Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی ادارے عہدیداروں کی مرضی اور قریبی افراد کے اشاروں پر

اقلیتی ادارے عہدیداروں کی مرضی اور قریبی افراد کے اشاروں پر

عدم کارکردگی اور اسکیمات میں ناکامی ، عدم کنٹرول کی اہم وجہ ، کئی تنازعات کا مرکز
حیدرآباد۔/9 جون، ( سیاست نیوز) سرکاری ادارے یوں تو مقررہ  قواعد و ضوابط کے تحت کام کرتے ہیں لیکن اقلیتی اداروں پر حکومت کے قواعد کا شاید کوئی اطلاق نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اقلیتی ادارے عہدیداروں کی مرضی اور ان کے قریبی افراد کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ اقلیتی اداروں کی عدم کارکردگی اور اسکیمات پر عمل آوری میں ناکامی کی وجوہات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ حکومت کا ان اداروں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے جس کے نتیجہ میں اداروں میں من مانی اور بے قاعدگیاں عام ہوچکی ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن ایسا ادارہ ہے جس کے تحت اقلیتی بہبود کی اہم اسکیمات موجود ہیں لیکن اس ادارہ کی کارکردگی عملاً ٹھپ ہوچکی ہے۔ کئی اسکیمات گذشتہ دو برسوں سے ابھی تک عمل آوری کے مرحلہ میں ہیں اور جب کبھی اس بارے میں استفسار کیا جائے تو عہدیدار یہ کہتے ہوئے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجاتے ہیں کہ حکومت نے اسکیمات کا بجٹ جاری نہیں کیا۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن یوں تو گذشتہ کئی ماہ سے تنازعات کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ سکریٹری اقلیتی بہبود اور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن سے قربت رکھنے والا شخص اس ادارہ پر عملاً حکمرانی کررہا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ فبروری میں مذکورہ جنرل منیجر کے ریٹائرڈ ہونے کے باوجود آج بھی اسی شخص کو اعلیٰ عہدیداروں نے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور وہ اعلیٰ عہدیداروں کے فیصلوں میں نہ صرف شریک ہے بلکہ اپنی مرضی مطابق فیصلے کروانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ یوں تو سابق میں بھی مذکورہ شخص کی مداخلت کے سبب اعلیٰ عہدیداروں نے قواعد کے برخلاف کئی فیصلے کئے تھے لیکن تازہ ترین ایک معاملہ میں جنرل منیجر کے عہدہ پر ایک جونیر شخص کو مقرر کرتے ہوئے سینئر عہدیدار سے ناانصافی کی گئی ہے۔ اس فیصلہ کیلئے منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن، سکریٹری اقلیتی بہبود کے علاوہ مذکورہ ریٹائرڈ عہدیدار ذمہ دار ہے جس نے حال ہی اپنے ایک رشتہ دار کو جو انتہائی جونیر ہے جنرل منیجر کے عہدہ پر فائز کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب وہ اس کوشش میں ناکام ہوگیا تو اس نے ایک اور جونیر شخص کو جنرل منیجر کے عہدہ پر فائز کرنے میں کامیابی حاصل کرلی حالانکہ کارپوریشن کے قواعد کے مطابق ریٹائرڈ ہونے والے شخص کے بعد جو سینئر ہوگا اسے ذمہ داری دی جاتی ہے۔ ریٹائرڈ عہدیدار کی مسلسل غیر مجاز مداخلت اور کارپوریشن کی مراعات سے استفادہ نے کارپوریشن میں ناراضگی پیدا کردی ہے لیکن چونکہ اس شخص کو اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی حاصل ہے لہذا کوئی بھی کھل کر اظہار خیال سے گریز کررہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فبروری میں ریٹائرمنٹ کے باوجود سکریٹری اور منیجنگ ڈائرکٹر نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اسکول سوسائٹی میں او ایس ڈی کے ایک کمتر عہدہ پر تقرر کیا۔ اس تقرر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کارپوریشن کے معاملات میں مداخلت جاری ہے اور یہاں کی تمام سہولتوں سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ جو کوئی قواعد کی بات کرے اسے اعلیٰ عہدیداروں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ مذکورہ شخص اپنی قابلیت کے اعتبار سے انگریزی میں ایک فائیل لکھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا اور وہ اپنی تاریخ پیدائش میں تحریف کے ذریعہ پہلے ہی 5 سال زائد خدمات انجام دے چکا ہے جس کا ثبوت سی بی سی آئی ڈی کی رپورٹ ہے لیکن افسوس کہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار سی بی سی آئی ڈی رپورٹ پر عمل کرنے کے بجائے ایک کروڑ سے زائد رقم غیر مجاز طور پر حاصل کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی سے گریز کررہے ہیں۔ کارپوریشن کے اُمور میں غیر مجاز شخص کی مداخلت کو روکنے کیلئے حکومت کو چاہیئے کہ فوری طور پر اسکول سوسائٹی کا دفتر کسی اور مقام پر منتقل کردے جو فی الوقت کارپوریشن کے دفتر سے کام کررہی ہے۔ کارپوریشن کے ملازمین اس طرح کے قواعد کی خلاف ورزیوں اور غیر مجاز افراد کی مداخلت کے خلاف باقاعدہ احتجاج کی تیاری کررہے ہیں۔ ہر سطح کے اور ہر اقلیتی ادارہ کے ملازمین اس بات پر حیرت میں ہیں کہ آخر اعلیٰ عہدیداروں کی کیا مجبوری ہے یا پھر وہ اُن کی کیا ضرورتوں کی تکمیل کررہا ہے جس کے لئے وہ اس کے اشارے پر چلنے کیلئے مجبور ہیں۔

TOPPOPULARRECENT