Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کے اقامتی اسکولوں کا 14 جون سے آغاز

اقلیتوں کے اقامتی اسکولوں کا 14 جون سے آغاز

اساتذہ کے تقررات بھی تقریبا مکمل ، جناب اے کے خاں کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔/7جون، ( سیاست نیوز) اقلیتوں کیلئے قائم کئے جانے والے 71اقامتی اسکولس کا 14جون سے آغاز ہوگا۔ اسکولوں کی سوسائٹی کے نائب صدر نشین اے کے خاں نے سوسائٹی سے وابستہ عہدیداروں اور اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں اسکولوں کے آغاز کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں اقلیتی بہبود کے اداروں کے سربراہ بھی موجود تھے۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس اور ایکزیکیٹو ڈائرکٹرس اقلیتی فینانس کارپوریشن نے اپنے متعلقہ اضلاع میں اسکولوں کے آغاز کی صورتحال پر رپورٹ پیش کی۔ اے کے خاں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ کسی بھی صورت میں 14 جون سے اسکولس کا آغاز ہوجانا چاہیئے اور تعلیم کا آغاز ہوجائے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 71کے منجملہ 62اسکول عمارتیں آغاز کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان اسکولوں میں طلبہ کیلئے درکار
بنیادی سہولتیں فراہم کردی گئی ہیں باقی اسکولوں کو اندرون ایک ہفتہ تیار کرلیا جائے گا۔ اساتذہ کے تقررات بھی تقریباً مکمل ہوچکے ہیں اور جن مقامات پر تقررات کا عمل مکمل نہیں کیا گیا وہاں 9جون تک تقررات مکمل کرلیئے جائیں گے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پرنسپالس کے تقررات کے سلسلہ میں بعض وزراء اور عوامی نمائندوں نے اعتراضات کئے ہیں۔ غیر مقامی افراد کو پرنسپال مقررکرنے پر ناراضگی جتائی جارہی ہے۔ اے کے خاں نے عہدیداروں سے کہا کہ جہاں بھی اس طرح کے اعتراضات ہوں حتیٰ القدور طور پر مقامی شخص کو پرنسپال مقرر کرتے ہوئے شکایت کا ازالہ کیا جائے۔ 10اور 11جون کو ٹیچرس کیلئے دو روزہ اورینٹیشن پروگرام کا حیدرآباد میں انعقاد عمل میں آئے گا تاکہ نصاب اور دیگر تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔ اے کے خاں نے کہا کہ ان اسکولوں میں کارپوریٹ اسکولس کی طرز پر معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔ اجلاس میں منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ، سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ، وقف سروے کمشنر معصومہ بیگم اور دوسروں نے شرکت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ اساتذہ اور پرنسپالس کے تقررات کے سلسلہ میں سوسائٹی سے وابستہ این جی اوز کے نمائندوں نے بعض بے قاعدگیاں کی ہیں اور اپنی پسند کے افراد کا تقرر کرتے ہوئے تنازعہ کھڑا کیا ہے۔ پرنسپالس کے تقررات میں بھی کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اضلاع کے متعلقہ عہدیداروں حتیٰ کہ ضلع کلکٹر کو اطلاع دیئے بغیر ہی حیدرآباد سے پرنسپالس کو روانہ کردیا گیا۔ حالانکہ پرنسپالس کے تقررات میں ضلع کلکٹر سے مشاورت ضروری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی اقامتی مدارس کے پرنسپالس کی اکثریت غیر اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھتی ہے جس سے سوسائٹی سے وابستہ افراد پر کئی سوالات اُٹھ رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT