Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اسکیمات پر شفافیت کے ساتھ عمل آوری کی ہدایت

اقلیتی اسکیمات پر شفافیت کے ساتھ عمل آوری کی ہدایت

ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کا اجلاس ، جناب محمد جلال الدین اکبر کا خطاب
حیدرآباد۔/10ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتی بہبود اسکیمات پر موثر عمل آوری کیلئے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر نے آج ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کا اجلاس طلب کیا۔ انہوں نے شہر اور اضلاع میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ مکمل شفافیت کے ساتھ اسکیمات پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جس مقصد سے بجٹ جاری کررہی ہے اس کا صحیح استعمال اور حقیقی مستحقین تک فوائد پہنچانا عہدیداروں کی ذمہ داری ہے۔ جلال الدین اکبر نے اسکیمات کے سلسلہ میں ملنے والی بعض شکایتوں کا حوالہ دیا اور عہدیداروں کو پابند کیا کہ وہ کسی بھی بے قاعدگی کا موقع فراہم نہ کریں بصورت دیگر حکومت سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کو بتایا کہ حکومت نے فیس بازادائیگی اور اسکالر شپ کیلئے 90کروڑ روپئے جاری کئے ہیں اور یہ رقم جلد ہی کالجس کو جاری کردی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں ہر کالج کے 50فیصد بقایا جات جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 2013-14اور 2014-15کے بقایا جات کی اجرائی کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ سال ابھی تک اس اسکیم کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کالجس کو فیس بازادائیگی کے نام پر طلبہ کے سرٹیفکیٹس کو اپنی تحویل میں رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر کالجس طلبہ کو مکمل فیس کی ادائیگی کیلئے اصرار کریں گے اور سرٹیفکیٹس جاری نہ کریں تو حکومت ان کالجس کے خلاف کارروائی کرے گی۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے عہدیداروں سے کہا کہ فیس باز ادائیگی اور اسکالر شپ جیسی اہم اسکیمات پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے شادی مبارک اسکیم کی درخواستوں اور منظوری کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اس اسکیم کی درخواستوں کی جانچ کا کام جلد مکمل کریں تاکہ غریب خاندانوں کو فائدہ پہنچے۔ اقلیتی طلبہ کیلئے ہاسٹلس اور اقامتی مدارس کے قیام کا بھی جائزہ لیا گیا اور عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے اپنے ضلع میں ہاسٹل اور اقامتی اسکول کیلئے موزوں اراضی کی نشاندہی کریں۔ اس اسکیم کیلئے حکومت نے ابھی تک بجٹ جاری نہیں کیا ہے۔ اراضی کی نشاندہی کے بعد حکومت بجٹ جاری کرے گی اور تعمیری کام کا فوری آغاز ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ تعلیمی سال اقامتی مدارس کا آغاز ہوجائے گا۔ ہر ضلع میں تمام اقلیتی اداروں کو ایک چھت کے تحت لانے کیلئے کامپلکس کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ ہر ضلع ہیڈکوارٹر پر اس کے لئے موزوں اور مرکزی مقام پر اراضی تلاش کی جارہی ہے۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس سے کہا گیا کہ وہ جلد از جلد اراضی کی نشاندہی کریں۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں تمام اضلاع کے وقف انسپکٹرس، آڈیٹرس کا اجلاس طلب کیا۔ انہوں نے منڈل اور مواضعات کی سطح پر اوقافی جائیدادوں اور ان کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ وقف انسپکٹرس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اوقافی جائیدادوں کا نہ صرف تحفظ کریں بلکہ ناجائز قابضین کے خلاف کارروائی کیلئے اعلیٰ عہدیداروں کو رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ اور اقلیتی بہبود کے اسٹاف کی تعداد میں اضافہ کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اضلاع میں کارکردگی بہتر ہو۔

TOPPOPULARRECENT