Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کے اردو کمپیوٹر ٹریننگ سنٹرس زبوں حالی کا شکار

اقلیتوں کے اردو کمپیوٹر ٹریننگ سنٹرس زبوں حالی کا شکار

آندھراپردیش میں عصری سنٹرس میں تبدیل، تلنگانہ میں سرکاری سرپرستی سے محروم
حیدرآباد۔/11فبروری، ( سیاست نیوز) اقلیتی نوجوانوں کو اردو کمپیوٹر ٹریننگ کے مقصد سے قائم کردہ کمپیوٹر سنٹرس تلنگانہ میں زبوں حالی کا شکار ہیں جبکہ آندھرا پردیش حکومت نے اردو کمپیوٹر سنٹرس کو نہ صرف عصری سنٹرس میں تبدیل کردیا بلکہ وہاں 6 ماہ کی ٹریننگ بھی مکمل ہوچکی ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں 43 اور آندھرا پردیش میں 34 کمپیوٹر سنٹرس باقی رہے۔ ان کمپیوٹر سنٹرس میں اقلیتی نوجوانوں کو مختلف کورسیس میں 6 ماہ پر مشتمل ڈپلوما کورس کی ٹریننگ دی جاتی تھی لیکن ریاست کی تقسیم کے بعد انہیں سرکاری سرپرستی سے محروم کردیا گیا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے دونوں حکومتوں کو تجویز پیش کی تھی کہ موجودہ سنٹرس میں زائد کمپیوٹرس اور عصری ٹکنالوجی پر مبنی کورسیس کا آغاز کیا جائے تاکہ طلبہ ڈپلوما کورسیس کی تکمیل کے بعد باآسانی روزگار حاصل کرسکیں۔ دونوں حکومتوں کو اگرچہ یہ تجویز روانہ کی گئی لیکن عمل آوری کے معاملہ میں آندھرا پردیش حکومت نے سبقت حاصل کرلی اور تلنگانہ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ کمپیوٹر سنٹرس میں سابق میں جو کمپیوٹرس سربراہ کئے گئے تھے وہ تقریباً ناکارہ ہوچکے ہیں اور بمشکل ایک یا دو کمپیوٹرس کارکرد ہیں اور کورسیس بھی ازکار رفتہ ہوچکے ہیں۔ تقریباً 16سال قبل یہ کمپیوٹرس سربراہ کئے گئے تھے۔ حکومت آندھرا پردیش نے کمپیوٹر سنٹرس کی ترقی کیلئے اضافی بجٹ مختص کرتے ہوئے 34 کمپیوٹر سنٹرس میں نئے اور عصری ٹکنالوجی سے لیس کمپیوٹر سربراہ کئے اور وہاں موجودہ ضرورتوں کے اعتبار سے نئے کورسیس کی ٹریننگ کا بھی آغاز ہوگیا۔ آندھرا پردیش حکومت نے کمپیوٹر سنٹرس کو انٹر نیٹ سے بھی مربوط کردیا اقلیتی طلبہ کو ٹریننگ میں سہولت ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھرا پردیش کے اردو کمپیوٹر سنٹرس میں 6 ماہ کا ڈپلوما کورس مکمل ہوچکا ہے اور طلبہ کو سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کئے گئے اور دوسرا بیاچ زیر تربیت ہے۔ آندھرا پردیش حکومت نے قدیم کمپیوٹر سنٹرس کی مکمل ہیئت کو تبدیل کردیا اور وہ عصری سنٹرس میں تبدیل ہوگئے۔ ہر سنٹر کو ایک پرنٹر اور اسکیانر بھی فراہم کیا گیا ہے۔ دوسری طرف تلنگانہ کے 43 کمپیوٹر سنٹرس اپنی بدحالی کا رونا رورہے ہیں۔ گذشتہ دیڑھ سال سے ٹریننگ کا آغاز نہیں کیا جاسکا کیونکہ کمپیوٹرس ناکارہ ہوچکے ہیں یا پھر ناقص حالت میں ہیں۔ جن طلبہ کی دیڑھ سال قبل ٹریننگ مکمل ہوچکی ہے ان کیلئے امتحانات کا انعقاد ابھی تک عمل میں نہیں آیا جس کے باعث امیدوار سنٹرس کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ حکومت نے نئے کمپیوٹر سنٹرس اور عصری کورسیس کی منظوری نہیں دی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو اردو کمپیوٹر سنٹرس کو جاری رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ایک سے زائد مرتبہ حکومت کو تجویز روانہ کرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں مل رہا ہے۔ دوسری طرف حکومت نے کمپیوٹر سنٹرس کے 35 ملازمین کو ہٹاکر ان کی خدمات ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفسوں میں منتقل کردی ہیں۔ تلنگانہ حکومت کو اردو کمپیوٹر سنٹرس کی برقراری کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔ اردو کی کم آبادی والی ریاست آندھرا پردیش نے اپنی 34 اردو لائبریریز کو بھی ترقی دینے کا کام شروع کردیا ہے۔ ہر لائبریری کو 200 اردو کتابیں سربراہ کی گئی ہیں۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش حکومتوں کے اردو کے ساتھ رویہ میں یہ تضاد اردو والوں کیلئے بھی حیرت کا باعث ہے۔

TOPPOPULARRECENT