Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اداروں کا مرکز ’حج ہاوز ‘ میں مینٹیننس پر حکام کی عدم توجہ

اقلیتی اداروں کا مرکز ’حج ہاوز ‘ میں مینٹیننس پر حکام کی عدم توجہ

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے احکامات بھی نظر انداز ، ایک ہفتہ سے لفٹ بند
حیدرآباد۔ 11۔ مئی  ( سیاست نیوز) حج ہاؤز نامپلی جو اقلیتی اداروں کے دفاتر کا مرکز ہے، اس کے مینٹننس پر حکام کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ مناسب نگہداشت کے بارے میں ڈپٹی چیف منسٹر اور اعلیٰ عہدیداروں کی ہدایات کو بھی فراموش کردیا گیا ۔ جس طرح محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی میں اسی طرح حج ہاؤز کی عمارت کی نگہداشت سے حکام کو کوئی دلچسپی نہیں۔ گزشتہ ایک ہفتہ سے حج ہاؤز کی دو لفٹ بند پڑی ہیں اور ان کی درستگی کا کام انجام نہیں دیا گیا۔ عمارت کی نگہداشت اور مینٹیننس کی ذمہ داری وقف بورڈ کی ہیں اور اس نے اس کام کیلئے علحدہ شعبہ قائم کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک ہفتہ قبل ہوئی طوفانی بارش کے نتیجہ میں پانی دونوں لفٹ کے اندرونی حصہ میں داخل ہوگیا اور شارٹ سرکٹ سے وائر جل گئے۔ اس طرح دونوں لفٹ کو بند کردیا گیا ہے۔ اگرچہ پانی کی نکاسی کا کام مکمل ہوگیا لیکن وائروں کی درستگی ابھی جاری ہے۔ مینٹننس حکام کا کہنا ہے کہ جب تک پانی مکمل طور پر سوکھ نہیں جاتا ، اس وقت تک لفٹ کو شروع کرنا خطرہ سے خالی نہیں۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں لفٹ کی درستگی کیلئے ایک ہفتہ کا وقت یقیناً باعث حیرت ہے کیونکہ عصری طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے یہ کام ایک دن میں بھی انجام دیا جاسکتا تھا۔ اگر وقف بورڈ کے مینٹننس ڈپارٹمنٹ کے پاس عصری سہولتیں موجود نہیں تو کسی خانگی ادارہ کی خدمات حاصل کی جاسکتی تھی ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکام کو عوام کی تکالیف کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔

 

عمارت کے جس حصہ میں دونوں لفٹ بند پڑی ہیں، اس میں کئی اہم دفاتر قائم ہیں۔ وقف بورڈ کے علاوہ تلنگانہ ۔ آندھرا حج کمیٹی ، آندھراپردیش وقف بورڈ ، حیدرآباد اور رنگا ریڈی کے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر دفاتر اور دیگر ادارے موجود ہیں۔ یہ لفٹ نویں منزل تک کام کرتی ہے اور ان کے بند ہونے سے نہ صرف عہدیداروں بلکہ عوام کو سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔ ضعیف افراد اور خواتین کو شادی مبارک اور دیگر اسکیمات کے بارے میں معلومات کرنے سیڑھیوں کے ذریعہ جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ اسکالرشپ کے سلسلہ میں طلبہ کو چھٹی منزل تک سیڑھیوں کے ذریعہ جانا پڑرہا ہے۔ ایک ہفتہ سے اس صورتحال پر اعلیٰ عہدیداروں کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ عوام نے سیاست سے شکایت کی کہ لفٹ کے بند ہونے اور عمارت کے جگہ جگہ گندگی کے بارے میں بارہا توجہ دلائی گئی لیکن کسی کو دلچسپی نہیں ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے ہر سال حج سیزن سے قبل عمارت کو کلر کرنے کی ہدایت جاری کی جاتی رہی لیکن آج تک اس پر عمل نہیں ہوا۔ جاریہ سال بھی حکومت نے حج سیزن سے قبل عمارت کو کلر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس پر کس حد تک عمل ہوپائے گا۔

TOPPOPULARRECENT