Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کے مسائل پر حکومت کے فیصلوں پر عمل کیلئے عہدیداروں کی سنجیدگی ضروری

اقلیتوں کے مسائل پر حکومت کے فیصلوں پر عمل کیلئے عہدیداروں کی سنجیدگی ضروری

آندھراپردیش میں غیراقلیتی عہدیدار کا سنجیدہ کام، تلنگانہ میں اقلیتی عہدیدار کی غیرسنجیدگی
حیدرآباد۔/14جولائی، ( سیاست نیوز) اقلیتوں کے مسائل کی یکسوئی کیلئے حکومت کے فیصلوں سے زیادہ عہدیداروں کی سنجیدگی ضروری ہے۔ عام طور پر اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے حکومت اقلیتی عہدیداروں کا تقرر کرتی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری کی حیثیت سے مسلم عہدیدار کا تقرر کیا اور یہ عہدیدار محکمہ کا سربراہ ہوتا ہے۔ سابق میں اس عہدہ پر کئی غیر اقلیتی عہدیدار بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ آندھرا پردیش حکومت نے ڈاکٹر وجئے کمار کو سکریٹری اقلیتی بہبود کے عہدہ پر فائز کیا اور اس عہدیدار نے مسلم عہدیداروں سے زیادہ دلچسپی دکھاتے ہوئے اقلیتی نوجوانوں کے حق میں ایک اہم فیصلہ کیا۔ متحدہ آندھرا پردیش میں اقلیتی طلبہ کیلئے سیول سرویسیس کی کوچنگ کا اہتمام کیا جاتا رہا اور ریاست کی تقسیم کے بعد بھی دونوں حکومتوں نے اس اسکیم کو برقرار رکھا۔ جاریہ سال تلنگانہ کا محکمہ اقلیتی بہبود اقلیتی طلبہ کو سیول سرویسس کی کوچنگ فراہم کرنے میں ناکام ہوگیا اور ان کا ایک سال ضائع ہوگیا تاہم دوسری طرف آندھرا پردیش کے سکریٹری اقلیتی بہبود وجئے کمار نے کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال کے اشتراک سے شخصی دلچسپی لیتے ہوئے اقلیتی طلبہ کیلئے اے پی اسٹڈی سرکل میں سیول سرویسیس کی کوچنگ کا آغاز کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھرا پردیش حکومت نے سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز CEDM کے ذریعہ اسکریننگ ٹسٹ کا اہتمام کرتے ہوئے 50 اقلیتی طلبہ کا کوچنگ کیلئے انتخاب کیا ان میں سے بعض طلبہ نے دوسرے کوچنگ سنٹرس میں داخلہ کرلیا اور حکومت کی جانب سے 23 اقلیتی طلبہ کو اے پی اسٹڈی سرکل میں کوچنگ کا آغاز کردیا گیا۔ 6 ماہ پر مشتمل اس کوچنگ میں آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے اقلیتی طلبہ کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ آندھرا پردیش کے عہدیداروں کو اقلیتی طلبہ کے مستقبل کی زیادہ فکر لاحق ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود ڈاکٹر وجئے کمار نے اُمید ظاہر کی کہ اقلیتی طلبہ کا سیول سرویسیس میں بہتر مظاہرہ رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ سال بعض انتظامی دشواریوں کے سبب منظم انداز میں کوچنگ کا اہتمام نہیں کیا جاسکا۔ آئندہ سال 100 اقلیتی طلبہ کو انتہائی معیاری کوچنگ سنٹرس میں داخلہ دلایا جائے گا اور کوچنگ کے تمام اخراجات حکومت آندھرا پردیش برداشت کرے گی۔ کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ اقلیتی طلبہ کو بھی دیگر طلبہ کی طرح مکمل چھ ماہ کی کوچنگ فراہم کی جائے تاکہ ان کے بہتر نتائج کو یقینی بنایا جاسکے۔ الغرض تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں آندھرا پردیش کے غیر اقلیتی سکریٹری نے اقلیتوں سے ہمدردی کی بہتر مثال قائم کی ہے۔ نئے دارالحکومت کے قیام اور اسٹاف کے الاٹمنٹ میں تاخیر جیسے مسائل کے باوجود آندھرا پردیش کے عہدیداروں کی اقلیتوں کے تئیں دلچسپی قابل ستائش ہے۔ دوسری طرف آندھرا پردیش وقف بورڈ کی کارکردگی بھی تلنگانہ وقف بورڈ سے بہتر ہوچکی ہے جہاں قابل اسٹاف کا تقرر کرتے ہوئے آندھرا پردیش میں وقف آمدنی میں نہ صرف اضافہ کیا گیا بلکہ کئی اہم درگاہوں کی اراضیات پر ناجائز قبضوں کی برخواستگی میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT