Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اداروں کے نامزد عہدوں پر تقررات کی تیاریاں

اقلیتی اداروں کے نامزد عہدوں پر تقررات کی تیاریاں

اردوا کیڈیمی کے صدر نشین کے لیے ایک شاعر کے نام کو تقریباً قطعیت
حیدرآباد۔/11اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اقلیتی اداروں کے نامزد عہدوں پر تقررات کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں چیف منسٹر اردو اکیڈیمی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن پر تقررات کے حق میں ہیں اور اس سلسلہ میں انہوں نے پارٹی کے بااعتماد رفقاء سے مذاکرات بھی کئے ہیں۔ اقلیتی اداروں میں حج کمیٹی اور وقف بورڈ پر حکومت کی حلیف مقامی سیاسی جماعت نے اپنی دعویداری پیش کی ہے جس کے باعث حکومت نے ان اداروں پر تقررات کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ وقف بورڈ کی دونوں ریاستوں میں تقسیم کا عمل ابھی باقی ہے جو اس ادارہ کی تشکیل میں اہم رکاوٹ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے اردو اکیڈیمی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے صدورنشین اور ارکان کے ناموں کی ایک عبوری فہرست بھی تیار کرلی ہے اس میں بعض وزراء کے سفارش کردہ افراد کو بحیثیت ڈائرکٹرس شامل کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر نے اردو اکیڈیمی کے صدرنشین کی حیثیت سے ایک شاعر کے نام کو تقریباً قطعیت دے دی ہے، اس شاعر کا چیف منسٹر سے قریبی ربط رہا ہے اور تلنگانہ تحریک کے دوران انہوں نے تلنگانہ تحریک کے حق میں خاکے اور گیت لکھے تھے۔ چیف منسٹر سے اس شاعر کی قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ وہ اکثر و بیشتر چیف منسٹر کے کیمپ آفس میں دکھائی دیتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض گوشوں نے ان کے نام کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی کہ وہ غیر مقامی ہیں لیکن مذکورہ شاعر نے اپنے تلنگانہ سے تعلق کے بارے میں دستاویزی ثبوت چیف منسٹر کو فراہم کیا ہے۔ چیف منسٹر بہر صورت اپنے اس قریبی دوست کو صدرنشین کے عہدہ پر نامزد کرنے کا ذہن بناچکے ہیں تاہم پارٹی کے اقلیتی قائدین اور بعض عوامی نمائندوں نے اس عہدہ کیلئے بعض دیگر ناموں کی سفارش کی ہے۔ چیف منسٹر تمام ناموں کے ساتھ اپنے قریبی رفقاء سے مشاورتی نشست میں اس مسئلہ کو قطعیت دیں گے۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کیلئے ایک سابق آئی اے ایس عہدیدار کے رشتہ دار دوڑ میں آگے ہیں۔ وہ چیف منسٹر کے قریبی دوست کے بھی رشتہ دار ہیں لہذا اُن کا نام متوقع امیدواروں میں سرفہرست بتایا جاتا ہے ۔ چیف منسٹر کی جانب سے دونوں عہدوں کیلئے پارٹی سے تعلق نہ رکھنے والے افراد کے ناموں پر غور کے سبب پارٹی کے اقلیتی قائدین میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے عوامی نمائندوں اور بالخصوص ڈپٹی چیف منسٹر اور مسلم ارکان اسمبلی نے ان عہدوں کیلئے بعض دیگر ناموں کی چیف منسٹر سے سفارش کی ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے کہنا ہے کہ اگر چیف منسٹر چاہیں تو سفارش کردہ ناموں کو بورڈ آف ڈائرکٹرس میں شامل کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں تاہم صدرنشین کے مسئلہ پر چیف منسٹر نے اپنا ذہن بنالیا ہے۔ پارٹی کے اقلیتی قائدین میں مایوسی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر انہیں دیگر اداروں میں موقع فراہم کرنے کا تیقن دے رہے ہیں۔ پارٹی کے اقلیتی قائدین کی اکثریت اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کی صدارت کی دوڑ میں ہے اور اگر حکومت پارٹی اقلیتی قائدین کو نظرانداز کرتی ہے تو اقلیتی قائدین کی مایوسی میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔

TOPPOPULARRECENT