقلیتوں کے خلاف کوئی امتیاز نہیں ہیں ۔

انہیں نمایاں عہدہ حاصل ہوتے ہیں جن میں دستوریاں شامل ہیں اور یہ اسی لئے کہ کوئی امتیاز نہیں اور ان کے محاسن کی اساس پر انتخاب ہوتا ہے ۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ ہندوستان کی انفرادیت اس کی کثرت میں وحدت ہے‘ نائیڈو نے کہا کہ ’ سروو دھرم سدبھاؤ ‘ اور سیکولرازم ہندوستان کا لازمی جز ہے ۔ ہندوستان اس کے سیاسی قائدین کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے عوام اور اس کی تہذیبکی وجہ سے سیکولر ہے ۔ حامدانصاری کے ریمارکس مبینہ عدم رواداری اور خودساختہ گاؤں دہشت گردوں کے تشدد کے واقعات کے پس منظر میںسامنے آئے ہیں ۔ ان تمام واقعات کیلئے اپوزیشن پارٹیوں نے مرکزی حکومت کو زبردست لفظی حملوں کا نشانہ بنایا ہے ۔ مبینہ عدم رواداری کے واقعات سے متعلق پوچھنے پر نائیڈو نے کہا کہ ہندوستان بہت بڑا ملک ہے اور کہیں کہیں یکادکا واقعات ہوسکتے ہیں جو استثنائی معاملہ کے ذریعہ کچھ نہیں ۔ تاہم ‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی کمیونٹی کی اساس پر ہم وطن لوگوں پر حملوں کو حق بجانب نہیں ٹھہرا سکتا ۔ اس طرح کے حملوں کی مذمت ہونا چاہیئے اور متعلقہ حکام کو کارروائی کرنا چاہیئے۔ نائیڈو نے یہ بھی کہا کہ بعض لوگ اس طرح کے واقعات کو سیاسی اغراض کے سبب بڑھا چڑھاکر پیش کرتے ہیں ۔ بعض لوگ تو بین الاقوامی فورم میں ایسے مسائل اٹھاتے ہوئے ملک کو بدنام کرنے سے تک گریز نہیں کرتے ۔ ہندوستان کے اگلے نائب صدر کی حیثیت سے حلف لینے سے ایک روز قبل وینکیا نائیڈو نے کہا کہ سیاستدانوںکو میرا مشورہ ہے کہ سماجی برادریوں کو سیاست میں نہ گھسیٹیں۔

وی ایچ پی کی بھی حامدانصاری پر تنقید
اس دوران وی ایچ پی نے بھی سبکدوش ہونے والے نائب صدر حامد انصاری کو ان کے اس تبصرہ پر ہدف تنقید بنایا کہ مسلمانوں میں عدم سلامتی کا احساس پایا جاتاہے اور انہیں محمد علی جناح کی راہ اختیار کرنے کا مورد الزام ٹھہرایا ۔ وی ایچ پی جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے نئی دہلی میں کہا کہ اپنے ریمارکس کے ذریعہ انصاری نے نائب صدر کے عہدہ‘حکومت اور ساری ہندوکمیونٹی کی ہتک کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انصاری نے یہ بیان اپنا سیاسی ایجنڈہ طئے کرنے کیلئے دیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT